أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: ح وَأنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَا: ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ بِالْأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ، قَالَ: فَخَرَجَ بِلَالٌ بِوَضُوئِهِ، فَمِنْ نَائِلٍ وَنَاضِحٍ، قَالَ: فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ وَأَذَّنَ بِلَالٌ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَتَّبِعُ فَاهُ هَهُنَا وَهَهُنَا يَقُولُ: يَمِينًا وَشِمَالًا يَقُولُ: حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: ثُمَّ رُكِزَتْ لَهُ عَنَزَةٌ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ لَا يُمْنَعُ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عون بن ابی جحیفہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس مکہ میں آیا، آپ ﷺ ابطح نامی جگہ پر چمڑے کے بنے ہوئے سرخ خیمہ میں تھے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے وضو کا پانی لے کر نکلے تو کوئی اس میں سے حاصل کر رہا تھا اور کوئی (دوسرے سے لے کر) چھڑک رہا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نکلے اور آپ ﷺ پر سرخ رنگ کی چادر تھی۔ گویا میں آپ ﷺ کی پنڈلیوں کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے وضو کیا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی، میں ان کے منہ کو ادھر ادھر (مڑتے) دیکھتا رہا، وہ دائیں بائیں (منہ پھیر کر) کہہ رہے تھے: «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”نماز کی طرف آؤ“، «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”کامیابی کی طرف آؤ“۔ پھر آپ ﷺ کے لیے نیزہ گاڑ دیا گیا تو آپ ﷺ نے آگے بڑھ کر ظہر کی نماز دو رکعت پڑھائی۔ آپ ﷺ کے سامنے سے گدھے اور کتے گزر رہے تھے، ان کو روکا نہیں گیا۔ پھر دو رکعت عصر کی پڑھائی۔ پھر مدینہ واپس آنے تک اس طرح دو دو رکعات پڑھتے رہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ثنا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ، وَرَأَيْتُ بِلَالًا أَخْرَجَ وُضُوءَهُ، فَرَأَيْتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُونَ ذَلِكَ مِنْهُ وَيَتَمَسَّحُونَ بِهِ، فَمَنْ لَمْ يُدْرِكْ مِنْهُ شَيْئًا أَخَذَ مِنْ بَلَلِ صَاحِبِهِ، وَرَأَيْتُ بِلَالًا أَخْرَجَ عَنَزَةً فَرَكَزَهَا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مُشَمِّرًا، يُصَلِّي إِلَى عَنَزَةٍ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَالْأَحَادِيثُ فِي هَذَا الْمَعْنَى كَثِيرَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
عون بن ابی جحیفہ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو سرخ خیمے میں دیکھا اور میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ آپ ﷺ کے وضو کا پانی لے کر آئے، میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اس کی جانب جلدی کر رہے تھے اور اس کو ہاتھوں پر مل رہے تھے، جس نے کچھ نہ پایا وہ اپنے ساتھی سے تری حاصل کر رہا تھا، پھر میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے ایک نیزہ نکالا اور اس کو گاڑ دیا تو رسول اللہ ﷺ نکلے، میں نے آپ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ سرخ حلہ پہنے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے نیزے کی طرف رخ کر کے لوگوں کو دو رکعات نماز پڑھائی۔