کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان افراد کی تعداد جن کے کسی بستی میں ہونے سے ان پر جمعہ فرض ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 5603
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ قَالَ: قُرِئَ عَلَى أَبِي قِلَابَةَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ الرَّقَّاشِ، وَأنا أَسْمَعُ قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " أَوَّلُ جُمُعَةٍ جُمِعَتْ بَعْدَ جُمُعَةٍ جُمِعَتْ بِالْمَدِينَةِ جُمُعَةُ الْبَحْرَيْنِ بِجُوَاثَا قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى عَبْدِ الْقَيْسِ "..
حافظ ثناء اللہ
ابو جمرہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ادا کیے جانے والے جمعہ کے بعد پہلا جمعہ عبد القیس کی ایک جواثا نامی بستی میں پڑھا گیا جو بحرین میں واقع ہے۔
حدیث نمبر: 5604
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: بَعْدَ جُمُعَةٍ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ عَبْدِ الْقَيْسِ بِجُوَاثَا مِنَ الْبَحْرَيْنِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ أَبِي عَامِرٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن طہمان رحمہ اللہ نے اسی طرح ذکر کیا ہے لیکن وہ فرماتے ہیں کہ مسجد نبوی ﷺ میں جمعہ کے بعد مسجد عبد القیس میں ہوا، جو بحرین کی جواثا نامی بستی میں ہے۔
حدیث نمبر: 5605
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي ⦗٢٥٢⦘ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كُنْتُ قَائِدَ أَبِي حِينَ كُفَّ بَصَرُهُ، فَإِذَا خَرَجْتُ بِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ فَسَمِعَ الْأَذَانَ بِهَا اسْتَغْفَرَ لِأَبِي أُمَامَةَ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، فَمَكَثْتُ حِينًا أَسْمَعُ ذَلِكَ مِنْهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ عَجْزًا أَنْ لَا أَسْأَلَهُ عَنْ هَذَا، فَخَرَجْتُ كَمَا كُنْتُ أَخْرُجُ، فَلَمَّا سَمِعَ الْأَذَانَ بِالْجُمُعَةِ اسْتَغْفَرَ لَهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ، أَرَأَيْتَ اسْتِغْفَارَكَ لِأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ كُلَّمَا سَمِعْتَ الْأَذَانَ بِالْجُمُعَةِ؟ فَقَالَ: " أَيْ بُنَيَّ، كَانَ أَسْعَدُ أَوَّلَ مَنْ جَمَّعَ بِنَا فِي الْمَدِينَةِ قَبْلَ مَقْدَمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَزْمٍ مِنْ حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ فِي نَقِيعٍ يُقَالُ لَهُ الْخَضَمَاتُ، قُلْتُ: وَكَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ رَجُلًا ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن کعب بن مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں اپنے والد (کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) کو مسجد لے کر آتا تھا، جب ان کی نظر ختم ہوگئی۔ ایک مرتبہ میں انہیں جمعہ کے لیے لے کر جا رہا تھا تو اذان سن کر میرے والد نے ابوامامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے بخشش کی دعا کی۔ میں کچھ وقت رکا اور ان سے یہ سنتا رہا، لیکن سوال نہیں کیا، پھر میں انہیں جمعہ کے لیے لے کر نکلا تو جب انہوں نے جمعہ کی اذان سنی تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے بخشش کی دعا کی۔ میں نے پوچھ لیا: اے ابا جان! آپ جمعہ کی اذان سن کر اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے استغفار کرتے ہیں؟ فرمانے لگے: اے بیٹے! اسعد رضی اللہ عنہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے مدینہ میں نبی ﷺ کے آنے سے پہلے نقیع کے علاقے میں بنو بیاضہ کی بستی ہزم میں جمعہ پڑھایا۔ اس کو غضمات کہا جاتا تھا۔ میں نے پوچھا: آپ اس دن کتنے لوگ تھے؟ فرمایا: چالیس افراد۔
حدیث نمبر: 5606
