کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس نے پانچ یا تین وتر پڑھے، وہ ان کے آخر ہی میں بیٹھے اور سلام پھیرے۔
حدیث نمبر: 4799
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ صَلَاتُهُ مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ بِخَمْسٍ وَلَا يُسَلِّمُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْخَمْسِ حَتَّى يَجْلِسَ فِي الْآخِرَةِ، ثُمَّ يُسَلِّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کی نماز رات کو تیرہ رکعات ہوتی تھی۔ آپ ﷺ پانچ وتر پڑھتے اور ان میں سلام نہ پھیرتے، پھر آخری رکعت میں بیٹھتے اور سلام پھیرتے۔
حدیث نمبر: 4800
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَعَبْدَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِخَمْسٍ، وَلَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ مِنْهَا حَتَّى يَجْلِسَ فِي آخِرِهِنَّ فَيُسَلِّمَ ". ⦗٤١⦘ لَفْظُ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ: كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْ ذَلِكَ بِخَمْسٍ، لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ مِنْهَا إِلَّا فِي آخِرِهَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تیرہ رکعات پڑھا کرتے تھے، ان میں سے پانچ وتر ہوتے، ان پانچ میں نبی ﷺ بیٹھتے نہ تھے اور سلام آخری رکعت میں پھیرتے تھے۔
(ب) ابوبکر کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ کی رات کی نماز تیرہ رکعات ہوتی تھی، ان میں سے پانچ وتر ہوتے اور صرف آخری رکعت میں بیٹھتے تھے۔
(ب) ابوبکر کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ کی رات کی نماز تیرہ رکعات ہوتی تھی، ان میں سے پانچ وتر ہوتے اور صرف آخری رکعت میں بیٹھتے تھے۔
حدیث نمبر: 4801
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَرْقُدُ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ تَسَوَّكَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ يَجْلِسُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُسَلِّمُ، ثُمَّ يُوتِرُ بِخَمْسِ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الْخَامِسَةِ، وَلَا يُسَلِّمُ إِلَّا فِي الْخَامِسَةِ ". وَهَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ هِشَامٍ، وَتَابَعَهُ عَلَى هَذِهِ الرِّوَايَةِ عَنْ عُرْوَةَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " سِتُّ رَكَعَاتٍ مَثْنَى مَثْنَى ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ سو جاتے، جب بیدار ہوتے تو مسواک کرتے اور وضو فرماتے، پھر آٹھ رکعات نماز پڑھتے تو ہر دو رکعات میں بیٹھتے تھے اور سلام پھیرتے، پھر پانچ رکعات پڑھتے۔ صرف پانچویں رکعت میں بیٹھتے اور سلام بھی صرف پانچویں رکعت میں پھیرتے۔
(ب) محمد بن جعفر بن زبیر کی روایت میں یہ لفظ ہیں کہ آپ ﷺ چھ رکعات دو دو کر کے پڑھتے۔
(ب) محمد بن جعفر بن زبیر کی روایت میں یہ لفظ ہیں کہ آپ ﷺ چھ رکعات دو دو کر کے پڑھتے۔
حدیث نمبر: 4802
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيْهِ قَبْلَ الصُّبْحِ، يُصَلِّي سِتًّا مَثْنَى مَثْنَى، وَيُوتِرُ بِخَمْسٍ لَا يَقْعُدُ بَيْنَهُنَّ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تیرہ رکعات پڑھتے، دو رکعتیں صبح کی نماز سے پہلے، چھ رکعات دو دو کر کے اور پانچ وتر، ان کے درمیان بیٹھتے نہ تھے صرف آخری رکعت میں بیٹھتے تھے۔
حدیث نمبر: 4803
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ لَا يَقْعُدُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ ". كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ. وَقَدْ رُوِّينَا فِي حَدِيثِ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ وِتْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتِسْعٍ ثُمَّ بِسَبْعٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سعد بن ہشام حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تین وتر پڑھتے اور صرف آخری رکعت میں بیٹھتے۔
