السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: ما جاء في الجلوس بين الشمس والظل باب: دھوپ اور سائے کے درمیان بیٹھنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 5921
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ السَّرْحِ، وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ. سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الشَّمْسِ "، وَقَالَ مَخْلَدٌ " فِي الْفَيْءِ فَقَلَصَ عَنْهُ الظِّلُّ فَصَارَ بَعْضُهُ فِي الشَّمْسِ وَبَعْضُهُ فِي الظِّلِّ فَلْيَقُمْ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْمُنِيبِ الْعَتَكِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ مَرْفُوعًا فِي النَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ وَهَذَا يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ كَيْلَا يَتَأَذَّى بِحَرَارَةِ الشَّمْسِ.حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی دھوپ میں ہو — اور مخلد فرماتے ہیں: سائے میں — اور سایہ ختم ہو جائے اور انسان کا بعض حصہ دھوپ اور بعض سائے میں ہو تو وہ کھڑا ہو جائے۔“
(ب) ابو المنیب عتکی کی روایت میں عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے مرفوعاً اس سے ممانعت نقل کرتے ہیں۔ اس میں احتمال ہے کہ آپ ﷺ کا مقصد یہ ہو کہ دھوپ کی تپش سے تکلیف نہ پہنچے۔