أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي الْعَنْبَسِ الْكُوفِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ ⦗٢٦١⦘ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْجُمُعَةُ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، إِلَّا عَلَى مَمْلُوكٍ، أَوِ امْرَأَةٍ، أَوْ صَبِيٍّ، أَوْ مَرِيضٍ ". هَذَا الْحَدِيثُ وَإِنْ كَانَ فِيهِ إِرْسَالٌ فَهُوَ مُرْسَلٌ جَيِّدٌ، فَطَارَقٌ مِنْ خِيَارِ التَّابِعِينَ وَمِمَّنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ، وَلِحَدِيثهِ هَذَا شَوَاهِدُ، مِنْهَا مَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”غلام، عورت، بچہ اور مریض کے علاوہ تمام مسلمانوں پر جمعہ فرض ہے۔“
یہ حدیث اگرچہ مرسل ہے لیکن عمدہ مرسل ہے، کیونکہ طارق بہترین تابعین میں سے ہیں اور ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا اگرچہ آپ ﷺ سے سنا نہیں، اور ان کی اس حدیث کے شواہد موجود ہیں۔
یہ حدیث اگرچہ مرسل ہے لیکن عمدہ مرسل ہے، کیونکہ طارق بہترین تابعین میں سے ہیں اور ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا اگرچہ آپ ﷺ سے سنا نہیں، اور ان کی اس حدیث کے شواہد موجود ہیں۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ بَيَانٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ يَعْنِي النَّيْسَابُورِيَّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ ضِرَارِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الشَّامِيِّ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْجُمُعَةُ وَاجِبَةٌ إِلَّا عَلَى صَبِيٍّ، أَوْ مَمْلُوكٍ، أَوْ مُسَافِرٍ " وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَانَ " إِنَّ الْجُمُعَةَ وَاجِبَةٌ إِلَّا عَلَى صَبِيٍّ، أَوْ مَمْلُوكٍ، أَوْ مُسَافِرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بچہ، غلام اور مسافر کے علاوہ تمام پر جمعہ واجب ہے۔“
ابن عبدان کی روایت میں ہے کہ ”بچہ، غلام اور مسافر کے علاوہ تمام پر جمعہ واجب ہے۔“
ابن عبدان کی روایت میں ہے کہ ”بچہ، غلام اور مسافر کے علاوہ تمام پر جمعہ واجب ہے۔“
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا الْبَغَوِيُّ، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَعَلَيْهِ الْجُمُعَةُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِلَّا عَلَى مَرِيضٍ، أَوْ مُسَافِرٍ، أَوْ صَبِيٍّ، أَوْ مَمْلُوكٍ، وَمَنِ اسْتَغْنَى عَنْهَا بِلَهْوٍ أَوْ تِجَارَةٍ اسْتَغْنَى الله عَنْهُ، وَاللهُ غَنِيٌّ حُمَيْدٌ ". وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ فَزَادَ فِيهِمْ " أَوِ امْرَأَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس پر جمعہ کے دن جمعہ ہے، لیکن بیمار، مسافر، بچہ اور غلام پر نہیں اور جو کوئی کھیل یا تجارت کی وجہ سے لاپرواہی کرتا ہے تو اللہ اس سے بے پروا ہوجاتا ہے اور اللہ غنی اور قابلِ تعریف ہے۔“
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا حَسَنٌ يَعْنِي ابْنَ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ مَوْلًى لِآلِ الزُّبَيْرِ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْجُمُعَةُ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ حَالِمٍ، إِلَّا عَلَى أَرْبَعَةٍ، عَلَى الصَّبِيِّ، وَالْمَمْلُوكِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالْمَرِيضِ ".
