حدیث نمبر: 5798
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَالْفَرْوِيُّ قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرٍ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: خُطْبَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: يَحْمَدُ اللهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ، ثُمَّ يَقُولُ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ وَقَدْ عَلَا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُولُ: صَبَّحَكُمْ أَوْ مَسَّاكُمْ، ثُمَّ يَقُولُ: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ ⦗٣٠٣⦘ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ، ثُمَّ يَقُولُ: " إِنَّ أَفْضَلَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ، وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ " لَفْظُ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے سنا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ جمعہ کے دن آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر اس کے بعد بلند آواز سے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ ﷺ کا غصہ سخت اور رخسار سرخ ہو چکے تھے، گویا آپ ﷺ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں جو صبح یا شام تم پر حملہ کرنے والا ہے۔ پھر فرماتے: ”میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں“ اور آپ ﷺ نے اپنی درمیانی انگلی اور اس انگلی سے اشارہ کیا جو انگوٹھے کے ساتھ ملنے والی ہے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”افضل بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین سیرت محمد ﷺ کی سیرت ہے اور بد ترین کام نئے ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ جس نے مال چھوڑا وہ اس کے گھر والوں کے لیے ہے اور جس نے قرض یا نقصان چھوڑا وہ میرے ذمے ہے۔“
حدیث نمبر: 5799
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: " كَانَ خُطْبَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ سَوَاءً. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَخْلَدٍ.
حافظ ثناء اللہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا خطبہ جمعہ کے دن اس طرح ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 5800
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ فَيَحْمَدُ اللهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ يَقُولُ: " مَنْ يَهْدِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَخَيْرُ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ، وَخَيْرُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ". وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ عَلَا صَوْتُهُ، وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُولُ: " صَبَّحَكُمْ مَسَّاكُمْ، مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ، أَنَا وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو خطبہ ارشاد فرماتے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے جس کا وہ اہل ہے، پھر فرماتے: ”جس کو اللہ ہدایت دے اس کو گمراہ کرنے والا کوئی نہیں اور جس کو وہ گمراہ کر دے اس کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں، بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین سیرت محمد ﷺ کی سیرت ہے اور بدترین کام نئے کام ہیں اور ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے“ اور جب آپ ﷺ قیامت کا تذکرہ فرماتے تو آپ ﷺ کی آواز بلند ہو جاتی اور رخسار سرخ ہو جاتے، غصہ زیادہ ہو جاتا، گویا آپ ﷺ کسی لشکر سے ڈرانے والے ہیں جو صبح یا شام تم پر حملہ کرنے والا ہے، (اور آپ ﷺ فرماتے تھے:) ”جس نے مال چھوڑا وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے اور جس نے قرض چھوڑا وہ میرے ذمہ ہے اور میں مومنوں کا ولی ہوں۔“
حدیث نمبر: 5801
