السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: ما جاء في الجلوس بين الشمس والظل باب: دھوپ اور سائے کے درمیان بیٹھنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 5924
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبَانَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ: " وَكُنْتُ جَالِسًا فِي الظِّلِّ، وَبَعْضِي فِي الشَّمْسِ، قَالَ: فَقُمْتُ حِينَ سَمِعْتُهُ، فَقَالَ لِيَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ: " اجْلِسْ لَا بَأْسَ عَلَيْكَ، إِنَّكَ هَكَذَا جَلَسْتَ " رَاوِي هَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، وَقَدْ حَمَلَ الْحَدِيثَ عَلَى مَا رُوِّينَا عَنْهُ، وَفِي ذَلِكَ جَمْعٌ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ وَتَأْكِيدُ مَا أَشَرْنَا إِلَيْهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
اسماعیل بن ابراہیم بن ابان کہتے ہیں کہ میں نے ابن منکدر کو یہ حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہوئے سنا۔ وہ کہتے ہیں: میں سائے میں بیٹھا ہوا تھا اور میرا بعض حصہ دھوپ میں تھا، جب میں نے یہ حدیث سنی تو میں کھڑا ہو گیا۔ ابن منکدر نے مجھ سے کہا: ”بیٹھ جاؤ، تم پر کوئی حرج نہیں، تم تو بس اسی طرح بیٹھ گئے تھے۔“