کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: مسجد کی کنکریوں کے بیان میں
❮
❯
أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا عُمَرُ بْنُ سُلَيْمٍ قَالَ: قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَمَّا كَانَ بَدْءُ هَذِهِ الْحَصْبَاءِ الَّتِي فِي الْمَسْجِدِ؟ قَالَ: نَعَمْ، مُطِرْنَا مِنَ اللَّيْلِ فَخَرَجْنَا لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَمُرُّ عَلَى الْبَطْحَاءِ فَيَجْعَلُ فِي ثَوْبِهِ مِنَ الْحَصْبَاءِ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ قَالَ: فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ قَالَ: " مَا أَحْسَنَ هَذَا الْبِسَاطَ " فَكَانَ ذَلِكَ فِي أَوَّلِ بَدْئِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو ولید کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: مسجد میں کنکریوں کی ابتدا کیسے ہوئی؟ انھوں نے فرمایا: ہاں، رات کو بارش ہوئی، جب ہم صبح کی نماز کے لیے نکلے تو ہر ایک بطحاء سے گزرتے ہوئے اپنے کپڑے میں کنکریاں لے کر گیا اور نیچے بچھا کر نماز ادا کی۔ جب نبی ﷺ نے دیکھا تو فرمایا: ”یہ کتنا اچھا بچھونا ہے۔“ اس طرح مسجد میں کنکریوں کی ابتدا ہوئی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4313
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ بِمَكَّةَ، أنبأ الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ بَطَحَ الْمَسْجِدَ مَسْجِدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَالَ: " ابْطَحُوهُ مِنَ الْوَادِي الْمُبَارَكِ " يَعْنِي الْعَقِيقَ كَذَا قَالَ عُرْوَةُ، وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ مُتَّصِلٌ، وَإِسْنَادُهُ لَا بَأْسَ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سب سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں کنکریاں بچھائیں، انہوں نے فرمایا: اس میں مبارک وادی یعنی وادیٔ عقیق سے کنکریاں بچھاؤ۔
عروہ نے اسی طرح بیان کیا ہے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث متصل ہے اور اس کی سند میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4314
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ ثنا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَوْ عَنْ كَعْبٍ قَالَ: " إِنَّ حَصَى الْمَسْجِدِ لَتُنَاشِدُ صَاحِبَهَا إِذَا خَرَجَ بِهَا مِنَ الْمَسْجِدِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا کعب فرماتے ہیں کہ مسجد کی کنکریاں اپنے نکالنے والے سے التجا کرتی ہیں، جب وہ ان کو مسجد سے نکالتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4315
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»