کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جمعہ کے دن غسل، بال اور ناخن تراشنے، بو دور کرنے والی چیزوں کے استعمال، مسواک اور خوشبو لگانے کے ذریعے صفائی حاصل کرنے کے سنت ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: قَالَ طَاوُسٌ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ: ذَكَرُوا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَاغْسِلُوا رُءُوسَكُمْ وَإِنْ لَمْ تَكُونُوا جُنُبًا، وَأَصِيبُوا مِنَ الطِّيبِ "، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَمَّا الْغُسْلُ فَنَعَمْ، وَأَمَّا الطِّيبُ فَلَا أَدْرِي ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ. وَهَذَا يَدُلُّ مَعَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِقَوْلِهِ " مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ " مَنْ غَسَّلَ رَأْسَهُ وَغَسَلَ جَسَدَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا، انہوں نے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم جمعہ کے دن غسل کرو اور اپنے سروں کو دھویا کرو، اگر تم جنبی نہ ہو اور خوشبو لگایا کرو۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غسل تو اچھا ہے اور خوشبو کے بارے میں میں نہیں جانتا۔
(ب) یہ روایت، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ساتھ مل کر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ «مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ» کا معنی ہے: ”جس نے اپنے سر کو دھویا اور غسل کیا۔“
(ب) یہ روایت، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ساتھ مل کر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ «مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ» کا معنی ہے: ”جس نے اپنے سر کو دھویا اور غسل کیا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيُّ، ثنا حِرْمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ، وَأَنْ يَسْتَنَّ، وَأَنْ يَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ وُجِدَ ". قَالَ عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ: " وَأَشْهَدُ أَنَّ الْغُسْلَ وَاجِبٌ، فَأَمَّا الِاسْتِنَانُ وَالطِّيبُ فَاللهُ أَعْلَمُ، وَلَكِنْ هَكَذَا سَمِعْتُ ". ⦗٣٤٤⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) عمرو بن سلیم فرماتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے بارے میں گواہی دی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جمعہ کے دن غسل واجب ہے اور یہ کہ مسواک کی جائے۔ اگر خوشبو پاس ہو تو لگائے۔“
(ب) عمرو بن سلیم کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ غسل واجب ہے، لیکن مسواک اور خوشبو، واللہ اعلم، البتہ میں نے اسی طرح سنا ہے۔
(ب) عمرو بن سلیم کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ غسل واجب ہے، لیکن مسواک اور خوشبو، واللہ اعلم، البتہ میں نے اسی طرح سنا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنِ بْنِ مُهَاجِرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ السَّرْحِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ، وَبُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ، وَيَسْتَاكُ، وَيَمَسُّ مِنَ الطِّيبِ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ ". إِلَّا أَنَّ بُكَيْرًا لَمْ يَذْكُرْ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَقَالَ: " مِنَ الطِّيبِ، وَلَوْ مِنْ طِيبِ الْمَرْأَةِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَوَّادٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمٰن بن ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جمعہ کے دن غسل ہر بالغ پر فرض ہے، لیکن مسواک اور خوشبو اس پر جو اس کی طاقت رکھے۔“ لیکن بکیر نے عبدالرحمٰن کا ذکر نہیں کیا اور فرمایا: ”خوشبو بھی اگرچہ عورت کی ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنِ عُمَرَ، وَأَبُو النَّضْرِ قَالُوا: ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ وَدِيعَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَتَطَهَّرَ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرِهِ، وَمَسَّ مِنْ دُهْنِ بَيْتِهِ أَوْ طِيبِهِ، ثُمَّ رَاحَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَصَلَّى مَا بَدَا لَهُ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ اسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور اپنی طاقت کے مطابق طہارت حاصل کی اور اپنے گھر کا تیل یا خوشبو لگائی، پھر وہ جمعہ کی طرف چلا اور جو اس کے مقدر میں تھی نماز پڑھی، جب امام آ گیا تو غور سے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو دوسرے جمعہ تک اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“
(ب) سلمان رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو بندہ جمعہ کے دن غسل کرتا ہے، پھر وہ تیل یا خوشبو لگاتا ہے، پھر مسجد میں آ کر دو کے درمیان تفریق نہیں ڈالتا اور دورانِ خطبہ خاموش رہتا ہے تو دوسرے جمعہ تک اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“
(ج) شبابہ رحمہ اللہ کی حدیث کے الفاظ ہیں کہ: ”وہ اپنی طاقت کے مطابق طہارت حاصل کرے۔“
(ب) سلمان رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو بندہ جمعہ کے دن غسل کرتا ہے، پھر وہ تیل یا خوشبو لگاتا ہے، پھر مسجد میں آ کر دو کے درمیان تفریق نہیں ڈالتا اور دورانِ خطبہ خاموش رہتا ہے تو دوسرے جمعہ تک اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“
