کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: خوف یا بیماری یا ان جیسے دیگر اعذار کی بنا پر جمعہ کے لیے نہ آنے کا بیان
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، ثنا قَيْسُ بْنُ أُنَيْفٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي خَبَّابٍ، عَنْ مَغْرَاءَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ اتِّبَاعِهِ عُذْرٌ فَلَا صَلَاةَ لَهُ " قَالُوا: وَمَا الْعُذْرُ؟ قَالَ: " خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اذان سن کر بغیر عذر کے نہیں آتا اس کی نماز نہیں۔“ انھوں نے پوچھا: عذر کیا ہے؟ فرمایا: ”خوف یا بیماری۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِبْ فَلَا صَلَاةَ لَهُ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اذان سن کر نماز کے لیے نہیں آتا اس کی نماز نہیں، لیکن عذر کی بنا پر قبول ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ دُعِيَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ يَسْتَجْهِزُ لِلْجُمُعَةِ إِلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ وَهُوَ يَمُوتُ، فَأَتَاهُ وَتَرَكَ الْجُمُعَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
اسماعیل بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جمعہ کے دن، جب وہ جمعہ کے لیے تیاری کر رہے تھے، سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کے پاس بلایا گیا جبکہ وہ قریب الموت تھے، تو وہ ان کے پاس آئے اور جمعہ چھوڑ دیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ نَافِعٍ، " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ذُكِرَ لَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ وَكَانَ بَدْرِيًّا مَرِيضٌ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَرَاحَ إِلَيْهِ بَعْدَ أَنْ تَعَالَى النَّهَارُ وَاقْتَرَبَ الْجُمُعَةُ، وَتَرَكَ الْجُمُعَةَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا گیا کہ وہ بیمار ہیں اور وہ بدری صحابی تھے، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما دن چڑھے ان کے پاس گئے، جمعہ کا وقت قریب تھا لیکن انہوں نے جمعہ چھوڑ دیا۔