حدیث نمبر: 5502
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: " أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ صَلَّى أَرْبَعًا، وَإِذَا صَلَّى وَحْدَهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب وہ امام کے ساتھ نماز پڑھتے تو چار رکعات اور جب اکیلے نماز پڑھتے تو دو رکعات۔
حدیث نمبر: 5503
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: الْمُسَافِرُ يُدْرِكُ رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْقَوْمِ، يَعْنِي الْمُقِيمِينَ، أَتُجْزِيهُ الرَّكْعَتَانِ أَوْ يُصَلِّي بِصَلَاتِهِمْ؟ قَالَ: فَضَحِكَ، وَقَالَ: " يُصَلِّي بِصَلَاتِهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو مجلز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ مسافر لوگوں کے ساتھ دو رکعات پا لیتا ہے (یعنی حاضر لوگوں کے ساتھ) کیا اس کو دو رکعات کفایت کر جائیں گی یا وہ ان کی طرح مکمل نماز پڑھے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہنس پڑے اور فرمایا: وہ ان کی طرح مکمل نماز پڑھے یعنی چار رکعات پوری کرے۔