کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ”اپنے میں سے بہترین لوگوں کو اپنا امام بناؤ“ اور ولد الزنا کی امامت کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 5132
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً، أَظُنُّهُ قَالَ: فَأَعْلَمُهُمْ لِلسُّنَّةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِنًّا، وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قوم کی امامت وہ کرائے جو قرآن کو سب سے زیادہ پڑھا ہوا ہو۔ اگر قرآن میں برابر ہوں تو میرا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جو سنت کو زیادہ جانتا ہو۔ اگر سنت میں بھی برابر ہوں تو وہ جو ہجرت میں مقدم ہو اور اگر ہجرت میں برابر ہوں تو جو عمر میں بڑا ہو اور کوئی شخص کسی کی بادشاہت میں اس کی امامت نہ کروائے اور نہ ہی گھر میں اس کی عزت والی جگہ میں بیٹھے، لیکن اجازت کے بعد۔“
حدیث نمبر: 5133
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، وَأنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَسَدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْعَلُوا أَئِمَّتَكُمْ خِيَارَكُمْ، فَإِنَّهُمْ وَفْدُكُمْ فِيمَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ ". إِسْنَادُ هَذَا الْحَدِيثِ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم امام اپنے بہترین لوگوں کو بناؤ؛ کیونکہ یہ تمہارے اور اللہ کے درمیان قاصد ہوتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 5134
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ " أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَؤُمُّ نَاسًا بِالْعَقِيقِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَنَهَاهُ ". قَالَ مَالِكٌ: وَإِنَّمَا نَهَاهُ لِأَنَّهُ كَانَ لَا يُعْرَفُ أَبُوهُ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عقیق نامی جگہ پر ایک شخص لوگوں کی امامت کرواتا تھا، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس کو امامت سے روک دیا۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے باپ کا علم نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 5135
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْكُوفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ابْنُ أَخِي عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ: " سَأَلْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ وَلَدِ الزِّنَاءِ إِنْ مَرِضَ، أَعُودُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَإِنْ مَاتَ أُصَلِّي عَلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَإِنْ شَهِدَ تَجُوزُ شَهَادَتُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: يَؤُمُّ؟ قَالَ: نَعَمْ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالعزیز بن رفیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر حرامی بچہ بیمار ہو جائے تو میں اس کی عیادت کروں؟ فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا: اگر فوت ہو جائے تو جنازہ پڑھوں؟ فرمایا: ہاں، پھر میں نے کہا: اگر وہ گواہی دے تو اس کی گواہی جائز ہے؟ فرمایا: ہاں، میں نے کہا: وہ امامت کروائے؟ فرمایا: ہاں۔
حدیث نمبر: 5136
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: وَحَدَّثَنَا زَيْدٌ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي السَّفَرُ بْنُ نُسَيْرٍ الْأَسَدِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَالَ: " وَلَدُ الزِّنَاءِ شَرُّ الثَّلَاثَةِ، إِنْ أَبَوََيْهِ أَسْلَمَا وَلَمْ يُسَلِمْ هُوَ ". فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ ". وَهَذَا مُرْسَلٌ، وَرُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: مَا عَلَيْهِ مِنْ وِزْرِ أَبَوَيْهِ شَيْءٌ، قَالَ اللهُ تَعَالَى {لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: ١٦٤] تَعْنِي وَلَدَ الزِّنَاءِ. وَعَنِ الشَّعْبِيِّ، وَالنَّخَعِيِّ، وَالزُّهْرِيِّ فِي وَلَدِ الزِّنَاءِ أَنَّهُ يَؤُمُّ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سفر بن نسیر اسدی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حرامی بچہ تین میں تیسرا شر ہے۔“ اس کے والدین تو مطیع ہوچکے، لیکن وہ مطیع نہ ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تینوں میں سے تیسرا شر ہے۔“
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے والدین کا اس پر کوئی بوجھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الأنعام: 164] ”کوئی جان کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔“