حافظ ثناء اللہ
آلِ زبیر رضی اللہ عنہ کا غلام مرفوع حدیث بیان کرتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بچہ، غلام، عورت اور بیمار کے علاوہ ہر بالغ پر جمعہ واجب ہے۔“
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَسِيدُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا خَلَفُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْبِلَادِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْجُمُعَةُ وَاجِبَةٌ إِلَّا عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ، أَوْ ذِي عِلَّةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوبلاد، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”غلام اور بیمار کے علاوہ ہر شخص پر جمعہ واجب ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَامَ عَلَى الْبَابِ، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ السَّلَامَ، فَقَالَ: " أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُنَّ " قَالَتْ: فَقُلْنَا: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِرَسُولِ رَسُولِ اللهِ، قَالَ: " تُبَايِعْنَ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقْنَ، وَلَا تَزْنِينَ؟ " قَالَتْ: فَقُلْنَا: نَعَمْ، فَمَدَّ يَدَهُ مِنْ خَارِجِ الْبَيْتِ، وَمَدَدْنَا أَيْدِينَا مِنْ دَاخِلِ الْبَيْتِ، ثُمَّ قَالَ: اللهُمَّ اشْهَدْ، وَأَمَرَنَا بِالْعِيدَيْنِ أَنْ تَخْرُجَ فِيهِمَا الْحُيَّضَ وَالْعُتَّقَ، وَلَا جُمُعَةَ عَلَيْنَا، وَنَهَانَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ ". قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَسَأَلْتُ جَدَّتِي عَنْ قَوْلِهِ: {وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ} [الممتحنة: ١٢] قَالَتْ: " نَهَانَا عَنِ النِّيَاحَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
اسماعیل بن عبدالرحمن بن عطیہ اپنی دادی سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مدینہ آئے تو انصار کی عورتوں کو ایک گھر میں جمع کیا اور ان کی طرف سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بھیجا تو وہ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور سلام کیا، ہم نے سلام کا جواب دیا۔ پھر فرمایا: میں تمہاری طرف رسول اللہ ﷺ کا قاصد ہوں۔ ہم نے کہا: خوش آمدید! رسول اللہ ﷺ اور ان کے قاصد کو۔ پھر فرمایا: تم بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ شرک نہ کرو گی، چوری اور زنا نہ کرو گی۔ ہم نے کہا: ہاں۔ انہوں نے اپنا ہاتھ پھیلایا گھر کے باہر سے اور ہم نے اپنے ہاتھ پھیلائے گھر کے اندر سے۔ پھر فرمایا: اے اللہ! تو گواہ ہوجا۔ اور ہمیں حکم دیا گیا کہ عیدین میں حائضہ اور جوان عورتیں (بھی) نکلیں، لیکن ہمارے اوپر جمعہ نہیں اور ہمیں جنازوں میں شمولیت سے منع کر دیا گیا۔ اسماعیل رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اپنی دادی سے پوچھا: ﴿وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ﴾ [سورة الممتحنة: 12] (بھلائی کے کاموں میں وہ نافرمانی نہ کریں) سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: آپ ﷺ نے ہمیں ”نوحہ کرنے“ سے منع کر دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَيْسٍ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا قَدْ عَقَلَ رَاحِلَتَهُ، قَالَ: " مَا يَحْبِسُكَ؟ قَالَ: الْجُمُعَةُ قَالَ: إِنَّ الْجُمُعَةَ لَا تَحْبِسُ مُسَافِرًا، فَاذْهَبْ ".
حافظ ثناء اللہ
اسود بن قیس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا، اس نے اپنی سواری کو باندھا ہوا تھا۔ فرمایا: کس چیز نے تجھے روکا؟ وہ کہنے لگا: جمعہ نے۔ فرمایا: جمعہ کسی مسافر کو نہیں روکتا، تم جاؤ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو يَعْقُوبَ إِسْحَاقُ بْنُ أَيُّوبَ الْفَقِيهُ بِوَاسِطَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " لَا جُمُعَةَ عَلَى مُسَافِرٍ ". هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ فَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ مسافر پر جمعہ نہیں ہے۔
یہی صحیح ہے کہ یہ موقوف ہے، اور عبداللہ بن نافع نے اسے اپنے والد سے روایت کر کے نبی ﷺ تک مرفوع بیان کیا ہے۔
یہی صحیح ہے کہ یہ موقوف ہے، اور عبداللہ بن نافع نے اسے اپنے والد سے روایت کر کے نبی ﷺ تک مرفوع بیان کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، فَذَكَرَهُ، ⦗٢٦٣⦘ هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي: وَلَا نُجَمِّعُ، بِالتَّشْدِيدِ وَرَفْعِ النُّونِ.
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خراسان میں تھے، ہم قصر کرتے اور جمعہ نہ پڑھتے تھے۔
میں نے اپنی کتاب میں اسی طرح پایا ہے: «وَلَا نُجَمِّعُ» (اور ہم جمعہ نہیں پڑھتے تھے) میم کی تشدید اور نون کے پیش کے ساتھ۔
میں نے اپنی کتاب میں اسی طرح پایا ہے: «وَلَا نُجَمِّعُ» (اور ہم جمعہ نہیں پڑھتے تھے) میم کی تشدید اور نون کے پیش کے ساتھ۔