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَ قَائِدَ أَبِيهِ بَعْدَمَا ذَهَبَ بَصَرُهُ، عَنْ أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ: " أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَرَحَّمَ لِأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ "، فَقُلْتُ لَهُ إِ: إِذَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ تَرَحَّمْتَ لِأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، قالَ: " لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ جَمَّعَ بِنَا فِي هَزْمِ النَّبِيتِ مِنْ حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ فِي نَقِيعٍ يُقَالُ لَهُ الْخَضَمَاتُ "، قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: " أَرْبَعُونَ ". وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي أُمَامَةَ. كَمَا قَالَ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: إِذَا ذَكَرَ سَمَاعَهُ فِي الرِّوَايَةِ وَكَانَ الرَّاوِي ثِقَةً اسْتَقَامَ الْإِسْنَادُ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنُ الْإِسْنَادِ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ آخَرُ لَا يُحْتَجُّ بِمِثْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمٰن بن کعب بن مالک روایت کرتے ہیں کہ میں اپنے والد (کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) کو مسجد لے کر آتا تھا جب ان کی بینائی چلی گئی، وہ جب بھی جمعہ کی اذان سنتے تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے۔ میں نے پوچھا: ”ابا جان! آپ جب بھی جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کیوں کرتے ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے نقیع کے علاقے میں بنو بیاضہ کی بستی ہزم النبیت میں ہمیں جمعہ پڑھایا، جس (مقام) کو خضمات کہا جاتا ہے۔“ میں نے پوچھا: ”آپ لوگ اس دن کتنے تھے؟“ انہوں نے فرمایا: ”چالیس آدمی۔“
حدیث نمبر: 5607
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ ⦗٢٥٣⦘ يُعْرَفُ بِأَبِي الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ حَكِيمٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ خَالِدٍ الْبَالِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ، ثنا خُصَيْفٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: " مَضَتِ السُّنَّةُ أَنَّ فِي كُلِّ ثَلَاثَةٍ إِمَامًا، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ جُمُعَةٌ، وَفِطْرٌ، وَأَضْحَى، وَذَلِكَ أَنَّهُمْ جَمَاعَةٌ ". وَكَذَلِكَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ الْقُرَشِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَالِاعْتِمَادُ عَلَى مَا مَضَى وَعَلَى مَا يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ، جابر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ ”ہر تین میں ایک امام ہو اور جب لوگ چالیس یا اس سے زیادہ ہوں جمعہ، عید الفطر اور عید الاضحیٰ واجب ہے؛ کیونکہ یہ جماعت ہے۔“
حدیث نمبر: 5608
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: " كُلُّ قَرْيَةٍ فِيهَا أَرْبَعُونَ رَجُلًا فَعَلَيْهِمُ الْجُمُعَةُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس بستی میں چالیس آدمی ہوں ان پر جمعہ واجب ہے۔
حدیث نمبر: 5609
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الثِّقَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْمِيَاهِ فِيمَا بَيْنَ الشَّامِ إِلَى مَكَّةَ: " جَمِّعُوا إِذَا بَلَغْتُمْ أَرْبَعِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مکہ اور شام کے درمیانی ساحلوں پر رہنے والوں کو یہ حکم ارسال فرمایا کہ جب تم چالیس کی مقدار تک پہنچ جاؤ تو جمعہ پڑھو۔
حدیث نمبر: 5610
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْحَلَبِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْحَلَبِيُّ يَعْنِي عُبَيْدَ بْنَ هِشَامٍ، ثنا أَبُو الْمَلِيحِ يَعْنِي الرَّقِّيَّ قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: " إِذَا بَلَغَ أَهْلُ الْقَرْيَةِ أَرْبَعِينَ رَجُلًا فَلْيُجَمِّعُوا ".
