کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس دلیل کا بیان جس سے خطبے میں نبی کریم ﷺ کا ذکر کرنے کا وجوب ثابت ہوتا ہے
قَالَ اللهُ جَلَّ ثنَاؤُهُ: {وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ} [الشرح: 4].
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾ ”اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر بلند کر دیا۔“ [سورة الشرح: 4]
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ {وَرَفَعْنَا ⦗٢٩٧⦘ لَكَ ذِكْرَكَ} [الشرح: ٤] قَالَ: " لَا أُذْكَرُ إِلَّا ذُكِرْتَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ". وَيُذْكَرُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ مِثْلُ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾ [سورة الشرح: 4] (ہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا ہے) کے بارے میں فرماتے ہیں: (اللہ فرماتا ہے:) جہاں میرا ذکر ہوگا وہاں میرے ساتھ آپ کا ذکر بھی ہوگا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ»۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ رَبَّهُمْ وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا كَانَ تِرَةً عَلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنْ شَاءَ أَخَذَهُمُ اللهُ، وَإِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کچھ لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اپنے رب کا ذکر نہ کریں اور اپنے نبی ﷺ پر درود بھی نہ پڑھیں تو یہ مجلس ان پر قیامت کے دن ندامت کا باعث ہوگی، اگر اللہ چاہے تو ان کا مؤاخذہ کر لے اور اگر چاہے تو معاف کر دے۔“