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے والدین کا اس پر کوئی بوجھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الأنعام: 164] ”کوئی جان کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔“
حدیث نمبر: 5137
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ وَهُوَ حَيٌّ: أَفَلَا تَلْقَاهُ فَتَسْأَلَهُ؟ قَالَ أَيُّوبُ: فَلَقِيتُ عَمْرًا فَقَالَ: " كُنَّا بِحَضْرَةِ مَاءٍ مَمَرٍّ لِلنَّاسِ وَكَانَ يَمُرُّ بِنَا الرُّكْبَانُ فَنَسْأَلُهُمْ مَا هَذَا الْأَمْرُ، مَا لِلنَّاسِ؟ فَيَقُولُونَ: نَبِيُّنَا يَزْعُمُ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَهُ وَأَنَّ اللهَ أَوْحَى إِلَيْهِ كَذَا وَكَذَا، فَجَعَلْتُ أَحْفَظُ ذَلِكَ الْكَلَامَ فَكَأَنَّمَا يُغْرَى فِي صَدْرِي بِغِرَاءٍ وَكَانَتِ الْعَرَبُ تَلَوَّمُ بِإِسْلَامِهَا الْفَتْحَ وَيَقُولُونَ: أَنْظِرُوهُ ⦗١٣٠⦘ فِي قَوْمِهِ، فَإِنْ ظَهَرَ عَلَيْهِمْ فَهُوَ نَبِيٌّ وَهُوَ صَادِقٌ، فَلَمَّا جَاءَتْ وَقْعَةُ الْفَتْحِ بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلَامِهِمْ، وَانْطَلَقَ أَبِي بِإِسْلَامِ حِوَائِنَا ذَلِكَ، فَلَمَّا قَدِمَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَقَّيْنَاهُ، فَلَمَّا رَآنَا قَالَ: جِئْتُكُمْ وَاللهِ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، وَإِنَّهُ يَأْمُرُكُمْ بِكَذَا وَيَنْهَاكُمْ عَنْ كَذَا، وَقَالَ: صَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا وَصَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا "، فَنَظَرُوا فِي أَهْلِ حِوَائِنَا ذَلِكَ فَمَا وَجَدُوا أَحَدًا أَكْثَرَ مِنِّي قُرْآنًا لِمَا كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الرُّكْبَانِ، فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ، أَوْ سِتِّ سِنِينَ، وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ فِيهَا صِغَرٌ، فَإِذَا سَجَدْتُ تَقَلَّصَتْ عَنِّي، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْحِيِّ: أَلَا تُغَطُّونَ عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ؟ فَكَسَوْنِي قَمِيصًا مِنْ مُعَقَّدِ الْبَحْرَيْنِ، فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ فَرَحِي بِذَلِكَ الْقَمِيصِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایوب، ابو قلابہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ زندہ تھے، کیا آپ نے ان سے ملاقات نہیں کی؟ آپ ان سے سوال کریں۔ ایوب کہنے لگے: میں عمرو رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہوں نے فرمایا: ہم ایک پانی کے چشمے پر تھے، لوگوں کا وہاں سے گزر ہوتا تھا۔ ہمارے پاس سے قافلے گزرتے تھے تو ہم لوگوں کے معاملات کے بارے میں سوال کرتے تھے۔ وہ کہتے: وہ نبی ہے اس کا گمان ہے کہ اللہ نے اس کو مبعوث کیا ہے اور اللہ نے اس پر فلاں فلاں وحی کی ہے۔ میں اس کلام کو یاد کر لیتا تھا۔ گویا کہ میرے دل میں اس کا شوق پیدا ہو گیا اور عرب نے اسلام لانے سے فتح تک توقف کیا۔ وہ کہتے تھے: اگر یہ اپنی قوم پر غالب آ گیا تو یہ سچا نبی ہے۔ جب فتح کا واقعہ ہو گیا تو ہر قوم نے اسلام لانے میں جلدی کی اور میرے والد اپنے قبیلہ کے ساتھ اسلام قبول کرنے گئے۔ جب وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور ان کے پاس ٹھہرے تو ہم نے ملاقات کی۔ جب انہوں نے ہم کو دیکھا تو کہنے لگے: میں تمہارے پاس سچے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے آیا ہوں، وہ تمہیں فلاں چیز کا حکم دیتے ہیں اور فلاں سے روکتے ہیں اور فرمایا: ”نماز اس طرح پڑھو اور اس وقت پڑھو اور فلاں نماز اس طرح اور اس وقت پڑھو۔ جب نماز کا وقت ہو تو تمہارے لیے کوئی ایک اذان دے اور تمہاری امامت وہ کروائے جو قرآن زیادہ پڑھا ہوا ہو۔“ انہوں نے ہمارے محلے والوں میں دیکھا تو انہوں نے مجھ سے زیادہ قرآن کو یاد کرنے والا کسی کو نہ پایا، کیونکہ میں قافلوں سے ملتا رہتا تھا۔ انہوں نے مجھے آگے کر دیا اور میں سات سال کا تھا یا چھ سال کا۔ میرے اوپر ایک چادر تھی جو چھوٹی تھی۔ جب میں سجدہ کرتا تو وہ مجھ سے سکڑ جاتی۔ قبیلہ کی ایک عورت نے کہا: کیا تم اپنے قاری کی پشت ہم سے ڈھانپتے نہیں ہو؟ تو انہوں نے بحرین کی بنی ہوئی چادر مجھے پہنا دی۔
میں اتنا کبھی خوش نہیں ہوا جتنا اس قمیص کی وجہ سے خوش ہوا۔
میں اتنا کبھی خوش نہیں ہوا جتنا اس قمیص کی وجہ سے خوش ہوا۔