حافظ ثناء اللہ
ابو ملیح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا خط آیا، جب بستی والے چالیس مرد ہوں تو وہ جمعہ پڑھیں۔
حدیث نمبر: 5611
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ قَالَ: كَتَبَ ⦗٢٥٤⦘ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: " أَيُّمَا قَرْيَةٍ اجْتَمَعَ فِيهَا خَمْسُونَ رَجُلًا فَلْيَؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ، وَلْيَخْطُبْ عَلَيْهِمْ، وَلْيُصَلِّ بِهِمُ الْجُمُعَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے خط لکھا کہ جس بستی میں پچاس آدمی جمع ہو جائیں تو ایک ان کی امامت کروائے اور خطبہ دے اور ان کو جمعہ پڑھائے۔
حدیث نمبر: 5612
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ، فَقَالَ: " كُلُّ مَدِينَةٍ أَوْ قَرْيَةٍ فِيهَا جَمَاعَةٌ وَعَلَيْهِمْ أَمِيرٌ أُمِرُوا بِالْجُمُعَةِ فَلْيُجَمِّعْ بِهِمْ. فَإِنَّ أَهْلَ الْإِسْكَنْدَرِيَّةِ وَمَدَائِنَ مِصْرَ، وَمَدَائِنَ سَوَاحِلِهَا كَانُوا يُجَمِّعُونَ الْجُمُعَةَ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِأَمْرِهِمَا، وَفِيهَا رِجَالٌ مِنَ الصَّحَابَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
ولید بن مسلم فرماتے ہیں کہ میں نے لیث بن سعد سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: وہ شہر یا بستی جس میں جماعت ہوتی ہو اور ان کا امیر ہو تو وہ ان کو جمعہ کا حکم دے اور جمعہ پڑھائے۔ چنانچہ اسکندریہ، مصر کے شہر اور ساحل والے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور میں جمعہ پڑھتے تھے اور ان میں صحابہ رضی اللہ عنہم بھی رہتے تھے۔
حدیث نمبر: 5613
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا الْوَلِيدُ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي شَيْبَانُ، حَدَّثَنِي مَوْلًى لِآلِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْقُرَى الَّتِي بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ مَا تَرَى فِي الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، إِذَا كَانَ عَلَيْهِمْ أَمِيرٌ فَلْيُجَمِّعْ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے غلام نے عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان بستیوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ فرمایا: جب ان کا امیر ہو تو ان کو جمعہ پڑھائے۔
(ب) عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب بستیاں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہوں تو وہ جمعہ پڑھیں۔
(ب) عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب بستیاں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہوں تو وہ جمعہ پڑھیں۔
حدیث نمبر: 5614
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ: " انْظُرْ إِلَى أَهْلِ كُلِّ قَرْيَةٍ أَهْلِ قَرَارٍ لَيْسُوا هُمْ بِأَهْلِ عَمُودٍ يَنْتَقِلُونَ فَأَمِّرْ عَلَيْهِمْ أَمِيرًا، ثُمَّ مُرْهُ فَلْيُجَمِّعْ بِهِمْ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَالْأَشْبَهُ بِأَقَاوِيلِ السَّلَفِ وَأَفْعَالِهِمْ فِي إِقَامَةِ الْجُمُعَةِ فِي الْقُرَى الَّتِي أَهْلُهَا أَهْلُ قَرَارٍ لَيْسُوا بِأَهْلِ عَمُودٍ يَنْتَقِلُونَ أَنَّ ذَلِكَ مُرَادُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن برقان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عدی بن عدی کندی رحمہ اللہ کو خط لکھا کہ آپ دیکھیں جب مستقل بستیاں ہوں اور وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ بار بار منتقل ہونے والے نہ ہوں تو ان کا امیر مقرر کرو اور وہ ان کو جمعہ پڑھائے۔
شیخ فرماتے ہیں: سلف کے اقوال و افعال کے مطابق جو مستقل بستیاں ہیں ان میں جمعہ ہوگا، لیکن جو ایک جگہ ٹھہرنے والے نہیں ان میں نہیں ہوگا۔
شیخ فرماتے ہیں: سلف کے اقوال و افعال کے مطابق جو مستقل بستیاں ہیں ان میں جمعہ ہوگا، لیکن جو ایک جگہ ٹھہرنے والے نہیں ان میں نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 5615
بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا جُمُعَةَ وَلَا تَشْرِيقَ إِلَّا فِي مِصْرٍ جَامِعٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوعبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جمعہ اور عید بڑے شہر میں ادا کی جائے۔
حدیث نمبر: 5616
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عَطِيَّةَ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَعْدٍ التُّجِيبِيُّ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أُمِّ عَبْدِ اللهِ الدَّوْسِيَّةِ ⦗٢٥٥⦘ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْجُمُعَةُ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ قَرْيَةٍ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا إِلَّا أَرْبَعَةٌ ". يَعْنِي بِالْقُرَى الْمَدَائِنَ. وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنِ الْمُوقَرِيِّ، وَالْحَكَمِ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: لَا يَصِحُّ هَذَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، كُلُّ مَنْ رَوَاهُ عَنْهُ مَتْرُوكٌ، وَالزُّهْرِيُّ لَا يَصِحُّ سَمَاعُهُ مِنَ الدَّوْسِيَّةِ. قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ قِيلَ عَنْهُ، عَنِ التُّجِيبِيِّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، كَذَلِكَ قَالَهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى عَنْ بَقِيَّةَ.
