السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: ما يستدل به على وجوب ذكر النبي صلى الله عليه وسلم في الخطبة باب: اس دلیل کا بیان جس سے خطبے میں نبی کریم ﷺ کا ذکر کرنے کا وجوب ثابت ہوتا ہے
حدیث نمبر: 5772
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ رَبَّهُمْ وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا كَانَ تِرَةً عَلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنْ شَاءَ أَخَذَهُمُ اللهُ، وَإِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُمْ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کچھ لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اپنے رب کا ذکر نہ کریں اور اپنے نبی ﷺ پر درود بھی نہ پڑھیں تو یہ مجلس ان پر قیامت کے دن ندامت کا باعث ہوگی، اگر اللہ چاہے تو ان کا مؤاخذہ کر لے اور اگر چاہے تو معاف کر دے۔“