أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أنبأ ابْنُ عُلَيَّةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: " غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدْتُ مَعَهُ الْفَتْحَ فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ يَقُولُ: " يَا أَهْلَ الْبَلَدِ صَلُّوا أَرْبَعًا، فَإِنَّا سَفْرٌ ". ⦗٢٢٤⦘ وَرُوِّينَا قَبْلَ هَذَا فِي الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ مِثْلُ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
ابونضرہ، عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ مل کر غزوہ کیا اور میں فتح مکہ میں بھی حاضر تھا اور آپ ﷺ نے مکہ میں اٹھارہ راتیں قیام کیا، صرف دو دو رکعات ادا کرتے رہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے شہر والو! تم چار رکعات پڑھو، ہم مسافر ہیں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرَوَيْهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ شَهِدَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَّى بِأَهْلِ مَكَّةَ فِي الْحَجِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ بَعْدَمَا سَلَّمَ:: " أَتِمُّوا الصَّلَاةَ يَا أَهْلَ مَكَّةَ؛ فَإِنَّا سَفْرٌ ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، جب انہوں نے مکہ والوں کو حج کے دنوں میں نماز پڑھائی، آپ نے دو رکعت نماز سے فراغت کے بعد فرمایا: اے اہل مکہ! تم اپنی نماز پوری کر لو، ہم مسافر ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَفْوَانَ أَنَّهُ قَالَ:: " جَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَعُودُ عَبْدَ اللهِ بْنَ صَفْوَانَ فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقُمْنَا فَأَتْمَمْنَا ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن صفوان فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میری تیمار داری کے لیے آئے۔ انہوں نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں اور سلام پھیر دیا، پھر ہم نے اپنی باقی نماز مکمل کی۔