کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: دھوپ اور سائے کے درمیان بیٹھنے کے متعلق جو مروی ہے
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ السَّرْحِ، وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ. سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الشَّمْسِ "، وَقَالَ مَخْلَدٌ " فِي الْفَيْءِ فَقَلَصَ عَنْهُ الظِّلُّ فَصَارَ بَعْضُهُ فِي الشَّمْسِ وَبَعْضُهُ فِي الظِّلِّ فَلْيَقُمْ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْمُنِيبِ الْعَتَكِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ مَرْفُوعًا فِي النَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ وَهَذَا يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ كَيْلَا يَتَأَذَّى بِحَرَارَةِ الشَّمْسِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی دھوپ میں ہو — اور مخلد فرماتے ہیں: سائے میں — اور سایہ ختم ہو جائے اور انسان کا بعض حصہ دھوپ اور بعض سائے میں ہو تو وہ کھڑا ہو جائے۔“
(ب) ابو المنیب عتکی کی روایت میں عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے مرفوعاً اس سے ممانعت نقل کرتے ہیں۔ اس میں احتمال ہے کہ آپ ﷺ کا مقصد یہ ہو کہ دھوپ کی تپش سے تکلیف نہ پہنچے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5921
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد 4821»
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا فِي فِنَاءِ الْكَعْبَةِ، بَعْضُهُ فِي الظِّلِّ وَبَعْضُهُ فِي الشَّمْسِ، وَاضِعًا إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو کعبہ کے صحن میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ کا بعض حصہ دھوپ میں اور بعض حصہ سائے میں تھا اور آپ ایک ہاتھ کو دوسرے پر رکھے ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5922
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّغَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْفَيْءِ فَقَلَصَ عَنْهُ، فَلْيَقُمْ؛ فَإِنَّهُ مَجْلِسُ الشَّيْطَانِ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب تم میں سے کوئی ایک سائے میں ہو اور سایہ اس سے سکڑ جائے تو وہ کھڑا ہو جائے کیونکہ یہ شیطان کا بیٹھنا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5923
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ عبد الرزاق 19799»
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبَانَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ: " وَكُنْتُ جَالِسًا فِي الظِّلِّ، وَبَعْضِي فِي الشَّمْسِ، قَالَ: فَقُمْتُ حِينَ سَمِعْتُهُ، فَقَالَ لِيَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ: " اجْلِسْ لَا بَأْسَ عَلَيْكَ، إِنَّكَ هَكَذَا جَلَسْتَ " رَاوِي هَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، وَقَدْ حَمَلَ الْحَدِيثَ عَلَى مَا رُوِّينَا عَنْهُ، وَفِي ذَلِكَ جَمْعٌ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ وَتَأْكِيدُ مَا أَشَرْنَا إِلَيْهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
اسماعیل بن ابراہیم بن ابان کہتے ہیں کہ میں نے ابن منکدر کو یہ حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہوئے سنا۔ وہ کہتے ہیں: میں سائے میں بیٹھا ہوا تھا اور میرا بعض حصہ دھوپ میں تھا، جب میں نے یہ حدیث سنی تو میں کھڑا ہو گیا۔ ابن منکدر نے مجھ سے کہا: ”بیٹھ جاؤ، تم پر کوئی حرج نہیں، تم تو بس اسی طرح بیٹھ گئے تھے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5924
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»