کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ایک رکعت وتر پڑھنے اور اس شخص کا بیان جس نے ایک رکعت نفل پڑھنے کی اجازت دی۔
حدیث نمبر: 4764
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعات ہیں۔ جب تم میں سے کسی کو صبح کا ڈر ہو تو وہ ایک رکعت پڑھ لے اور جو اس نے پڑھ لی ہے وتر بنا دے۔“
حدیث نمبر: 4765
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: كَيْفَ يُصَلِّي أَحَدُنَا بِاللَّيْلِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ تُوتِرُ لَكَ مَا مَضَى مِنْ صَلَاتِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو سنا، وہ نبی ﷺ سے سوال کر رہا تھا اور آپ ﷺ منبر پر تھے کہ ہم میں سے کوئی رات کی نماز کیسے پڑھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو دو رکعات، پھر جب تمہیں صبح کا اندیشہ ہو تو اپنی پڑھی ہوئی نماز کو وتر بنانے کے لیے ایک رکعت مزید پڑھ لو۔“
حدیث نمبر: 4766
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ فَقَالَ: " مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِرَكْعَةٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَكِّيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے رات کی نماز کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو دو رکعات، جب آپ کو صبح ہونے کا ڈر ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لو۔“
حدیث نمبر: 4767
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنَي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ: " مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ ". وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مسلمانوں میں سے کسی نے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! رات کی نماز کیسے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو دو رکعات، جب آپ کو صبح ہونے کا ڈر ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لو۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہر دو رکعات پر سلام پھیرتے تھے، پھر ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 4768
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رات کے آخری حصہ میں وتر ایک رکعت ہے۔“
حدیث نمبر: 4769
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو مجلز فرماتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”وتر ایک رکعت ہے رات کے آخری حصے میں۔“
حدیث نمبر: 4770
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
ابومجلز فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”وہ رات کے آخری حصہ میں ایک رکعت ہے۔“
حدیث نمبر: 4771
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ بِلَالٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْوِتْرِ، وَأَنَا بَيْنَهُمَا فَقَالَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى، فَإِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَأَوْتِرْ بِرَكْعَةٍ، ثُمَّ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ " يُرِيدُ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ. قَالَ عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ: وَقَالَ لَاحِقُ بْنُ حُمَيْدٍ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " بَادِرِ الصُّبْحَ بِرَكْعَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک شخص آیا اور اس نے نبی ﷺ سے وتر کے بارے میں سوال کیا اور میں ان کے درمیان تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعات ہیں۔ جب رات کا آخری حصہ ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ، پھر فجر سے پہلے دو رکعات پڑھ۔“ یعنی نماز فجر سے پہلے دو رکعات۔
(ب) عاصم احول اور لاحق بن حمید اس کی مثل حدیث بیان کرتے ہیں، اس میں کچھ الفاظ زائد ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو صبح سے پہلے جلدی ایک رکعت پڑھ۔“
(ب) عاصم احول اور لاحق بن حمید اس کی مثل حدیث بیان کرتے ہیں، اس میں کچھ الفاظ زائد ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو صبح سے پہلے جلدی ایک رکعت پڑھ۔“
حدیث نمبر: 4772
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَجُلًا نَادَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ أُوْتِرُ صَلَاةَ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى فَلْيُصَلِّ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِنْ خَشِيَ أَنْ يُصْبِحَ سَجَدَ سَجْدَةً، فَأَوْتَرَتْ لَهُ مَا صَلَّى ". ⦗٣٤⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَغَيْرِهِ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کو بتایا کہ ایک شخص نے نبی ﷺ کو آواز دی اور آپ ﷺ مسجد میں تھے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں رات کی نماز کو طاق کیسے بناؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو رات کو نماز پڑھے تو دو دو رکعات نماز ادا کرے، اگر وہ صبح ہونے سے ڈرے تو اپنی پڑھی ہوئی نماز کو وتر بنا لے یعنی ایک رکعت مزید ادا کرلے۔“
حدیث نمبر: 4773
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ حُرَيْثٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا رَأَيْتَ أَنَّ الصُّبْحَ يُدْرِكُكَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ ". قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: مَا مَثْنَى مَثْنَى؟ قَالَ: مُتَسَلِّمٌ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بَشَّارٍ، وَفِي رِوَايَةِ آدَمَ " فَأَوْتِرْ بِرَكْعَةٍ " فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ: مَا مَثْنَى مَثْنَى؟ فَقَالَ: " السَّلَامُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ ". وَقَالَ فِي إِسْنَادِهِ عَنْ شُعْبَةَ ثنا عُقْبَةُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ: يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَثْنَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ.