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَبِي وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ أَبِي: أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضِمَادًا، قَدِمَ مَكَّةَ، وَكَانَ مِنْ أَزِدْ شَنُوءَةَ وَكَانَ يَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ فَسَمِعَ سُفَهَاءَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يَقُولُونَ: إِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ فَقَالَ: لَوْ أَنِّي رَأَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ لَعَلَّ اللهَ يَشْفِيهِ عَلَى يَدِيَّ قَالَ: فَلَقِيَهُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ وَإِنَّ اللهَ يَشْفِي عَلَى يَدِيَّ مَنْ يَشَاءُ فَهَلْ لَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ " فَقَالَ: أَعِدْ عَلَيَّ كَلِمَاتِكَ هَؤُلَاءِ، فَأَعَادَهُنَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ، وَقَوْلَ السَّحَرَةِ، وَقَوْلَ ⦗٣٠٤⦘ الشُّعَرَاءِ فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ كَلِمَاتِكَ هَؤُلَاءِ، وَلَقَدْ بَلَغْنَ نَاعُوسَ الْبَحْرِ فَقَالَ: هَاتِ يَدَكَ أُبَايِعُكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَبَايَعَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَعَلَى قَوْمِكَ؟ " فَقَالَ: وَعَلَى قَوْمِي. قَالَ: فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَمَرُّوا بِقَوْمِهِ فَقَالَ صَاحِبُ السَّرِيَّةِ لِلْجَيْشِ: هَلْ أَصَبْتُمْ مِنْ هَؤُلَاءِ شَيْئًا؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَصَبْتُ مِنْهُمْ مِطْهَرَةً فَقَالَ: رُدُّوهَا، فَإِنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمُ ضِمَادٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ضماد مکہ آئے، وہ ازد شنوءہ سے تعلق رکھتے تھے اور جادو سے دم کیا کرتے تھے۔ انہوں نے مکہ کے بیوقوف لوگوں سے سنا کہ محمد ﷺ مجنون ہیں۔ انہوں نے سوچا: اگر میں اس آدمی کو دیکھوں تو ممکن ہے میرے ہاتھ سے اللہ ان کو شفا دے دے۔ ضماد آپ ﷺ سے ملے اور کہنے لگے: اے محمد! میں اس بیماری کا دم کرتا ہوں اور میرے ہاتھ سے اللہ جس کو چاہتا ہے شفا دے دیتا ہے، کیا آپ کو بھی یہ بیماری ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے خطبہ پڑھا: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اور اسی سے مدد طلب کرتے ہیں۔ جسے وہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جس کو وہ گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ ضماد کہنے لگے: اپنے کلمات دوبارہ پڑھیں، تو نبی ﷺ نے یہ کلمات تین مرتبہ پڑھے۔ ضماد کہنے لگے: میں نے کاہنوں کا کلام سن رکھا ہے اور جادوگروں اور شعرا کے کلام بھی سن رکھے ہیں، لیکن میں نے اس جیسے کلمات نہیں سنے کیونکہ یہ انتہائی بلیغ ہیں۔ ضماد نے عرض کیا: اپنا ہاتھ بڑھائیے میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں، پھر اس نے بیعت کر لی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی قوم پر بھی؟“ ضماد نے عرض کیا: ہاں میری قوم پر بھی۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ روانہ کیا تو وہ ضماد کی قوم کے پاس سے گزرے، امیرِ لشکر نے کہا: کیا تم نے اس قوم سے کچھ لیا؟ ایک آدمی کہنے لگا: میں نے ایک لوٹا لیا تھا، فرمایا: واپس کر دو یہ ضماد کی قوم ہے۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ ضماد کہنے لگے: اپنے کلمات دوبارہ پڑھیں، تو نبی ﷺ نے یہ کلمات تین مرتبہ پڑھے۔ ضماد کہنے لگے: میں نے کاہنوں کا کلام سن رکھا ہے اور جادوگروں اور شعرا کے کلام بھی سن رکھے ہیں، لیکن میں نے اس جیسے کلمات نہیں سنے کیونکہ یہ انتہائی بلیغ ہیں۔ ضماد نے عرض کیا: اپنا ہاتھ بڑھائیے میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں، پھر اس نے بیعت کر لی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی قوم پر بھی؟“ ضماد نے عرض کیا: ہاں میری قوم پر بھی۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ روانہ کیا تو وہ ضماد کی قوم کے پاس سے گزرے، امیرِ لشکر نے کہا: کیا تم نے اس قوم سے کچھ لیا؟ ایک آدمی کہنے لگا: میں نے ایک لوٹا لیا تھا، فرمایا: واپس کر دو یہ ضماد کی قوم ہے۔
حدیث نمبر: 5802
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الظَّفْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ الْخُزَاعِيُّ، أنبأ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةَ الْحَاجَةِ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، {اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: ١٠٢]، {اتَّقُوا اللهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا} [النساء: ١]، {اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} [الأحزاب: ٧١] ".
