أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْأَغَرِّ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَنْزِلُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، وَمَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، وَمَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ". لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَفِي رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ وَالْقَعْنَبِيِّ: عَنْ عَنْ، لَمْ يَذْكُرَا الْوَاوَ، وَقَدَّمَا أَبَا سَلَمَةَ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللهِ الْأَغَرِّ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہر رات آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں، جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”کون ہے جو مجھ سے دعا کرے، میں اس کی دعا کو قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے، میں اس کو عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے استغفار کرے، میں اس کو معاف کر دوں؟“”
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، ثنا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ مَرْجَانَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَنْزِلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا لِشَطْرِ اللَّيْلِ، أَوْ لِثُلُثِ اللَّيْلِ الْآخِرِ، فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، أَوْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، ثُمَّ يَقُولُ: مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ عَدِيمٍ، وَلَا ظَلُومٍ ". ⦗٤⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الشَّاعِرِ عَنْ مُحَاضِرٍ..
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مرجانہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نصف رات یا رات کے آخری تہائی میں تشریف لاتے ہیں اور فرماتے ہیں: کون ہے جو مجھ سے دعا کرے میں اس کی دعا کو قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے مانگے میں اس کو عطا کروں؟ پھر فرماتے ہیں: کون ہے جو قرضہ دے اور اس کے قرضے میں ظلم بھی نہ کیا جائے اور ہڑپ بھی نہ کیا جائے۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: سُئِلَ الْأَوْزَاعِيُّ وَمَالِكٌ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ الَّتِي جَاءَتْ فِي التَّشْبِيهِ، فَقَالُوا: أَمِرُّوهَا كَمَا جَاءَتْ بِلَا كَيْفِيَّةٍ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أَنْبَأَ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ الْفَارِسِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمِهْرِقَانِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، وَهُوَ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ: كَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَشَرِيكٌ، وَأَبُو عَوَانَةَ، لَا يُحِدُّونَ، وَلَا يُشَبِّهُونَ، وَلَا يُمَثِّلُونَ، يَرْوُونَ الْحَدِيثَ وَلَا يَقُولُونَ كَيْفَ، وَإِذَا سُئِلُوا أَجَابُوا بِالْأَثَرِ.
حافظ ثناء اللہ
ولید بن مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اوزاعی، مالک، سفیان اور لیث بن سعد رحمہم اللہ سے ان احادیث کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا: ان کو ویسے ہی مانا جائے گا بغیر کیفیت معلوم کیے۔
(ب) ابو داؤد طیالسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری، شعبہ، حماد بن زید، حماد بن سلمہ، شریک اور ابو عوانہ رحمہم اللہ ان احادیث کو روایت کرتے ہوئے تشبیہ و تمثیل نہیں دیتے تھے اور نہ ہی کیفیت بیان کرتے تھے، جب ان سے پوچھا جاتا تو وہ کہتے: آثار میں سے ہیں۔
