السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أوتر بثلاث موصولات بتشهدين وتسليم باب: جس نے دو تشہد اور ایک سلام کے ساتھ متصل تین وتر پڑھے۔
حدیث نمبر: 4813
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " الْوِتْرُ سَبْعٌ أَوْ خَمْسٌ وَلَا أَقَلُّ مِنْ ثَلَاثٍ ". وَقِيلَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ، وَمَوْقُوفٌ.حافظ ثناء اللہ
اعمش رحمہ اللہ اپنے بعض ساتھیوں سے نقل فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وتر سات یا پانچ ہیں، تین سے کم نہیں ہیں۔
اعمش سے ابراہیم کے واسطے سے بھی منقول ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا، لیکن یہ منقطع اور موقوف ہے۔