السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: ما يستدل به على وجوب التحميد في خطبة الجمعة باب: اس دلیل کا بیان جس سے خطبہ جمعہ میں اللہ کی حمد بیان کرنے کا وجوب ثابت ہوتا ہے
حدیث نمبر: 5770
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ، أنبأ جَدِّي قَالَ: قَالَ أَبُو الْفَضْلِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ سَلَمَةَ: سَمِعْتُ مُسْلِمَ بْنَ الْحَجَّاجِ يَقُولُ: لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ كُلَيْبٍ إِلَّا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، فَقُلْتُ لَهُ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ خُطْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا شَهَادَةٌ فَهِيَ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ ". فَقَالَ مُسْلِمٌ: إِنَّمَا تَكَلَّمَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فِي أَبِي هِشَامٍ بِهَذَا الَّذِي رَوَاهُ عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ. قَالَ الشَّيْخُ: عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ مِنَ الثِّقَاتِ الَّذِينَ يُقْبَلُ مِنْهُمْ مَا تَفَرَّدُوا بِهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہر وہ خطبہ جس میں شہادت نہیں وہ کوڑھی ہاتھ کی مانند ہے۔“
امام مسلم بن حجاج فرماتے ہیں: اس حدیث کو عاصم سے، انہوں نے کلیب سے صرف عبد الواحد بن زیاد نے روایت کیا ہے۔ جب ان سے ابو ہشام رفاعی کی ابن فضیل عن عاصم بن کلیب والی روایت کا ذکر کیا گیا تو فرمایا: یحییٰ بن معین نے ابو ہشام پر اسی روایت کی وجہ سے کلام کیا ہے جو انہوں نے ابن فضیل سے نقل کی ہے۔
عبد الواحد بن زیاد ان ثقہ راویوں میں سے ہیں جن کی منفرد روایت قبول کی جاتی ہے۔