حافظ ثناء اللہ
شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عقبہ بن حریث سے سنا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعتیں ہیں۔ اگر تمہیں یہ خطرہ ہو کہ صبح کا وقت ہو جائے گا تو ایک رکعت وتر پڑھ لو۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: دو دو سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہر دو رکعت پر سلام پھیرنا۔
(ب) آدم کی روایت میں ہے: ”ایک رکعت وتر پڑھ لو۔“ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: دو دو سے کیا مراد ہے؟ وہ کہتے ہیں: دو رکعات کے بعد سلام پھیرنا۔
(ب) آدم کی روایت میں ہے: ”ایک رکعت وتر پڑھ لو۔“ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: دو دو سے کیا مراد ہے؟ وہ کہتے ہیں: دو رکعات کے بعد سلام پھیرنا۔
حدیث نمبر: 4774
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْهَا اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو گیارہ رکعات پڑھا کرتے تھے۔ ان میں ایک وتر پڑھتے تھے۔ جب آپ ﷺ فارغ ہوتے تو دائیں جانب لیٹ جاتے۔ جب مؤذن آتا تو آپ ﷺ دو ہلکی رکعات ادا کرتے۔
حدیث نمبر: 4775
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ ابْنُ أَبِي ذِيبٍ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، وَيَسْجُدُ سَجْدَةً قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ، قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلْإِقَامَةِ فَيَخْرُجَ مَعَهُ ". قَالَ: وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ فِي قِصَّةِ الْحَدِيثِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَرْمَلَةَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ وَيُونُسَ بْنِ يَزِيدَ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نبی ﷺ کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد فجر تک گیارہ رکعات پڑھتے تھے اور ہر دو رکعات کے بعد سلام پھیرتے تھے۔ ایک رکعت وتر پڑھتے تھے اور سجدہ اتنا لمبا فرماتے تھے، جتنے وقت میں تم میں سے کوئی پچاس آیت کی تلاوت کر لے اور جب مؤذن فجر کی اذان سے خاموش ہوتا اور فجر واضح ہو جاتی تو آپ ﷺ کھڑے ہو کر دو ہلکی رکعات ادا کرتے۔ پھر دائیں جانب لیٹ جاتے۔ پھر مؤذن اقامت کے لیے آتا تو آپ ﷺ اس کے ساتھ چلے جاتے۔
حدیث نمبر: 4776
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدُ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ⦗٣٥⦘ أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا قُرَيْشُ بْنُ حَيَّانَ الْعِجْلِيُّ، ثنا بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوِتْرُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وتر ہر مسلمان پر ضروری ہے۔ جس کو زیادہ محبوب ہو کہ وہ پانچ وتر پڑھے تو وہ ایسا کرے اور جس کو پسند ہو کہ وہ تین وتر پڑھے تو وہ ایسا کرے اور جس کو پسند ہو کہ وہ ایک وتر پڑھے تو وہ ایسا کرلے۔“
حدیث نمبر: 4777
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْوِتْرَ حَقٌّ، فَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِخَمْسٍ، وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ، وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”وتر حق ہے، جو چاہے پانچ یا تین وتر پڑھ لے اور جو ایک پڑھنا چاہے تو ایک پڑھ لے۔“
حدیث نمبر: 4778
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْتِرْ بِخَمْسٍ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَبِثَلَاثٍ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَبِوَاحِدَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَأَوْمِئْ إِيمَاءً ".
