کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس دلیل کا بیان جس سے خطبہ جمعہ میں اللہ کی حمد بیان کرنے کا وجوب ثابت ہوتا ہے
فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " كَانَتْ خُطْبَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَحْمَدُ اللهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ ". وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ. أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَالْفَرَوِيُّ قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالِ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ ذَلِكَ ". وَقَدْ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ جمعہ میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ⦗٢٩٦⦘ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ أَمَرٍ ذِي بَالٍ لَا يُبْدَأُ فِيهِ بِالْحَمْدِ لِلَّهِ أَقْطَعُ ". أَسْنَدَهُ قُرَّةُ، وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَعُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، وَشُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر شان والا کام بھی اگر اس کی ابتدا اللہ کی حمد سے نہ ہو تو وہ بے برکت ہے۔“
اس کو قرہ نے مسند بیان کیا ہے، جبکہ یونس بن یزید، عقیل بن خالد، شعیب بن ابی حمزہ اور سعید بن عبد العزیز نے اسے زہری سے، انہوں نے نبی ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
اس کو قرہ نے مسند بیان کیا ہے، جبکہ یونس بن یزید، عقیل بن خالد، شعیب بن ابی حمزہ اور سعید بن عبد العزیز نے اسے زہری سے، انہوں نے نبی ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ خُطْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا شَهَادَةٌ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر وہ خطبہ جس میں شہادت نہ ہو وہ کوڑھی ہاتھ کے مانند ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ، أنبأ جَدِّي قَالَ: قَالَ أَبُو الْفَضْلِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ سَلَمَةَ: سَمِعْتُ مُسْلِمَ بْنَ الْحَجَّاجِ يَقُولُ: لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ كُلَيْبٍ إِلَّا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، فَقُلْتُ لَهُ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ خُطْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا شَهَادَةٌ فَهِيَ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ ". فَقَالَ مُسْلِمٌ: إِنَّمَا تَكَلَّمَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فِي أَبِي هِشَامٍ بِهَذَا الَّذِي رَوَاهُ عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ. قَالَ الشَّيْخُ: عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ مِنَ الثِّقَاتِ الَّذِينَ يُقْبَلُ مِنْهُمْ مَا تَفَرَّدُوا بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہر وہ خطبہ جس میں شہادت نہیں وہ کوڑھی ہاتھ کی مانند ہے۔“
امام مسلم بن حجاج فرماتے ہیں: اس حدیث کو عاصم سے، انہوں نے کلیب سے صرف عبد الواحد بن زیاد نے روایت کیا ہے۔ جب ان سے ابو ہشام رفاعی کی ابن فضیل عن عاصم بن کلیب والی روایت کا ذکر کیا گیا تو فرمایا: یحییٰ بن معین نے ابو ہشام پر اسی روایت کی وجہ سے کلام کیا ہے جو انہوں نے ابن فضیل سے نقل کی ہے۔
عبد الواحد بن زیاد ان ثقہ راویوں میں سے ہیں جن کی منفرد روایت قبول کی جاتی ہے۔
امام مسلم بن حجاج فرماتے ہیں: اس حدیث کو عاصم سے، انہوں نے کلیب سے صرف عبد الواحد بن زیاد نے روایت کیا ہے۔ جب ان سے ابو ہشام رفاعی کی ابن فضیل عن عاصم بن کلیب والی روایت کا ذکر کیا گیا تو فرمایا: یحییٰ بن معین نے ابو ہشام پر اسی روایت کی وجہ سے کلام کیا ہے جو انہوں نے ابن فضیل سے نقل کی ہے۔
عبد الواحد بن زیاد ان ثقہ راویوں میں سے ہیں جن کی منفرد روایت قبول کی جاتی ہے۔