کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: رش کی وجہ سے آدمی کا سجدہ امام کے دو سجدوں سے مؤخر ہو جائے تو یہ اس پر قیاس کرتے ہوئے جائز ہے کہ نمازِ خوف کے سجدوں میں ایک صف امام سے پیچھے رہ جاتی ہے
حدیث نمبر: 5631
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ، ثنا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ " أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ، وَذَكَرَ أَنَّ الْعَدُوَّ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ وَكَبَّرْنَا، وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نُحُورِ الْعَدُوِّ، فَلَمَّا قَامَ وَقَامَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ، ثُمَّ تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ فَرَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ، فَلَمَّا رَفَعَ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نُحُورِ الْعَدُوِّ، فَلَمَّا سَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَجَلَسَ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ، ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا جَمِيعًا ". قَالَ جَابِرٌ: " كَمَا يَفْعَلُ حَرَسُكُمْ هَذَا بِأُمَرَائِهِمْ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَأَمَّا الِاسْتِخْلَافُ فَقَدْ مَضَى مَا فِيهِ مِنَ الْأَخْبَارِ وَالْآثَارِ فِي أَبْوَابِ الْإِمَامَةِ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ نمازِ خوف ادا کی اور دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھا۔ آپ ﷺ نے تکبیر کہی تو ہم نے بھی تکبیر کہی۔ ہم نے آپ ﷺ کے ساتھ رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھانے کے بعد آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور پہلی صف نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا۔ دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی۔ جب آپ ﷺ اور پہلی صف کھڑی ہوئی تو پھر دوسری صف نے سجدہ کیا۔ پھر پہلی صف پیچھے آ گئی اور دوسری صف پہلی صف کی جگہ چلی گئی۔ آپ ﷺ کے ساتھ مل کر ہم سب نے رکوع کیا۔ پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا۔ پھر جب اٹھے اور سجدہ کیا تو آپ ﷺ کے ساتھ پہلی صف نے سجدہ کیا اور بیٹھ گئے تو دوسری صف سجدہ میں چلی گئی۔ پھر آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو ہم نے بھی سلام پھیرا۔ جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہ ایسے ہے جیسے کہ شاہی محافظ اپنے امراء کے ساتھ کرتے ہیں۔