حافظ ثناء اللہ
ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ وتر پڑھو، اگر پانچ کی طاقت نہیں تو تین وتر پڑھو۔ اگر تین کی طاقت نہیں تو ایک وتر پڑھو۔ وگرنہ اشارے سے ادا کرلو۔“
حدیث نمبر: 4779
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ، وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ، وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ، وَمَنْ غُلِبَ فَلْيُومِئْ إِيمَاءً ". اتَّفَقَ هَؤُلَاءِ عَلَى رَفْعِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَتَابَعَهُمْ عَلَى ذَلِكَ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ مِنْ رِوَايَةِ وُهَيْبٍ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وتر ثابت ہے (حق ہے)، جو سات وتر پڑھنا چاہے اور جو تین وتر پڑھنا چاہے اور جو ایک وتر پڑھنا چاہے، جو اس سے بھی عاجز آ جائے تو وہ اشارے سے پڑھ لے۔“
حدیث نمبر: 4780
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: " الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيُومِئْ إِيمَاءً ". وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ مَوْقُوفًا عَلَى أَبِي أَيُّوبَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ مَوْقُوفًا عَلَى أَبِي أَيُّوبَ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرَوَيْهِ، ⦗٣٦⦘ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَقُولُ هَذَا الْحَدِيثَ بِرِوَايَةِ يُونُسَ، وَالزُّبَيْدِيِّ، وَابْنِ عُيَيْنَةَ، وَشُعَيْبٍ، وَابْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، وَعَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ أَشْبَهُ أَنْ يَكُونَ غَيْرَ مَرْفُوعٍ، وَإِنَّهُ لَيَتَخَالَجُ فِي النَّفْسِ مِنْ رِوَايَةِ الْبَاقِينَ مَعَ رِوَايَةِ وُهَيْبٍ عَنْ مَعْمَرٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمُ التَّطَوُّعَ أَوِ الْوِتْرَ بِرَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ مَفْصُولَةٍ عَمَّا قَبْلَهَا مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وتر حق ہے، جو پانچ وتر پڑھنا پسند کرے وہ ایسا کرے اور جو تین وتر پڑھنا پسند کرے وہ ایسا کرلے اور جو ایک وتر پڑھنا پسند کرے تو وہ ایسا کرلے، جو اس کی بھی طاقت نہ رکھے تو وہ اشارہ سے پڑھ لے۔“
(ب) صحابہ کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ نفل نماز یا وتر الگ ایک رکعت ادا کرنی چاہیے، انہی میں سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔
(ب) صحابہ کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ نفل نماز یا وتر الگ ایک رکعت ادا کرنی چاہیے، انہی میں سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔
حدیث نمبر: 4781
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خُمَيْرٍ، وَثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ: مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكَعَ رَكْعَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ انْطَلَقَ، فَلَحِقَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا رَكَعْتَ إِلَّا رَكْعَةً وَاحِدَةً، قَالَ: " هُوَ التَّطَوُّعُ، فَمَنْ شَاءَ زَادَ، وَمَنْ شَاءَ نَقَصَ ". رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ قَابُوسَ. وَمِنْهُمْ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
قابوس بن ابی ظبیان فرماتے ہیں کہ ان کے والد فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسجد نبوی کے پاس سے گزرے تو ایک رکعت نماز ادا کی، پھر چلے تو پیچھے سے ایک شخص آ ملا اور کہا: اے امیر المؤمنین! آپ نے صرف ایک رکعت نماز ادا کی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: یہ نفل نماز ہے، جو چاہے ایک رکعت پڑھ لے اور جو چاہے زیادہ کر لے، کم کر لے۔
حدیث نمبر: 4782
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: " قُمْتُ خَلْفَ الْمَقَامِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ لَا يَغْلِبَنِي عَلَيْهِ أَحَدٌ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَإِذَا رَجُلٌ يَغْمِزُنِي فَلَمْ أَلْتَفِتْ، ثُمَّ غَمَزَنِي فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَتَنَحَّيْتُ فَتَقَدَّمَ، فَقَرَأَ الْقُرْآنَ فِي رَكْعَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مقامِ ابراہیم کے پیچھے کھڑا ہوگیا اور میں نے ارادہ کرلیا کہ آج کی رات اس جگہ کسی کو کھڑے نہیں ہونے دوں گا۔ اچانک ایک شخص مجھے کچوکے مارنے لگا، میں نے اس کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ پھر اس نے مجھے کچوکا مارا تو میں نے مڑ کر دیکھا، وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔ میں پیچھے ہٹ گیا تو وہ آگے بڑھے اور انہوں نے ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھ دیا۔
حدیث نمبر: 4783
