السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: : لا يتخطى رقاب الناس باب: لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے
حدیث نمبر: 5886
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ ⦗٣٢٧⦘ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَانِبِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْلِسْ؛ فَقَدْ آذَيْتَ وَآنَيْتَ ". قَالَ أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ: " وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ مَعَهُ حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن ایک جانب بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا تو وہ لوگوں کی گردنوں کو پھلانگ رہا تھا، اس سے نبی ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جا، تو نے اذیت دی اور تو دور ہوا“۔ ابو زاہریہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم امام کے نکلنے تک آپس میں بات چیت کرتے تھے۔