أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا أَفْلَتُ بْنُ خَلِيفَةَ، حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ: جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوُجُوهُ بُيُوتِ أَصْحَابِهِ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: " وَجِّهُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ " ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَصْنَعِ الْقَوْمُ شَيْئًا رَجَاءَ أَنْ تَنْزِلَ لَهُمْ رُخْصَةٌ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ بَعْدُ، فَقَالَ: " وَجِّهُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ،؛ فَإِنِّي لَا أُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِحَائِضٍ وَلَا جُنُبٍ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهُوَ فُلَيْتٌ الْعَامِرِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی ﷺ آئے تو صحابہ کے گھروں کے دروازے مسجد کی طرف کھلتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”گھروں کے دروازوں کو مسجد سے تبدیل کر دو۔“ پھر آپ ﷺ گھر چلے گئے تو لوگوں نے اس امید پر گھروں کے دروازوں کو تبدیل نہ کیا کہ شاید آپ ﷺ رخصت دے دیں۔ پھر آپ ﷺ ان کے پاس آئے اور فرمایا: ”ان گھروں کے دروازوں کو مسجد سے تبدیل کرو۔ میں حائضہ اور جنبی کے لیے مسجد کو حلال قرار نہیں دیتا۔“
قَالَ الشَّيْخُ: زَادَ فِيهِ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ، " إِلَّا لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآلِ مُحَمَّدٍ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا مُوسَى فَذَكَرَهُ بِزِيَادَتِهِ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَعِنْدَ جَسْرَةَ عَجَائِبُ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ عُرْوَةُ وَعَبَّادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سُدُّوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ " ⦗٦٢١⦘ وَهَذَا أَصَحُّ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَمَحْمُولٌ فِي الْجُنُبِ عَلَى الْمُكْثِ فِيهِ دُونَ الْعُبُورِ بِدَلِيلِ الْكِتَابِ.
حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن اسماعیل نے عبدالواحد سے اس میں یہ اضافہ کیا ہے: ”سوائے محمد ﷺ اور آلِ محمد کے۔“ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جسرہ کے پاس عجیب روایات ہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عروہ اور عباد بن عبداللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دروازے کے علاوہ باقی تمام دروازے بند کر دو۔“ اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: اگر یہ (پچھلی) روایت صحیح ہو تو جنبی کے بارے میں اسے مسجد میں ٹھہرنے پر محمول کیا جائے گا، نہ کہ گزرنے پر، کتاب اللہ کی دلیل کی بنا پر۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عروہ اور عباد بن عبداللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دروازے کے علاوہ باقی تمام دروازے بند کر دو۔“ اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: اگر یہ (پچھلی) روایت صحیح ہو تو جنبی کے بارے میں اسے مسجد میں ٹھہرنے پر محمول کیا جائے گا، نہ کہ گزرنے پر، کتاب اللہ کی دلیل کی بنا پر۔
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ، يَعْنِي الرَّازِيَّ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ {وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا} [النساء: ٤٣] قَالَ: " لَا تَدْخُلِ الْمَسْجِدَ وَأَنْتَ جُنُبٌ إِلَّا أَنْ يَكُونَ طَرِيقُكَ فِيهِ، وَلَا تَجْلِسْ " وَرَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، وَقَالَ: " إِلَّا وَأَنْتَ مَارٌّ تَمُرُّ فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّىٰ تَغْتَسِلُوا﴾ [سورة النساء: 43] کے متعلق فرماتے ہیں: جنبی آدمی بھی نماز کے قریب نہ جائے جب تک غسل نہ کرلے، مگر مسافر جا سکتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ حالتِ جنابت میں تم مسجد میں داخل نہ ہو، ہاں اگر آپ کا راستہ ہی ادھر سے ہو، لیکن آپ نہ بیٹھیں۔
أنبأ أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ فِي التَّفْسِيرِ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: " كَانَ أَحَدُنَا يَمُرُّ فِي الْمَسْجِدِ، وَهُوَ جُنُبٌ مُجْتَازًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی بھی جنابت کی حالت میں مسجد سے گزر جایا کرتا تھا۔
وَأنبأ أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الثَّقَفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ " أَنَّهُ كَانَ يُرَخِّصُ لِلْجُنُبِ أَنْ يَمُرَّ فِي الْمَسْجِدِ مُجْتَازًا " قَالَ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: {وَلَا جُنُبًا} [النساء: ٤٣] إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جنبی شخص کو مسجد سے گزرنے کی رخصت دیتے تھے اور فرماتے کہ ﴿وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ﴾ [سورة النساء: 43] سے متعلق مجھے یہی علم ہے کہ جنبی آدمی نماز کے قریب نہ آئے، سوائے مسافر کے۔
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الْأَزْدِيِّ، عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي قَوْلِهِ {وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ} [النساء: ٤٣] قَالَ: " يَجْتَازُ وَلَا يَجْلِسُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ﴾ [سورة النساء: 43] کے متعلق فرماتے ہیں: جنبی آدمی نماز کے قریب نہ آئے سوائے مسافر کے، وہ گزر سکتا ہے مگر بیٹھنا درست نہیں۔
أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ: " الْحَائِضُ، وَالْجُنُبُ لَا يَنْقُضَانِ عِقِاصًا، وَلَا ضَفِيرَةً وَلَا تَمُرُّ حَائِضٌ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا مُضْطَرَّةً ".
حافظ ثناء اللہ
ابو عمرو رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حائضہ اور جنبی عورت اپنے گوندھے ہوئے بال اور مینڈھیوں کو نہیں کھولے گی اور مجبوری کی حالت میں حائضہ مسجد سے گزر سکتی ہے۔