حافظ ثناء اللہ
ابو احوص، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ہمیں خطبہ حاجت سکھایا:
”«الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ﴿اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 102] ”اللہ سے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت مسلمان ہونے کی صورت میں آئے“ ﴿اتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ [سورة النساء: 1] ”اور تم اللہ سے ڈرو وہ ذات جس کے ذریعہ تم رشتہ داریوں کا سوال کرتے ہو۔ تحقیق اللہ تم پر نگہبان ہے“ ﴿اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فازَ فَوْزًا عَظِيمًا﴾ [سورة الأحزاب: 70-71] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو۔ وہ تمہارے اعمال کی اصلاح کر دے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی اس نے بہت بڑی کامیابی پالی“۔“
”«الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ﴿اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 102] ”اللہ سے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت مسلمان ہونے کی صورت میں آئے“ ﴿اتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ [سورة النساء: 1] ”اور تم اللہ سے ڈرو وہ ذات جس کے ذریعہ تم رشتہ داریوں کا سوال کرتے ہو۔ تحقیق اللہ تم پر نگہبان ہے“ ﴿اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فازَ فَوْزًا عَظِيمًا﴾ [سورة الأحزاب: 70-71] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو۔ وہ تمہارے اعمال کی اصلاح کر دے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی اس نے بہت بڑی کامیابی پالی“۔“
حدیث نمبر: 5803
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ، ثنا أَبُو الْعَوَّامِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَشَهَّدُ " الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، مَنْ يُطِعِ اللهَ ⦗٣٠٥⦘ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِ فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّ اللهَ شَيْئًا، وَلَا يَضُرُّ إِلَّا نَفْسَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس طرح خطبہ دیا کرتے تھے: «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہٗ، نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا، مَنْ یَّہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہٗ، وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَا ہَادِیَ لَہٗ، وَاَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ، اَرْسَلَہٗ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَنَذِیْرًا بَیْنَ یَدَیِ السَّاعَةِ، مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ یَّعْصِہِ فَاِنَّہٗ لَا یَضُرُّ اللّٰہَ شَیْئًا، وَلَا یَضُرُّ اِلَّا نَفْسَہٗ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں اور اسی سے مدد طلب کرتے ہیں۔ ہم اللہ کی پناہ لیتے ہیں اپنے نفس کی شرارتوں سے۔ جس کو اللہ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جس کو اللہ گمراہ کر دے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اس نے انہیں حق کے ساتھ مبعوث کیا، وہ خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے ہیں قیامت سے پہلے۔ جس نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی اس نے ہدایت پائی اور جس نے نافرمانی کی وہ اللہ کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا، اپنا ہی نقصان کرے گا۔“
حدیث نمبر: 5804
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ تَشَهُّدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ: " إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، مَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى، نَسْأَلُ اللهَ رَبَّنَا أَنْ يَجْعَلَنَا مِمَّنْ يُطِيعُهُ وَيُطِيعُ رَسُولَهُ، وَيَتَّبِعُ رِضْوَانَهُ، وَيَجْتَنِبُ سَخَطَهُ، فَإِنَّمَا نَحْنُ بِهِ وَلَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