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا فُلَيْحٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: قُلْتُ: " لَأَغْلِبَنَّ عَلَى الْمَقَامِ اللَّيْلَةَ، فَسَبَقْتُ إِلَيْهِ، فَبَيْنَمَا أَنَا قَائِمٌ ⦗٣٧⦘ أُصَلِّي إِذَا رَجُلٌ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى ظَهْرِي قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرٌ، فَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ، فَقَامَ فَافْتَتَحَ الْقُرْآنَ حَتَّى فَرَغَ مِنْهُ، ثُمَّ رَكَعَ وَجَلَسَ وَتَشَهَّدَ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ لَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّمَا صَلَّيْتَ رَكْعَةً، قَالَ: " هِيَ وِتْرِي ". وَمِنْهُمْ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: آج رات میں مقامِ ابراہیم پر ضرور کھڑا ہوں گا، تو میں سب سے پہلے پہنچ گیا، میں نماز پڑھ رہا تھا تو ایک شخص نے اپنا ہاتھ میری کمر پر رکھا، میں نے دیکھا وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔ ان دنوں وہ امیر المومنین بھی تھے۔ میں پیچھے ہٹ گیا۔ وہ کھڑے ہوئے، انہوں نے مکمل قرآن پڑھ دیا، پھر رکوع کیا اور بیٹھ گئے، پھر تشہد پڑھ کر ایک رکعت میں سلام پھیر دیا، اس پر زیادہ نہیں کیا۔ جب فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا: اے امیر المومنین! ایک رکعت؟ تو وہ کہنے لگے: یہ میرا وتر ہے۔
حدیث نمبر: 4784
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَوْثَرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمِّهِ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قِيلَ لِسَعْدٍ: إِنَّكَ تُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، قَالَ: " نَعَمْ، سَبْعٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ خَمْسٍ، وَخَمْسٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ ثَلَاثٍ، وَثَلَاثٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ وَاحِدَةٍ، وَلَكِنْ أُخَفِّفُ عَنْ نَفْسِي ".
حافظ ثناء اللہ
مصعب بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سعد رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: کیا آپ ایک رکعت وتر پڑھتے ہیں؟ کہنے لگے: ہاں۔ سات وتر مجھے پانچ سے زیادہ پسند ہیں اور پانچ وتر مجھے تین سے زیادہ پسند ہیں اور تین وتر مجھے ایک سے زیادہ پسند ہیں، لیکن میں اپنے اوپر تخفیف کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 4785
وَأَخْبَرَنَا يَحْيَى، أنبأ مُحَمَّدٌ، ثنا بِشْرٌ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ: رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُصَلِّي الْعِشَاءَ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا رَكْعَةً ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن شرحبیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ عشاء کی نماز پڑھتے اور اس کے بعد ایک رکعت۔
حدیث نمبر: 4786
وَأَخْبَرَنَا يَحْيَى، أنبأ مُحَمَّدٌ، ثنا بِشْرٌ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْعُذْرِيِّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَسَحَ عَلَى وَجْهِهِ، قَالَ: " رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ أَوْتَرَ بِرَكْعَةٍ " زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ عَنْ يُونُسَ: حَتَّى يَقُومَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ شُعَيْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ. وَمِنْهُمْ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ثعلبہ عذری رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ہیں، انہوں نے اپنے منہ پر ہاتھ پھیرا۔ فرماتے ہیں: میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے عشاء کی نماز ادا کی، پھر ایک رکعت پڑھی اور یونس کی روایت میں ہے کہ انہوں نے آدھی رات تک قیام کیا۔
حدیث نمبر: 4787
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ: " أَنَّهُ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي رَكْعَةٍ ". وَمِنْهُمْ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک رکعت میں مکمل قرآن پڑھا۔
حدیث نمبر: 4788
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، أَنَّ أَبَا ⦗٣٨⦘ مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ كَانَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَةً أَوْتَرَ بِهَا فَقَرَأَ بِمِائَةِ آيَةٍ مِنَ النِّسَاءِ، ثُمَّ قَالَ: " مَا آلَوْتُ أَنْ أَضَعَ قَدَمِيَّ حَيْثُ وَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَمَيْهِ، وَأَنْ أَقْرَأَ بِمَا قَرَأَ بِهِ ". وَمِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
