السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الجنب يمر في المسجد مارا ولا يقيم فيه باب: جنبی شخص کا مسجد سے صرف گزرنا اور وہاں نہ ٹھہرنا
حدیث نمبر: 4324
قَالَ الشَّيْخُ: زَادَ فِيهِ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ، " إِلَّا لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآلِ مُحَمَّدٍ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا مُوسَى فَذَكَرَهُ بِزِيَادَتِهِ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَعِنْدَ جَسْرَةَ عَجَائِبُ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ عُرْوَةُ وَعَبَّادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سُدُّوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ " ⦗٦٢١⦘ وَهَذَا أَصَحُّ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَمَحْمُولٌ فِي الْجُنُبِ عَلَى الْمُكْثِ فِيهِ دُونَ الْعُبُورِ بِدَلِيلِ الْكِتَابِ.حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن اسماعیل نے عبدالواحد سے اس میں یہ اضافہ کیا ہے: ”سوائے محمد ﷺ اور آلِ محمد کے۔“ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جسرہ کے پاس عجیب روایات ہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عروہ اور عباد بن عبداللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دروازے کے علاوہ باقی تمام دروازے بند کر دو۔“ اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: اگر یہ (پچھلی) روایت صحیح ہو تو جنبی کے بارے میں اسے مسجد میں ٹھہرنے پر محمول کیا جائے گا، نہ کہ گزرنے پر، کتاب اللہ کی دلیل کی بنا پر۔