السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: تأكيد ركعتي الفجر باب: فجر کی دو رکعتوں (سنتوں) کی تاکید کا بیان
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنِي أَبُو زِيَادَةَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زِيَادَةَ الْكِنْدِيُّ، عَنْ بِلَالٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْذِنُهُ بِصَلَاةِ الْغَدَاةِ فَشَغَلَتْ عَائِشَةُ بِلَالًا بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى فَضَحَهُ الصُّبْحُ، فَأَصْبَحَ جِدًّا قَالَ: فَأَقَامَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ وَتَابَعَ أَذَانَهُ فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَ صَلَّى بِالنَّاسِ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ شَغَلَتْهُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى أَصْبَحَ جِدًّا، وَأَنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ، فَقَالَ: " إِنِّي كُنْتُ رَكَعْتُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ أَصْبَحْتَ جِدًّا قَالَ: " لَوْ أَصْبَحْتُ أَكْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ لَرَكَعْتُهُمَا وَأَحْسَنْتُهُمَا وَأَجْمَلْتُهُمَا " وَرُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا تَدَعُوهُمَا وَإِنْ طَرَدَتْكُمُ الْخَيْلُ " وَهُوَ فِي بَعْضِ النُّسَخِ بِكِتَابِ أَبِي دَاوُدَ.سیدنا بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے پاس صبح کی نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو کسی کام میں مصروف کر دیا، وہ ان سے سوال کر رہی تھیں، یہاں تک کہ صبح اچھی طرح روشن ہوگئی۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی اور اس کے بعد کان لگایا (یعنی نبی ﷺ کے قدموں کی آواز کے لیے) لیکن آپ ﷺ نہیں نکلے، جب آپ ﷺ نکلے تو لوگوں کو نماز پڑھائی۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو بتایا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو کسی معاملہ میں مصروف کر دیا، جس کی وجہ سے بہت زیادہ صبح ہوئی۔ آپ ﷺ نے بھی آنے میں دیر کر دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے فجر کی رکعتیں پڑھیں۔“ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے بہت زیادہ صبح کر دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں اس سے بھی زیادہ صبح کر دیتا تو ان دو رکعتوں کو خوب اچھی طرح ادا کرتا۔“