ابو مجلز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے، انہوں نے عشاء کی دو رکعات پڑھیں، پھر ایک رکعت وتر پڑھی، پھر سورہ نساء کی سو آیات کی تلاوت کی، پھر کہنے لگے: میں ذرا بھی کمی بیشی نہ کروں گا، میں اپنے قدم وہاں رکھوں گا جہاں نبی ﷺ نے اپنے قدم رکھے تھے اور میں بھی وہاں سے پڑھوں گا جہاں سے نبی ﷺ نے پڑھا تھا۔
حدیث نمبر: 4789
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُسَلِّمُ مِنَ الرَّكْعَةِ وَالرَّكْعَتَيْنِ فِي الْوِتْرِ حَتَّى يَأْمُرَ بِبَعْضِ حَاجَتِهِ ". وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ: مِنَ الْوِتْرِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما وتر کی ایک یا دو رکعات میں سلام پھیر دیتے اور اپنے کسی کام کا حکم بھی دے دیتے۔
حدیث نمبر: 4790
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى التِّنِّيسِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَخْزُومِيُّ قَالَ: أُتِيَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بِرَجُلٍ فَقَالَ: كَيْفَ أُوتِرُ؟ قَالَ: " أَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ ". قَالَ: إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَقُولَ النَّاسُ: إِنَّهَا الْبُتَيْرَاءُ. قَالَ: قَالَ: " أَسُنَّةُ اللهِ وَرَسُولِهِ تُرِيدُ؟ هَذِهِ سُنَّةُ اللهِ وَرَسُولِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
مطلب بن عبداللہ مخزومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا، اس نے عرض کیا: میں وتر کیسے پڑھوں؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک وتر پڑھ۔ وہ کہنے لگا: میں ڈرا تھا کہ لوگ کہیں گے: یہ بتیرا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کیا تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کا ارادہ رکھتا ہے؟ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا طریقہ ہے۔
حدیث نمبر: 4791
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الصَّغَانِيُّ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَنْصُورٍ مَوْلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ وِتْرِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: " يَا بُنَيَّ، هَلْ تَعْرِفُ وِتْرَ النَّهَارِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، الْمَغْرِبُ، قَالَ: " صَدَقْتَ، وِتْرُ اللَّيْلِ وَاحِدَةٌ، بِذَلِكَ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ: إِنَّ تِلْكَ الْبُتَيْرَاءُ. قَالَ: " يَا بُنَيَّ، لَيْسَ تِلْكَ الْبُتَيْرَاءَ، إِنَّمَا الْبُتَيْرَاءُ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ الرَّكْعَةَ التَّامَّةَ فِي رُكُوعِهَا وَسُجُودِهَا وَقِيَامِهَا، ثُمَّ يَقُومُ فِي الْأُخْرَى فَلَا يُتِمُّ لَهَا رُكُوعًا وَلَا سُجُودًا وَلَا قِيَامًا، فَتِلْكَ الْبُتَيْرَاءُ ". ⦗٣٩⦘ وَمِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
سعد بن ابی وقاص کے آزاد کردہ غلام ابو منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رات کے وتر کے بارے میں سوال کیا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اے بیٹا! کیا دن کے وتروں کو جانتے ہو؟“ میں نے کہا: ہاں وہ مغرب ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، لیکن رات کا صرف ایک وتر ہے جس کا رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا۔“ میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! لوگ تو اس کو بتیرا کہتے ہیں۔ کہنے لگے: ”اے بیٹا! یہ بتیرا نہیں ہوتا، بتیرا تو یہ ہے کہ آدمی ایک رکعت مکمل رکوع، سجود اور قیام کے ساتھ پڑھے اور دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو تو نہ رکوع و سجود مکمل کرے اور نہ قیام۔“ ان میں عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما ہیں۔
حدیث نمبر: 4792
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، وَسُئِلَ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ قَالَ: حَدَّثَنِي عَسَلُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: " صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عَبَّاسٍ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: " أَلَا أُعَلِّمُكَ الْوِتْرَ؟ " قُلْتُ: بَلَى، فَقَامَ فَرَكَعَ رَكْعَةً ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عشاء کی نماز سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پہلو میں پڑھی، جب وہ فارغ ہوئے تو کہنے لگے: کیا میں تجھے وتر نہ سکھا دوں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، انہوں نے ایک رکعت پڑھی۔
حدیث نمبر: 4793
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْإِسْفَرَايِينِيُّ ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ قَالَ: " رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ صَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ أَوْتَرَ بِرَكْعَةٍ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: " أَصَابَ ".
