السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الاجتماع للصلاة في السفر باب: سفر میں نماز کے لیے جمع ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: ح وَأنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَا: ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ بِالْأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ، قَالَ: فَخَرَجَ بِلَالٌ بِوَضُوئِهِ، فَمِنْ نَائِلٍ وَنَاضِحٍ، قَالَ: فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ وَأَذَّنَ بِلَالٌ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَتَّبِعُ فَاهُ هَهُنَا وَهَهُنَا يَقُولُ: يَمِينًا وَشِمَالًا يَقُولُ: حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: ثُمَّ رُكِزَتْ لَهُ عَنَزَةٌ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ لَا يُمْنَعُ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.عون بن ابی جحیفہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس مکہ میں آیا، آپ ﷺ ابطح نامی جگہ پر چمڑے کے بنے ہوئے سرخ خیمہ میں تھے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سر کو ہلاتے ہوئے اور پانی گراتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نکلے اور آپ ﷺ پر سرخ رنگ کی چادر تھی۔ گویا میں آپ ﷺ کی پنڈلیوں کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے وضو کیا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی اور بلال رضی اللہ عنہ کا چہرہ دائیں بائیں مڑ رہا تھا، وہ کہہ رہے تھے: «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”نماز کی طرف آؤ“، «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”کامیابی کی طرف آؤ“۔ پھر آپ ﷺ کے لیے نیزہ گاڑ دیا گیا تو آپ ﷺ نے ظہر کی نماز دو رکعت پڑھائی۔ آپ ﷺ کے سامنے سے گدھے اور کتے گزر رہے تھے، ان کو روکا نہیں گیا۔ پھر دو رکعت عصر کی پڑھائی۔ پھر مدینہ واپس آنے تک اس طرح دو دو رکعات پڑھتے رہے۔