(ب) سعد بن ہشام نبی ﷺ کے وتر کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نو اور کبھی سات وتر بھی پڑھتے۔
(ب) سعد بن ہشام نبی ﷺ کے وتر کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نو اور کبھی سات وتر بھی پڑھتے۔
حدیث نمبر: 4804
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: بِكُمْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ؟ قَالَتْ: " كَانَ يُوتِرُ بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ، وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ، وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ، وَعَشْرٍ وَثَلَاثٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ، وَلَا بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِ عَشْرَةَ ". زَادَ أَحْمَدُ: وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، قُلْتُ: مَا يُوتِرُ؟ قَالَتْ: " لَمْ يَكُنْ يَدَعْ ذَلِكَ ". ⦗٤٢⦘ وَلَمْ يَذْكُرْ أَحْمَدُ: وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ، وَهَذَا يَحْتَمِلُ أَنْ يُرِيدَ بِهِ ثَلَاثًا لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِجُلُوسٍ وَلَا تَسْلِيمٍ، فَيَكُونُ فِي مَعْنَى رِوَايَةِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى رِوَايَةِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِي الْوِتْرِ بِخَمْسِ رَكَعَاتٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی قیس فرماتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی ﷺ کے وتر کتنے تھے؟ وہ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ چار اور تین، چھ اور تین، آٹھ اور تین، دس اور تین اور سات سے کم وتر نہیں پڑھتے تھے اور نہ تیرہ سے زیادہ اور احمد رحمہ اللہ نے زیادہ کیا ہے کہ آپ ﷺ فجر کی دو رکعات سے وتر نہیں پڑھتے تھے۔ میں نے کہا: آپ ﷺ کے وتر کیسے تھے؟ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے اس کو کبھی نہیں چھوڑا۔ احمد رحمہ اللہ نے چھ اور تین کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ ممکن ہے ان کی مراد یہ ہو کہ آپ ﷺ تین وتر پڑھتے تھے، نہ تو درمیان میں بیٹھتے اور نہ سلام پھیرتے تھے۔
(ب) ہشام بن عروہ رحمہ اللہ وتر کی پانچ رکعات کے متعلق فرماتے ہیں۔
(ب) ہشام بن عروہ رحمہ اللہ وتر کی پانچ رکعات کے متعلق فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4805
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ. قَالَ: فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَحَوَّلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ أَوْ قَالَ: خَطِيطَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری۔ نبی ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھی، اس کے بعد چار رکعات ادا کیں۔ پھر سو گئے، پھر کھڑے ہوئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ ﷺ نے مجھے اپنے دائیں جانب کر لیا اور پانچ رکعات پڑھیں، پھر دو رکعت نماز ادا کی، پھر سو گئے، حتیٰ کہ میں نے آپ ﷺ کے خراٹوں کی آواز سنی، پھر آپ ﷺ نماز کی طرف چلے گئے۔
حدیث نمبر: 4806
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ سُهَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بَعَثَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، وَكَانَتْ لَيْلَةَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ خَالَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَوَجَدَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " فَاضْطَجَعْتُ فِي حُجْرَتِهِ فَجَعَلْتُ فِي نَفْسِي أَنْ أُحْصِيَ كَمْ يُصَلِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَجَاءَ وَأَنَا مُضْطَجِعٌ فِي الْحُجْرَةِ بَعْدَ أَنْ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، ثُمَّ قَالَ: " ارْقُدْ أَوْ بَعْدُ ". قَالَ: ثُمَّ تَنَاوَلَ مِلْحَفَةً عَلَى مَيْمُونَةَ فَارْتَدَى بِبَعْضِهَا وَعَلَيْهَا بَعْضُهَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِخَمْسٍ لَمْ يَجْلِسْ بَيْنَهُنَّ، ثُمَّ قَعَدَ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ فَأَكْثَرَ مِنَ الثَّنَاءِ، ثُمَّ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ أَنْ قَالَ: " اللهُمَّ اجْعَلْ لِي نُورًا فِي قَلْبِي، وَاجْعَلْ لِي نُورًا فِي سَمْعِي، وَاجْعَلْ لِي نُورًا فِي بَصَرِي، وَاجْعَلْ لِي نُورًا عَنْ يَمِينِي، وَنُورًا عَنْ شِمَالِي وَاجْعَلْ لِي نُورًا بَيْنَ يَدِيَّ، وَنُورًا خَلْفِي، وَزِدْنِي نُورًا، وَزِدْنِي نُورًا ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے ان کو نبی ﷺ کی طرف کسی کام کے لیے بھیجا۔ اس دن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی باری تھی۔ وہ ان کے پاس گئے، نبی ﷺ اس وقت مسجد میں تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے حجرہ میں لیٹ گیا۔ میں اپنے دل میں کہہ رہا تھا کہ آج میں شمار کروں گا کہ نبی ﷺ کتنی نماز پڑھتے ہیں۔ آپ ﷺ رات کا کچھ حصہ گزر جانے کے بعد آئے، میں آپ ﷺ کے حجرہ میں لیٹا ہوا تھا۔ پھر فرمایا: ”سوجاؤ“، آپ ﷺ نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے چادر لی، اس کا بعض حصہ نبی ﷺ کے اوپر تھا اور کچھ حصہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے اوپر تھا۔ پھر آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر دو رکعات پڑھیں۔ پھر آٹھ رکعات ادا کیں۔ پھر آپ ﷺ نے پانچ وتر پڑھے، درمیان میں نہیں بیٹھے۔ پھر آپ ﷺ بیٹھے تو اللہ کی تعریف کی، جس کا وہ اہل تھا۔ آپ ﷺ نے بہت زیادہ ثنا کی اور آخر میں یہ الفاظ فرمائے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَاللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، اللَّهُمَّ اجْعَلْ عَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ شِمَالِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا» ”اے اللہ! میرے دل میں نور بنا، اے اللہ! میرے کانوں میں نور بنا دے اور میری آنکھوں میں نور بنا دے، اے اللہ! میرے دائیں، بائیں، آگے اور پیچھے نور بنا دے اور مجھے نور میں زیادہ کر، مجھے نور میں زیادہ کر۔“
حدیث نمبر: 4807
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عُرْوَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، " أَنَّ زَيْدًا كَانَ يُوتِرُ بِخَمْسٍ لَا يُسَلِّمُ إِلَّا فِي الْخَامِسَةِ ". وَكَانَ أَبِي يَفْعَلُهُ. كَذَا وَجَدْتُهُ فِي الْكِتَابِ: أَبِي مُقَيَّدًا.
حافظ ثناء اللہ
اسماعیل بن زید بن ثابت رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ پانچ وتر پڑھتے تھے اور صرف آخری رکعت میں سلام پھیرتے تھے اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4808
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ السَّمَرْقَنْدِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ قَالَ: قِيلَ لِلْحَسَنِ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُسَلِّمُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الْوِتْرِ، فَقَالَ: " كَانَ عُمَرُ أَفْقَهَ مِنْهُ، كَانَ يَنْهَضُ فِي الثَّالِثَةِ بِالتَّكْبِيرِ ".
حافظ ثناء اللہ
حبیب معلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما وتر کی دو رکعات میں سلام پھیرتے تھے۔ وہ کہنے لگے: ابن عمر رضی اللہ عنہما ان سے زیادہ سمجھدار تھے، وہ تو تیسری رکعت میں تکبیر کے ذریعہ اٹھتے تھے۔
حدیث نمبر: 4809
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا: ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ " أَنَّهُ كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ، وَلَا يَتَشَهَّدُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ.
حافظ ثناء اللہ
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ، عطا رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ تین وتر پڑھتے تھے اور درمیان میں نہ بیٹھتے تھے اور تشہد بھی آخری رکعت میں پڑھتے تھے۔