حدیث نمبر: 4313
أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا عُمَرُ بْنُ سُلَيْمٍ قَالَ: قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَمَّا كَانَ بَدْءُ هَذِهِ الْحَصْبَاءِ الَّتِي فِي الْمَسْجِدِ؟ قَالَ: نَعَمْ، مُطِرْنَا مِنَ اللَّيْلِ فَخَرَجْنَا لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَمُرُّ عَلَى الْبَطْحَاءِ فَيَجْعَلُ فِي ثَوْبِهِ مِنَ الْحَصْبَاءِ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ قَالَ: فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ قَالَ: " مَا أَحْسَنَ هَذَا الْبِسَاطَ " فَكَانَ ذَلِكَ فِي أَوَّلِ بَدْئِهِ.حافظ ثناء اللہ
ابو ولید کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: مسجد میں کنکریوں کی ابتدا کیسے ہوئی؟ انھوں نے فرمایا: ہاں، رات کو بارش ہوئی، جب ہم صبح کی نماز کے لیے نکلے تو ہر ایک بطحاء سے گزرتے ہوئے اپنے کپڑے میں کنکریاں لے کر گیا اور نیچے بچھا کر نماز ادا کی۔ جب نبی ﷺ نے دیکھا تو فرمایا: ”یہ کتنا اچھا بچھونا ہے۔“ اس طرح مسجد میں کنکریوں کی ابتدا ہوئی۔