یونس نے ابن شہاب سے رسول اللہ ﷺ کے جمعہ کے خطبہ کے بارے میں سوال کیا تو ابن شہاب نے فرمایا: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی سے استغفار کرتے ہیں۔ ہم اللہ کی پناہ میں آتے ہیں اپنے نفس کی شرارتوں سے۔ جس کو اللہ ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جس کو وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ قیامت سے پہلے ان کو ڈرانے والا اور خوشخبری سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، اس نے ہدایت پائی اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہوا۔ ہم اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ ہمیں ان میں سے بنا جو تیری فرمانبرداری کرنے والے ہوں اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں، ان کی رضا کو تلاش کریں اور ناراضی سے بچیں۔ ہم تیری اور تیرے رسول کی تابعداری کرتے ہیں۔“
ابن شہاب فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ خطبہ ارشاد فرماتے: ”جو چیز قریب آنے والی ہے وہ دور نہیں ہے۔ کسی کی جلدی کی وجہ سے اللہ اس کو جلدی نہیں کرتا اور وہ لوگوں کے کاموں کو بھی اتنا گھیرتا ہے جتنا چاہتا ہے، لوگوں کی چاہت کے موافق نہیں۔ اللہ کچھ چاہتا ہے اور لوگ کچھ، ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے، اگرچہ لوگ ناپسند ہی کیوں نہ کریں۔ جس کو اللہ قریب کر دے اسے دور کرنے والا کوئی نہیں اور جس کو اللہ دور کر دے اس کو قریب کرنے والا کوئی نہیں۔ کوئی کام اللہ کی اجازت کے بغیر نہیں ہوتا۔“
ابن شہاب فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے خطبہ میں فرماتے تھے: کامیاب وہ ہے جو خواہشات، لالچ اور غصہ سے محفوظ کیا گیا۔ سچی بات کے علاوہ کوئی بھلائی نہیں۔ جو جھوٹ بولتا ہے وہ گناہ کرتا ہے اور گناہ ہلاک کر دیتا ہے۔ گناہ سے بچو۔ فاجر آدمی مٹی سے پیدا ہوا اسی میں واپس چلا جائے گا۔ وہ آج زندہ ہے اور کل مردہ، لہٰذا روزانہ عمل کرو۔ مظلوم کی بد دعا سے بچو اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو۔
ابن شہاب فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ خطبہ ارشاد فرماتے: ”جو چیز قریب آنے والی ہے وہ دور نہیں ہے۔ کسی کی جلدی کی وجہ سے اللہ اس کو جلدی نہیں کرتا اور وہ لوگوں کے کاموں کو بھی اتنا گھیرتا ہے جتنا چاہتا ہے، لوگوں کی چاہت کے موافق نہیں۔ اللہ کچھ چاہتا ہے اور لوگ کچھ، ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے، اگرچہ لوگ ناپسند ہی کیوں نہ کریں۔ جس کو اللہ قریب کر دے اسے دور کرنے والا کوئی نہیں اور جس کو اللہ دور کر دے اس کو قریب کرنے والا کوئی نہیں۔ کوئی کام اللہ کی اجازت کے بغیر نہیں ہوتا۔“
ابن شہاب فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے خطبہ میں فرماتے تھے: کامیاب وہ ہے جو خواہشات، لالچ اور غصہ سے محفوظ کیا گیا۔ سچی بات کے علاوہ کوئی بھلائی نہیں۔ جو جھوٹ بولتا ہے وہ گناہ کرتا ہے اور گناہ ہلاک کر دیتا ہے۔ گناہ سے بچو۔ فاجر آدمی مٹی سے پیدا ہوا اسی میں واپس چلا جائے گا۔ وہ آج زندہ ہے اور کل مردہ، لہٰذا روزانہ عمل کرو۔ مظلوم کی بد دعا سے بچو اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو۔
حدیث نمبر: 5805
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْحَنْظَلِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأُوَيْسِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: " أَفْلَحَ مِنْكُمْ مَنْ حُفِظَ مِنَ الْهَوَى وَالْغَضَبِ وَالطَّمِعِ وَوُفِّقَ إِلَى الصِّدْقِ فِي الْحَدِيثِ، فَإِنَّهُ يَجُرُّهُ إِلَى الْخَيْرِ، مَنْ يَكْذِبْ يَفْجُرْ ". ثُمَّ ذَكَرَ مَا بَعْدَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے خطبے میں فرماتے تھے: کامیاب وہ ہے جو خواہشات، لالچ اور غصے سے محفوظ کیا گیا اور اسے بات میں سچائی کی توفیق دی گئی، یہ اسے بھلائی کی طرف لے جائے گا۔ جو جھوٹ بولتا ہے گناہ گار ہوتا ہے، پھر اس کا مابعد ذکر کیا۔۔۔
حدیث نمبر: 5806
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ قَالَ: " كُنْتُ رِدْفَ أَبِي عَلَى عَجُزِ الرَّاحِلَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ فَقَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللهِ، أِيُّ يَوْمٍ أُحَرِّمُ هَذَا؟ " قَالُوا: هَذَا قَالَ: " فَأِيُّ شَهْرٍ أُحَرِّمُ؟ " قَالُوا: هَذَا قَالَ: " فَأِيُّ بَلَدٍ أُحَرِّمُ؟ " قَالُوا: هَذَا الْبَلَدُ قَالَ: " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ".