حافظ ثناء اللہ
کریب فرماتے ہیں: میں نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر ایک رکعت وتر پڑھا۔ میں نے اس بات کا تذکرہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس کیا تو وہ فرمانے لگے: انہوں نے درست کیا۔
حدیث نمبر: 4794
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُتْبَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ: " أَنَّهُ رَأَى مُعَاوِيَةَ صَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ أَوْتَرَ بِرَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ لَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا "، فَأَخْبَرَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: " أَصَابَ، أَيْ بُنَيَّ، لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا أَعْلَمَ مِنْ مُعَاوِيَةَ، هِيَ وَاحِدَةٌ أَوْ خَمْسٌ أَوْ سَبْعٌ إِلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، الْوِتْرِ مَا شَاءَ ". وَمِنْهُمْ أَبُو أَيُّوبَ خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب فرماتے ہیں کہ میں نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو عشاء کی نماز پڑھتے دیکھا، پھر انہوں نے ایک رکعت وتر پڑھا، اس پر کچھ زائد نہیں کیا۔ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خبر دی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ہم میں سے کوئی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ نہیں جانتا۔ وتر ایک، پانچ، سات یا اس سے بھی زائد ہو سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4795
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ثنا عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ثُمَّ الْجُنْدَعِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ إِلَّا أَنْ يَوْمِئَ بِرَأْسِهِ فَلْيَفْعَلْ ". وَمِنْهُمْ مُعَاذُ بْنُ الْحَارِثِ أَبُو حَلِيمَةَ الْقَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، شَهِدَ الْجِسْرَ مَعَ أَبِي عُبَيْدٍ الثَّقَفِيِّ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَدْ قِيلَ: لَهُ صُحْبَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یزید لیثی رحمہ اللہ نے ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ ”وتر حق ہے، جو پانچ وتر پڑھنا چاہے وہ پڑھے، اور جو تین وتر پڑھنا چاہے وہ تین پڑھ لے، اور جو ایک وتر پڑھنا چاہے وہ ایک پڑھ لے، اور جو طاقت نہ رکھے تو وہ اپنے سر کے اشارے سے پڑھ لے، وہ ایسا کر سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 4796
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ: قَالَ نَافِعٌ: " كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ مَا قُدِّرَ لَهُ سَجْدَتَيْنِ سَجْدَتَيْنِ، فَإِنْ خَشِيَ الصُّبْحَ صَلَّى وَاحِدَةً، فَجَعَلَهَا آخِرَ ⦗٤٠⦘ صَلَاتِهِ، وَنَزَلَ وَسَلَّمَ فِي السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ فِي إِثْرِهِمَا الْوِتْرُ، ثُمَّ كَبَّرَ فَصَلَّى الْوِتْرَ. وَقَالَ: قَالَ نَافِعٌ: سَمِعْتُ مُعَاذًا الْقَارِئَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ". تَابَعَهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ عَنْهُمَا جَمِيعًا. وَمِنْهُمْ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات کو دو دو رکعات نماز پڑھتے تھے، جو ان کے مقدر میں ہوتی۔ اگر صبح ہونے کا ڈر ہوتا تو ایک رکعت پڑھتے، یہ ان کی نماز کے آخر میں ہوتی۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیٹھ جاتے اور ان دو رکعات میں سلام پھیرتے، جس کے بعد وتر ہوتا تھا۔ پھر «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے اور وتر پڑھ لیتے۔ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: معاذ القاری رحمہ اللہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4797
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ سَلْمٍ الْبَجَلِيُّ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: " أَوْتَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ الْعِشَاءِ بِرَكْعَةٍ، وَعِنْدَهُ مَوْلًى لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ: " دَعْهُ؛ فَإِنَّهُ قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ بِشْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عشا کے بعد ایک رکعت وتر پڑھا تو ان کے پاس ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب رحمہ اللہ بھی تھے۔ کریب رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بتایا تو وہ فرمانے لگے: ان کو چھوڑو وہ نبی ﷺ کے صحابی ہیں۔
حدیث نمبر: 4798
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَانَ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو مَنْصُورٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْحَلَبِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِمَامُ قَالَا: ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْفَارِيَابِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: " هَلْ لَكَ فِي مُعَاوِيَةَ؟ مَا أُوتِرَ إِلَّا بِرَكْعَةٍ قَالَ: أَصَابَ؛ إِنَّهُ فَقِيهٌ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ الْجُمَحِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: آپ کا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا خیال ہے وہ صرف ایک وتر ہی پڑھتے ہیں؟ تو وہ فرمانے لگے: اس نے درست کام کیا وہ فقیہ شخص ہے۔