کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس نے دو تشہد اور ایک سلام کے ساتھ متصل تین وتر پڑھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " الْوِتْرُ ثَلَاثٌ كَوِتْرِ النَّهَارِ الْمَغْرِبِ ". هَذَا صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ قَوْلِهِ غَيْرَ مَرْفُوعٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رَفَعَهُ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي الْحَوَاجِبِ الْكُوفِيُّ عَنِ الْأَعْمَشِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَرِوَايَتُهُ تُخَالِفُ رِوَايَةَ الْجَمَاعَةِ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”وتر تین ہیں جیسے دن کا وتر مغرب ہے“، یہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے، نبی ﷺ کا فرمان نہیں ہے۔
یحییٰ بن زکریا بن ابی الحواجب کوفی نے اسے اعمش سے نبی ﷺ کا فرمان بنا کر روایت کیا ہے، لیکن وہ ضعیف ہے اور اس کی روایت اعمش سے روایت کرنے والی جماعت کی روایت کے خلاف ہے۔
یحییٰ بن زکریا بن ابی الحواجب کوفی نے اسے اعمش سے نبی ﷺ کا فرمان بنا کر روایت کیا ہے، لیکن وہ ضعیف ہے اور اس کی روایت اعمش سے روایت کرنے والی جماعت کی روایت کے خلاف ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " الْوِتْرُ سَبْعٌ أَوْ خَمْسٌ وَلَا أَقَلُّ مِنْ ثَلَاثٍ ". وَقِيلَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ، وَمَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
اعمش رحمہ اللہ اپنے بعض ساتھیوں سے نقل فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وتر سات یا پانچ ہیں، تین سے کم نہیں ہیں۔
اعمش سے ابراہیم کے واسطے سے بھی منقول ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا، لیکن یہ منقطع اور موقوف ہے۔
اعمش سے ابراہیم کے واسطے سے بھی منقول ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا، لیکن یہ منقطع اور موقوف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُسَلِّمُ فِي رَكْعَتَيِ الْوِتْرِ " كَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عُرْوَةَ، وَقَالَ أَبَانُ عَنْ قَتَادَةَ: يُوتِرُ بِثَلَاثٍ لَا يَقْعُدُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ. وَرَوَاهُ الْجَمَاعَةُ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ، وَهَمَّامِ بْنِ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ كَمَا سَبَقَ ذِكْرُهُ فِي وِتْرِهِ بِتِسْعٍ ثُمَّ بِسَبْعٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، ⦗٤٦⦘ وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الْوَهَّابِ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ اخْتِصَارًا مِنَ الْحَدِيثِ. وَرِوَايَةُ أَبَانَ خَطَأٌ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ وَرَدَ الْخَبَرُ بِالنَّهْيِ عَنِ الْوِتْرِ بِثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مُتَشَبِّهَةً بِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ.
حافظ ثناء اللہ
سعد بن ہشام سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ وتر کی دو رکعات میں سلام نہیں پھیرتے تھے۔
(ب) ابان، قتادہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ تین وتر پڑھتے اور آخری رکعت میں بیٹھتے تھے۔
عبدالوہاب کی روایت حدیث کا اختصار معلوم ہوتی ہے اور ابان کی روایت غلط ہے۔
(ب) ابان، قتادہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ تین وتر پڑھتے اور آخری رکعت میں بیٹھتے تھے۔
عبدالوہاب کی روایت حدیث کا اختصار معلوم ہوتی ہے اور ابان کی روایت غلط ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُوتِرُوا بِثَلَاثٍ تُشَبِّهُوا بِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ، أَوْتِرُوا بِسَبْعٍ أَوْ بِخَمْسٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم تین وتر نہ پڑھو، تم اس کو مغرب کی نماز کے مشابہ کر دو گے، وتر سات یا پانچ پڑھو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ طَاهِرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقِ بْنِ قُرَّةَ بْنِ نَهِيكَ بْنِ مُجَاهِدٍ الْهِلَالِيُّ بِمِصْرَ ثنا أَبِي، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُوتِرُوا بِثَلَاثٍ تُشَبِّهُوا بِالْمَغْرِبِ، وَلَكِنْ أَوْتِرُوا بِخَمْسٍ أَوْ بِسَبْعٍ أَوْ بِتِسْعٍ أَوْ بِإِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ". وَرَوَاهُ ابْنُ بُكَيْرٍ عَنِ اللَّيْثِ كَمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم تین وتر نہ پڑھو اور اس کو مغرب کے مشابہہ نہ کرو بلکہ تم پانچ، سات، نو، گیارہ یا اس سے زیادہ رکعات وتر پڑھا کرو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ بِبَغْدَادَ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " لَا تُوتِرُوا بِثَلَاثٍ ". قَالَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ مَوْقُوفًا.
حافظ ثناء اللہ
عراک بن مالک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”تم تین وتر نہ پڑھو۔“