حافظ ثناء اللہ
نبیط بن شریط رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں سواری کی پشت پر اپنے والد کے پیچھے تھا۔ نبی ﷺ جمرہ کے پاس خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِيْنُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اور ہم اسی سے مدد طلب کرتے ہیں اور بخشش طلب کرتے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔“
”میں تمہیں اللہ کے خوف کی وصیت کرتا ہوں۔ کون سا دن سب سے زیادہ حرمت والا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: یہی دن۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کون سا مہینہ زیادہ حرمت والا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: یہی مہینہ زیادہ حرمت والا ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کون سا شہر زیادہ حرمت والا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: یہی شہر۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے خون اور مال تمہارے آپس میں ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن، مہینے اور شہر کی حرمت ہے۔“
”میں تمہیں اللہ کے خوف کی وصیت کرتا ہوں۔ کون سا دن سب سے زیادہ حرمت والا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: یہی دن۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کون سا مہینہ زیادہ حرمت والا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: یہی مہینہ زیادہ حرمت والا ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کون سا شہر زیادہ حرمت والا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: یہی شہر۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے خون اور مال تمہارے آپس میں ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن، مہینے اور شہر کی حرمت ہے۔“
حدیث نمبر: 5807
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْحَمَامِيِّ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ قَالَ: قُرِئَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْهَيْثَمِ وَأَنَا أَسْمَعُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: ⦗٣٠٦⦘ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الدُّنْيَا عَرَضٌ حَاضِرٌ يَأْكُلُ مِنْهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، وَالْآخِرَةُ وَعْدٌ صَادِقٌ يَحْكُمُ فِيهَا مَلِكٌ عَادِلٌ يُحِقُّ فِيهَا الْحَقَّ وَيُبْطِلُ الْبَاطِلَ ".
حافظ ثناء اللہ
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”اے لوگو! دنیا حاضر سامان ہے۔ اس سے نیک و بد کھاتے ہیں اور آخرت سچا وعدہ ہے۔ اس میں عادل بادشاہ سچ کو سچ ثابت کرے گا اور باطل کو باطل کر دے گا۔“
حدیث نمبر: 5808
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْبَجَلِيُّ الْمُقْرِئُ، بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْأَحْمَسِيُّ ثنا عُبَيْدُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو سَعِيدٍ الْعَامِرِيُّ التَّمَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا عِيَاضُ بْنُ سَعِيدٍ الثُّمَانِيُّ، عَنْ هُرَيْمِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ زُبَيْدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: كَانَتْ خُطْبَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الدُّنْيَا عَرَضٌ حَاضِرٌ يَأْكُلُ مِنْهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، وَإِنَّ الْآخِرَةَ وَعْدٌ صَادِقٌ يَقْضِي فِيهَا مَلِكٌ قَادِرٌ، أَلَا وَإِنَّ الْخَيْرَ كُلَّهُ بِحَذَافِيرِهِ فِي الْجَنَّةِ، أَلَا وَإِنَّ الشَّرَّ كُلَّهُ بِحَذَافِيرِهِ فِي النَّارِ، وَاعْمَلُوا وَأَنْتُمْ مِنَ اللهِ عَلَى حَذَرٍ، وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مَعْرُوضُونَ عَلَى أَعْمَالِكُمْ وَإِنَّكُمْ مُلَاقُوا اللهَ رَبَّكُمْ لَا بُدَّ، فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا خطبہ یہ تھا: ”دنیا حاضر مال ہے۔ اس سے نیک و بد کھاتے ہیں اور آخرت سچا وعدہ ہے جس میں قدرت رکھنے والا بادشاہ فیصلہ کرے گا۔ خبردار! بھلائی تمام کی تمام جنت میں ہے اور خبردار! برائی تمام کی تمام جہنم میں ہے اور تم عمل کرو اور اللہ سے ڈرو۔ جان لو تم پر تمہارے اعمال پیش کیے جائیں گے اور تم اپنے رب سے ضرور ملاقات کرنے والے ہو۔“ ﴿فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ﴿٧﴾ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ [سورة الزلزلة: 7-8]
”جس نے ذرہ برابر بھلائی کی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔“
”جس نے ذرہ برابر بھلائی کی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔“