کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان دلائل کا بیان جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جماعت کے مقاصد میں چالیس کی تعداد کا عمل دخل ہے
حدیث نمبر: 5619
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ الْمَاسَرْجِسِيُّ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " جَمَعَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْتُ آخِرَ مَنْ أَتَاهُ، وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ رَجُلًا، فَقَالَ: " إِنَّكُمْ مُصِيبُونَ وَمَنْصُورُونَ وَمَفْتُوحٌ لَكُمْ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ فَلْيَتَّقِ اللهَ، وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَلْيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَلْيَصِلِ الرَّحِمَ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ". وَرَوَاهُ أَيْضًا الثَّوْرِيُّ، وَمِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ سِمَاكٍ، وَفِي رِوَايَةِ مِسْعَرٍ: جَمَّعْنَا نَحْوًا مِنْ أَرْبَعِينَ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ جمعہ پڑھا، ہماری تعداد چالیس تھی، میں ان میں سے سب سے آخر میں آیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے مقاصد کو حاصل کرو گے اور تمہیں فتح نصیب ہوگی، تم مدد کیے جاؤ گے، جو یہ پائے اللہ سے ڈرے، نیکی کا حکم کرے اور برائی سے روکے، رشتہ داری کو ملائے اور جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنا لے۔“
حدیث نمبر: 5620
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ نَحْوًا مِنْ أَرْبَعِينَ، فَقَالَ: " أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبْعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ " قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: " أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ " قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مَسْلَمَةٌ، وَمَا أَنْتُمْ فِي الشِّرْكِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَحْمَرِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن میمون رحمہ اللہ، عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک خیمے میں چالیس آدمی تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم راضی ہو کہ تم جنت کا چوتھائی حصہ ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم راضی ہو کہ تم جنت کا تیسرا حصہ ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں امید کرتا ہوں کہ تم آدھی جنت والوں میں سے ہو گے، اور جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہوگا، اور تم اہل شرک کے مقابلے میں ایسے ہو جیسے سیاہ بیل کے اوپر کوئی سفید بال ہو یا سرخ بیل کے اوپر کوئی سیاہ بال ہو۔“
حدیث نمبر: 5621
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنِ بْنِ مُهَاجِرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ قَالَا: ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ مَاتَ ابْنٌ لَهُ بِقُدَيْدٍ أَوْ بِعُسْفَانَ فَقَالَ: يَا كُرَيْبُ، انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَهُ مِنَ النَّاسِ، قَالَ: فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَاسٌ لَهُ قَدِ اجْتَمَعُوا فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: يَقُولُ: وَهُمْ أَرْبَعُونَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: اخْرُجُوا بِهِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ عَلَى جِنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُونَ بِاللهِ شَيْئًا، إِلَّا شَفَّعَهُمُ اللهُ فِيهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
کریب، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا بیٹا قدید یا عسفان نامی جگہ پر فوت ہو گیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اے کریب! دیکھو لوگ جمع ہو گئے ہیں؟ میں نے دیکھا کہ لوگ جمع ہو چکے تھے۔ میں نے ان کو خبر دی تو انہوں نے پوچھا: کیا وہ چالیس افراد ہیں؟ میں نے کہا: ہاں۔ فرمایا: جنازہ لے چلو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”جو مسلمان بندہ فوت ہو جائے اور اس کے جنازہ پر چالیس افراد ہوں جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہو تو ان کی سفارش اللہ قبول فرما لیں گے۔“