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ ام عبداللہ دوسیہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر کسی بستی میں چار افراد بھی ہوں تو ان پر جمعہ واجب ہے۔“
حدیث نمبر: 5617
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنِ عَدِيٍّ، أنبا ابْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَعِيدٍ التُّجِيبِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أُمِّ عَبْدِ اللهِ الدَّوْسِيَّةِ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْجُمُعَةُ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ قَرْيَةٍ فِيهَا إِمَامٌ، وَإِنْ لَمْ يَكُونُوا إِلَّا أَرْبَعَةً ". حَتَّى ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةً ". الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ مَتْرُوكٌ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى ضَعِيفٌ، وَلَا يَصِحُّ هَذَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ فِي الْخَمْسِينَ لَا يَصِحُّ إِسْنَادُهُ وَيُذْكَرُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، " أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ عُمَيْرٍ حِينَ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ جَمَّعَ بِهِمْ وَهُمُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا "..
حافظ ثناء اللہ
(الف) زہری رحمہ اللہ ام عبد دوسیہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس بستی میں امام کے علاوہ چار یا تین افراد ہوں تو ان پر جمعہ واجب ہے۔“
(ب) زہری رحمہ اللہ سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ان کو مدینہ روانہ کیا تو وہ بارہ آدمیوں کو جمعہ پڑھاتے تھے۔
(ب) زہری رحمہ اللہ سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ان کو مدینہ روانہ کیا تو وہ بارہ آدمیوں کو جمعہ پڑھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 5618
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبا أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَهُ. ⦗٢٥٦⦘ وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَإِنْ صَحَّ فَإِنَّمَا أَرَادَ بِمَعُونَةِ الِاثْنَيْ عَشَرَ النُّقَبَاءِ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صُحْبَتِهِ أَوْ عَلَى أَثَرِهِمْ إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُقْرِئَ الْمُسْلِمِينَ فَيُصَلِّيَ بِهِمْ، ثُمَّ عَدَدُ مَنْ صَلَّى بِهِمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مَذْكُورٌ فِي حَدِيثِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ حِينَ أَقَامَهَا مُصْعَبٌ بِإِشَارَةِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ وَنُصْرَتِهِ إِيَّاهُ.
حافظ ثناء اللہ
نفیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے معقل بن عبید اللہ رحمہ اللہ کے سامنے زہری رحمہ اللہ سے قراءت کی، پھر اس حدیث کو ذکر کیا، یہ اثر منقطع ہے۔ اگر صحیح ہو تو اس سے مراد بارہ سردار جنہیں ان کے ساتھ یا ان کے پیچھے مدینہ روانہ کیا تھا تاکہ وہ مسلمانوں کو قرآن اور نماز پڑھائیں۔ پھر وہ تعداد جنہوں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی وہ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں مذکور ہے، سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے حکم اور مدد سے سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ نے قائم کیا۔