کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس نے نو یا سات وتر پڑھے، وہ ان کی آخری دو رکعتوں میں بیٹھے اور ان کے آخر میں سلام پھیرے۔
حدیث نمبر: 4810
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا يَحْيَى، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ ارْتَحَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ لِيَبِيعَ عَقَارًا لَهُ بِهَا وَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ، ثُمَّ يُجَاهِدُ الرُّومَ حَتَّى يَمُوتَ، فَلَقِيَ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ فَحَدَّثُوهُ أَنَّ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ سِتَّةً أَرَادُوا ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَلَيْسَ فِيكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟ " فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ، وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى رَجْعَتِهَا، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا فَأَخْبَرَنَا أَنَّهُ أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: " أَلَا أُنَبِّئُكَ بِأَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ". قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " إِيتِ عَائِشَةَ فَسَلْهَا، ثُمَّ ارْجِعْ إِلَيَّ فَأَخْبِرْنِي بِرَدِّهَا عَلَيْكَ ". قَالَ: فَأَتَيْتُ حَكِيمَ بْنَ أَفْلَحَ فَاسْتَلْحَقْتُهُ إِلَيْهَا، فَقَالَ: " مَا أَنَا بِقَارِبِهَا، إِنِّي نَهَيْتُهَا أَنْ تَقُولَ فِي هَاتَيْنِ الْبَيْعَتَيْنِ شَيْئًا، فَأَبَتْ فِيهِمَا إِلَّا مُضِيًّا "، فَأَقْسَمْتُ فَجَاءَ مَعِي فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: حَكِيمٌ؟ وَعَرَفَتْهُ، قَالَ: نَعَمْ، أَوْ بَلَى، قَالَتْ: مَنْ هَذَا مَعَكَ؟ قَالَ: سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَتْ: ابْنُ عَامِرٍ؟ فَتَرَحَّمَتْ عَلَيْهِ، وَقَالَتْ: " نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ " فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الْقُرْآنِ، فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِي قِيَامُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ قِيَامَ اللَّيْلِ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ، وَأَمْسَكَ اللهُ خَاتِمَتَهَا فِي ⦗٤٤⦘ السَّمَاءِ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ التَّخْفِيفَ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا مِنْ بَعْدِ فَرِيضَةٍ، فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ ثُمَّ بَدَا لِي وِتْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كُنَّا نَعُدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللهُ بِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَتَسَوَّكُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ، فَيَجْلِسُ وَيُذْكُرُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو وَيَسْتَغْفِرُ، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَقْعُدُ فَيَحْمَدُ رَبَّهُ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ، فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ، فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يَدُومَ عَلَيْهَا، وَكَانَ إِذَا شَغَلَهُ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ أَوْ مَرَضٌ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً، وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ، وَلَا قَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ، وَمَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ ". فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا فَقَالَ: صَدَقَتْ، أَمَا لَوْ كُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّى تُشَافِهَنِي مُشَافَهَةً ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
زرارہ بن ابی اوفی، سعد بن ہشام رحمہما اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی، پھر مدینہ کی طرف کوچ کیا تاکہ اپنے گھر کا سامان بیچ دیں اور اس سے اسلحہ خرید کر رومیوں کے خلاف جہاد میں شامل ہوجائیں اور اپنی شہادت تک جہاد کرتے رہیں۔ وہ کہتے ہیں: میری قوم کے لوگوں کا ایک گروہ مجھے ملا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کے دور میں چھ آدمیوں نے اس بات کا ارادہ کیا تھا، لیکن نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ طریقہ اچھا نہیں“۔ آپ ﷺ نے ان کو اس سے منع کر دیا اور انہیں واپس بھیج دیا۔ پھر وہ ہماری طرف لوٹے اور انہوں نے بتایا کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور وتر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: کیا میں تجھے اس کے بارے میں نہ بتاؤں جو تمام لوگوں سے زیادہ نبی ﷺ کے وتر کو جانتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور نبی ﷺ کے وتر کے بارے میں سوال کرو، پھر واپس آ کر مجھے بھی بتانا جو وہ جواب دیں۔ سعد بن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں حکیم بن افلح رحمہ اللہ کے پاس آیا اور میں نے ان کو ساتھ لیا، وہ کہنے لگے: میں ان کے قریب نہیں جاؤں گا، میں نے ان کو منع کیا تھا کہ وہ ان دو بیعتوں کے بارے میں کچھ نہ کہیں، مگر انہوں نے کہا: میں نے قسم کھا لی ہے۔ سعد بن ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے ساتھ حکیم بن افلح آئے اور ہم سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے تو سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: حکیم؟ انہوں نے آپ کو پہچان لیا تو حکیم نے کہا: جی ہاں۔ سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: تیرے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: سعد بن ہشام۔ فرماتی ہیں: عامر کا بیٹا؟ اللہ ان پر رحم کرے، اور فرمایا: عامر اچھا آدمی تھا۔ میں نے کہا: اے ام المؤمنین! مجھے نبی ﷺ کے اخلاق کے بارے میں بتائیے۔ فرماتی ہیں: کیا آپ نے قرآن نہیں پڑھا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کا اخلاق قرآن ہی تھا۔ سعد بن ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو حکیم بن افلح نے میرے لیے نبی ﷺ کے قیامِ لیل کی بات شروع کر دی، تو سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم نے یہ سورت نہیں پڑھی: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ﴾ [سورة المزمل: 1]؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! فرماتی ہیں کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا میں رات کے قیام کو فرض کیا، تو رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک سال تک رات کا قیام کیا یہاں تک کہ ان کے پاؤں سوج گئے اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے اختتام کو بارہ ماہ تک روکے رکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخر میں تخفیف نازل فرما دی، چنانچہ فرض ہونے کے بعد رات کا قیام نفل بن گیا۔ سعد بن ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے پھر اٹھنے کا ارادہ کیا تو حکیم نے پھر میرے لیے نبی ﷺ کے وتر کی بات شروع کر دی۔ میں نے کہا: اے ام المؤمنین! مجھے نبی ﷺ کے وتر کے بارے میں بتائیے۔ فرماتی ہیں کہ ہم آپ ﷺ کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار کر دیتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ رات کے جس حصے میں چاہتا نبی ﷺ کو بیدار کر دیتا، آپ ﷺ مسواک اور وضو فرماتے، پھر آٹھ رکعتیں نماز ادا کرتے، ان میں کسی رکعت میں نہ بیٹھتے سوائے آٹھویں رکعت کے، اس میں بیٹھتے، اللہ کا ذکر کرتے، دعا مانگتے اور پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو جاتے، پھر نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھ جاتے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے، اس کا ذکر کرتے اور دعا مانگتے، پھر آپ ﷺ ایسا سلام پھیرتے جو ہمیں سنا دیتے تھے، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے، اے میرے بیٹے! یہ گیارہ رکعتیں ہو جاتی تھیں۔ پھر جب نبی ﷺ کی عمر مبارک زیادہ ہو گئی اور جسم بھاری ہو گیا تو آپ ﷺ نے سات وتر پڑھے اور سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کیں، اے میرے بیٹے! یہ نو رکعتیں تھیں۔ اور نبی ﷺ جب کوئی نماز پڑھتے تو اس پر ہمیشگی کو پسند فرماتے تھے، اور جب آپ ﷺ کو رات کے قیام سے نیند، تکلیف یا بیماری مانع ہو جاتی تو آپ ﷺ دن میں بارہ رکعتیں ادا فرما لیتے، اور مجھے معلوم نہیں کہ نبی ﷺ نے کبھی ایک ہی رات میں صبح تک پورا قرآن پڑھا ہو، یا پوری رات صبح تک قیام کیا ہو، یا رمضان کے علاوہ کسی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں۔ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور انہیں یہ حدیث سنائی تو وہ فرمانے لگے: سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے سچ فرمایا ہے، اگر میں ان کے پاس جاتا تو میں ان سے بالمشافہ بات کر لیتا۔
حدیث نمبر: 4811
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو قُدَامَةَ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوٍ مِنْ مَعْنَاهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: " فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلَ اللَّحْمَ صَلَّى سَبْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي السَّادِسَةِ فَيَحْمَدُ اللهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ، ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يَجْلِسُ فِي السَّابِعَةِ فَيَحْمَدُ اللهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ ". وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی ﷺ کی عمر بڑھ گئی اور جسم بھاری ہو گیا تو آپ ﷺ سات رکعات پڑھتے اور چھٹی رکعت میں تشہد کرتے اور اللہ کی حمد و ثنا کرتے، اللہ سے دعا کرتے، پھر کھڑے ہو جاتے، لیکن سلام نہ پھیرتے تھے۔ پھر ساتویں رکعت میں بیٹھ جاتے۔ اللہ کی حمد کرتے، اللہ سے دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سنوا دیا کرتے تھے، پھر بیٹھ کر دو رکعات پڑھتے، اے بیٹے! یہ نو رکعات تھیں۔