(ب) ابو داؤد طیالسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری، شعبہ، حماد بن زید، حماد بن سلمہ، شریک اور ابو عوانہ رحمہم اللہ ان احادیث کو روایت کرتے ہوئے تشبیہ و تمثیل نہیں دیتے تھے اور نہ ہی کیفیت بیان کرتے تھے، جب ان سے پوچھا جاتا تو وہ کہتے: آثار میں سے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ أَحْمَدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ: " حَدِيثُ النُّزُولِ قَدْ ثَبَتَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وُجُوهٍ صَحِيحَةٍ وَوَرَدَ فِي التَّنْزِيلِ مَا يُصَدِّقُهُ، وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا} [الفجر: ٢٢]، وَالنُّزُولُ وَالْمَجِيءُ صِفَتَانِ مَنْفِيَّتَانِ عَنِ اللهِ تَعَالَى مِنْ طَرِيقِ الْحَرَكَةِ وَالِانْتِقَالِ مِنْ حَالٍ إِلَى حَالٍ بَلْ هُمَا صِفَتَانِ مِنْ صِفَاتِ اللهِ تَعَالَى بِلَا تَشْبِيهٍ جَلَّ اللهُ تَعَالَى عَمَّا تَقُولُ الْمُعَطِّلَةُ لِصِفَاتِهِ، وَالْمُشَبِّهَةُ بِهَا عُلُوًّا كَبِيرًا ". قُلْتُ: وَكَانَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ رَحِمَهُ اللهُ يَقُولُ: إِنَّمَا يُنْكِرُ هَذَا وَمَا أَشْبَهَهُ مِنَ الْحَدِيثِ مَنْ يَقِيسُ الْأُمُورَ فِي ذَلِكَ بِمَا يُشَاهِدُهُ مِنَ النُّزُولِ الَّذِي هُوَ تَدَلِّي مِنْ أَعْلَى إِلَى أَسْفَلَ، وَانْتِقَالٌ مِنْ فَوْقٍ إِلَى تَحْتٍ وَهَذِهِ صِفَةُ الْأَجْسَامِ وَالْأَشْبَاحِ، فَأَمَّا نُزُولُ مَنْ لَا تَسْتَوْلِي عَلَيْهِ صِفَاتُ الْأَجْسَامِ فَإِنَّ هَذِهِ الْمَعَانِيَ غَيْرُ مُتَوَهَّمَةٍ فِيهِ، وَإِنَّمَا هُوَ خَبَرٌ عَنْ قُدْرَتِهِ وَرَأْفَتِهِ بِعِبَادِهِ، وَعَطْفِهِ عَلَيْهِمْ، وَاسْتِجَابَتِهِ دُعَاءَهُمْ، وَمَغْفِرَتِهِ لَهُمْ، يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ لَا يَتَوَجَّهُ عَلَى صِفَاتِهِ كَيْفِيَّةٌ وَلَا عَلَى أَفْعَالِهِ كَمِّيَّةٌ، سُبْحَانَهُ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا آسمانِ دنیا پر آنا نبی ﷺ سے صحیح احادیث سے ثابت ہے اور اللہ تعالیٰ کے قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے ﴿وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا﴾ [سورة الفجر: 22]، اترنے اور آنے کی دونوں صفات اللہ تعالیٰ سے حرکت کے اعتبار سے نفی نہیں ہیں اور ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہونے کے اعتبار سے بھی، بلکہ یہ دونوں صفات اللہ کے لیے بغیر تشبیہ کے ثابت ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ تو معطلہ اور مشبہہ جو کہتے ہیں ان سے بہت بلند ہے۔
ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس جیسی احادیث کا انکار اس نے کیا ہے جو ان امور کو مشاہدات پر قیاس کرتا ہے جیسا کہ وہ اوپر سے نیچے کو آتی ہیں اور منتقل ہوتی ہیں اور یہ صفات جسم کی ہوتی ہیں۔ لیکن اس ذات کا نزول جس پر صفاتِ اجسام صادق نہیں آسکتیں، ان معانی کے اندر کچھ وہم نہیں ہے، یہ تو اس کی قدرت، بندوں پر نرمی اور شفقت ہے، ان کی دعائیں قبول کرنے اور ان کو معاف کرنے کی خبر ہے۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اس کی صفات کی کیفیت اور افعال کی کمیت نہیں دیکھی جاتی۔ وہ پاک ہے، ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ [سورة الشورى: 11] ”اس جیسی کوئی چیز نہیں، وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔“
ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس جیسی احادیث کا انکار اس نے کیا ہے جو ان امور کو مشاہدات پر قیاس کرتا ہے جیسا کہ وہ اوپر سے نیچے کو آتی ہیں اور منتقل ہوتی ہیں اور یہ صفات جسم کی ہوتی ہیں۔ لیکن اس ذات کا نزول جس پر صفاتِ اجسام صادق نہیں آسکتیں، ان معانی کے اندر کچھ وہم نہیں ہے، یہ تو اس کی قدرت، بندوں پر نرمی اور شفقت ہے، ان کی دعائیں قبول کرنے اور ان کو معاف کرنے کی خبر ہے۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اس کی صفات کی کیفیت اور افعال کی کمیت نہیں دیکھی جاتی۔ وہ پاک ہے، ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ [سورة الشورى: 11] ”اس جیسی کوئی چیز نہیں، وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔“