السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الترغيب في قيام آخر الليل باب: رات کے آخری حصے میں قیام کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 4653
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، ثنا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ مَرْجَانَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَنْزِلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا لِشَطْرِ اللَّيْلِ، أَوْ لِثُلُثِ اللَّيْلِ الْآخِرِ، فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، أَوْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، ثُمَّ يَقُولُ: مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ عَدِيمٍ، وَلَا ظَلُومٍ ". ⦗٤⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الشَّاعِرِ عَنْ مُحَاضِرٍ..حافظ ثناء اللہ
سعید بن مرجانہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نصف رات یا رات کے آخری تہائی میں تشریف لاتے ہیں اور فرماتے ہیں: کون ہے جو مجھ سے دعا کرے میں اس کی دعا کو قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے مانگے میں اس کو عطا کروں؟ پھر فرماتے ہیں: کون ہے جو قرضہ دے اور اس کے قرضے میں ظلم بھی نہ کیا جائے اور ہڑپ بھی نہ کیا جائے۔“