السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: السنة في التنظيف يوم الجمعة بغسل، وأخذ شعر وظفر، وعلاج لما يقطع تغير الريح، وسواك، ومس طيب باب: جمعہ کے دن غسل، بال اور ناخن تراشنے، بو دور کرنے والی چیزوں کے استعمال، مسواک اور خوشبو لگانے کے ذریعے صفائی حاصل کرنے کے سنت ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنِ عُمَرَ، وَأَبُو النَّضْرِ قَالُوا: ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ وَدِيعَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَتَطَهَّرَ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرِهِ، وَمَسَّ مِنْ دُهْنِ بَيْتِهِ أَوْ طِيبِهِ، ثُمَّ رَاحَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَصَلَّى مَا بَدَا لَهُ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ اسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ.(الف) سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور اپنی طاقت کے مطابق طہارت حاصل کی اور اپنے گھر کا تیل یا خوشبو لگائی، پھر وہ جمعہ کی طرف چلا اور جو اس کے مقدر میں تھی نماز پڑھی، جب امام آ گیا تو غور سے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو دوسرے جمعہ تک اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“
(ب) سلمان رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو بندہ جمعہ کے دن غسل کرتا ہے، پھر وہ تیل یا خوشبو لگاتا ہے، پھر مسجد میں آ کر دو کے درمیان تفریق نہیں ڈالتا اور دورانِ خطبہ خاموش رہتا ہے تو دوسرے جمعہ تک اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“
(ج) شبابہ رحمہ اللہ کی حدیث کے الفاظ ہیں کہ: ”وہ اپنی طاقت کے مطابق طہارت حاصل کرے۔“