(ج) شبابہ رحمہ اللہ کی حدیث کے الفاظ ہیں کہ: ”وہ اپنی طاقت کے مطابق طہارت حاصل کرے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْأُوَيْسِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ صَالِحٍ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا ⦗٣٤٥⦘ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ اغْتَسَلَ الرَّجُلُ، وَغَسَّلَ رَأْسَهُ، ثُمَّ تَطَيَّبَ مِنْ أَطْيَبِ طِيبِهِ، وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ، ثُمَّ اسْتَمَعَ إِلَى الْإِمَامِ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ". وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی جب جمعہ کے دن غسل کرے اور اپنا سر دھوئے، پھر عمدہ قسم کی خوشبو لگائے اور اچھے کپڑے پہنے، پھر نماز کے لیے جائے اور دو کے درمیان تفریق نہ ڈالے، پھر خطبہ غور سے سنے تو دوسرے جمعہ تک بلکہ تین دن مزید بھی اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَاسْتَنَّ، وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ، وَلَبِسَ أَحْسَنَ ثِيَابِهِ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَلَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ، ثُمَّ رَكَعَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَرْكَعَ، ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُهُ حَتَّى يُصَلِّيَ، كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا ". يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: " ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ زِيَادَةٌ، إِنَّ اللهَ قَدْ جَعَلَ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن غسل کیا، مسواک کی اور خوشبو لگائی اگر پاس ہوئی، پھر عمدہ قسم کے کپڑے پہنے اور مسجد میں آیا، پھر لوگوں کی گردنیں نہیں پھلانگیں اور جتنی اللہ نے چاہی نماز پڑھی اور پھر جب امام (خطبہ کے لیے) نکلا تو نماز کے اختتام تک خاموش رہا تو پچھلے جمعہ سے لے کر اس جمعہ تک کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تین دن مزید بھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا عطا فرماتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي جُمُعَةٍ مِنَ الْجُمَعِ: " يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ جَعَلَهُ اللهُ عِيدًا لِلْمُسْلِمِينَ، فَاغْتَسِلُوا، وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ طِيبٌ فَلَا يَضُرُّهُ أَنْ يَمَسَّ مِنْهُ، وَعَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ ". هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مُرْسَلٌ وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا وَلَا يَصِحُّ وَصْلُهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن سباق فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے مسلمانو کا گروہ! اللہ نے اس دن (جمعہ) کو مسلمانوں کی عید بنایا ہے، لہٰذا تم غسل کرو اور جس کے پاس خوشبو ہو وہ لگا لے اور مسواک کو لازم پکڑو۔“
صحیح یہی ہے کہ یہ روایت مرسل ہے، یہ موصولاً بھی مروی ہے لیکن اس کا موصول ہونا صحیح نہیں۔
صحیح یہی ہے کہ یہ روایت مرسل ہے، یہ موصولاً بھی مروی ہے لیکن اس کا موصول ہونا صحیح نہیں۔
أَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَسَّانَ الْفَرَائِضِيُّ ثنا يَزِيدُ بْنُ سَعِيدٍ الصُّبَاحِيُّ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي جُمُعَةٍ مِنَ الْجُمَعِ: " مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ هَذَا يَوْمٌ جَعَلَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكُمْ عِيدًا، فَاغْتَسِلُوا، وَعَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی جمعہ فرمایا: ”مسلمانو! اللہ نے تمہارے لیے یہ دن عید مقرر کیا ہے، اس دن غسل کیا کرو اور مسواک کو اپنے اوپر لازم کرلو۔“
وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي عَقِيلٌ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ جُمُعَةٍ مِنَ الْجُمَعِ، فَذَكَرَهُ عَلَى لَفْظِ حَدِيثِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ السَّبَّاقِ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، فَذَكَرَهُ. وَالصَّحِيحُ مَا رَوَاهُ مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ حدیث اس سند سے بھی مذکور ہے۔
صحیح وہی ہے جو امام مالک نے ابن شہاب سے مرسلاً روایت کی ہے۔
صحیح وہی ہے جو امام مالک نے ابن شہاب سے مرسلاً روایت کی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ مِنَ الْفِطْرَةِ قَصَّ الشَّارِبِ وَالظُّفُرِ وَحَلْقَ الْعَانَةِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَكِّيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَزَادَ بَعْضُهُمْ عَنْ حَنْظَلَةَ فِي هَذِهِ الْحَدِيثِ: " نَتْفَ الْإِبِطِ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اعمال فطرت میں سے ہیں: مونچھیں کاٹنا، ناخن تراشنا اور زیر ناف بال مونڈنا۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَيَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قَرَأَ عَلَيَّ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْفِطْرَةُ خَمْسٌ؛ الِاخْتِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرنا، زیرِ ناف بال مونڈنا، مونچھیں کاٹنا، ناخن تراشنا اور بغلوں کے بال اکھاڑنا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، " كَانَ يُقَلِّمُ أَظْفَارَهُ وَيَقُصُّ شَارِبَهُ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) نافع فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہر جمعہ ناخن تراشتے اور مونچھیں کاٹتے تھے۔
(ب) ابو جعفر سے مرسل روایت منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ ”پسند فرماتے تھے کہ ہر جمعہ مونچھیں اور ناخن کاٹے جائیں۔“
(ب) ابو جعفر سے مرسل روایت منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ ”پسند فرماتے تھے کہ ہر جمعہ مونچھیں اور ناخن کاٹے جائیں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ قَالَ: " كَانَ لِي عَمَّانِ قَدْ شَهِدَا الشَّجَرَةَ يَأْخُذَانِ مِنْ شَوَارِبِهِمَا وَأَظْفَارِهِمَا كُلَّ جُمُعَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے دو چچا تھے، دونوں درخت کے پاس حاضر ہوئے (اصحاب الشجرہ رضی اللہ عنہم) اور دونوں اپنی مونچھیں اور ناخن ہر جمعہ کاٹتے تھے۔ (ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً منقول ہے کہ ”مومن ہر جمعہ محرم کی حالت میں ہوتا ہے، وہ نماز کی تکمیل تک نہ تو اپنے بال تراشتا ہے اور نہ ناخن کاٹتا ہے۔“ (ج) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً منقول ہے کہ ”مسلمان جمعہ کے دن محرم ہوتا ہے، جب وہ نماز پڑھ لیتا ہے تو حلال ہو جاتا ہے۔“