أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، ثنا نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ " أَنَّ الْمَسْجِدَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَبْنِيًّا بِاللَّبِنِ، وَسَقْفُهُ الْجَرِيدُ، وَعُمُدُهُ خَشَبُ عَسِيبِ النَّخْلِ، فَلَمْ يَزِدْ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ شَيْئًا وَزَادَ فِيهِ عُمَرُ، وَبَنَاهُ عَلَى بِنَائِهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّبِنِ وَالْجَرِيدِ، وَأَعَادَ عُمُدَهُ خَشَبًا، ثُمَّ غَيَّرَهُ عُثْمَانُ فَزَادَ فِيهِ زِيَادَةً كَثِيرَةً، وَبَنَى جِدَارَهُ بِالْحِجَارَةِ الْمَنْقُوشَةِ، وَالْقَصَّةِ وَجَعَلَ عُمُدَهُ مِنْ حِجَارَةٍ مَنْقُوشَةٍ وَسَقْفَهُ بِالسَّاجِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، عَنْ يَعْقُوبَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے دور میں مسجد اینٹوں کی تھی اور چھت چھڑیوں کی اور ستون کھجور کی شاخوں کے تھے، لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں اضافہ نہیں کیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ اضافہ کیا، لیکن اسے کھجور کے تنوں اور شاخوں سے ہی بنایا۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس میں تبدیلی کی اور انہوں نے اس میں بہت اضافہ کیا اور دیواریں اور ستون منقش اور تراشے ہوئے پتھروں سے بنوائے اور چھت ساج کی لکڑی سے بنائی۔
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِينَ بِسُيُوفِهِمْ، قَالَ أَنَسٌ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى ⦗٦١٥⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ، وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَأَنَّهُ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَأَرْسَلَ إِلَى بَنِي النَّجَّارِ " ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا " فَقَالُوا: وَاللهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللهِ، قَالَ أَنَسٌ: فَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ، كَانَتْ فِيهِ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ، وَكَانَتْ فِيهِ خِرَبٌ، وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ، وَبِالْخِرَبِ فَسُوِّيَتْ وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ، وَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ، وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً، وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ وَيَقُولُونَ: اللهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرَ الْآخِرَةِ، فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ کے بالائی علاقے میں قبیلہ عمرو بن عوف کے ہاں چودہ دن قیام کیا، پھر آپ ﷺ نے بنو نجار کے پاس کسی کو روانہ کیا تو وہ ہتھیاروں سے لیس ہو کر آئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ نبی کریم ﷺ اپنی خچر پر سوار ہیں اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے اور بنو نجار کے سردار آپ ﷺ کے اردگرد ہیں، یہاں تک کہ آپ ﷺ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے صحن میں اترے۔ آپ ﷺ نماز ادا کر لیتے جب وقت ہو جاتا اور بکریوں کے باڑے میں بھی آپ ﷺ نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے مسجد بنانے کا حکم دیا اور بنو نجار کی طرف کسی کو بھیجا کہ: ”اپنی اس جگہ کی قیمت لے لو“ تو انہوں نے قیمت لینے سے انکار کر دیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس زمین میں مشرکین کی قبریں، ویرانہ اور کھجوریں تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے مشرکین کی قبروں کو اکھاڑنے کا حکم دیا وہ اکھاڑ دی گئیں اور ویرانے کو برابر کر دیا گیا اور کھجوریں کاٹ دی گئیں۔ انہوں نے کھجوروں کو مسجد کے سامنے کھڑا کر دیا اور پتھروں کی چوکھٹ بنا دی۔ وہ پتھر اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے اور شعر پڑھ رہے تھے اور نبی کریم ﷺ بھی ان کے ساتھ تھے: «اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ، فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ» ”اے اللہ! بھلائی صرف آخرت کی ہے، تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما۔“
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ خَالِهِ مُسَافِعِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ أُمِّ مَنْصُورٍ، قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَلَدَتْ عَامَّةَ أَهْلِ دَارِنَا قَالَتْ: أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ، فَقَالَ: " إِنِّي رَأَيْتُ قَرْنَيِ الْكَبْشِ حِينَ دَخَلْتُ الْبَيْتَ، فَنَسِيتُ أَنْ آمُرَكَ تُخَمِّرُهُمَا فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ مَا يَشْغَلُ مُصَلِّيًا ".
حافظ ثناء اللہ
ام منصور صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے بنو سلمہ کی ایک عورت نے خبر دی کہ ہمارے گھر ولادت کا سال تھا، نبی ﷺ نے کسی کو عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب میں گھر میں داخل ہوا تو میں نے مینڈھے کے سینگ دیکھے تھے، میں ان کو کاٹنے کا حکم دینا بھول گیا، لیکن گھر میں کسی ایسی چیز کا ہونا جو نمازی کو مشغول کر دے مناسب نہیں۔“
أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ بْنِ خَالِدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ (ح) وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ، عَنْ يَزِيدَ الْأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أُمِرْتُ بِتَشْيِيدِ الْمَسْجِدِ " قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَتُزَخْرِفُنَّهَا كَمَا زَخْرَفَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى لَفْظُ حَدِيثِ الرُّوذَبَارِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ " الْمَسَاجِدَ " وَلَمْ يَذْكُرِ النَّصَارَى.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھے مسجدوں کو پختہ بنانے کا حکم نہیں دیا گیا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: تم ان کی زیب و زینت کرو گے جیسے یہودی اور عیسائیوں نے کی تھی۔
وَأنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ بِالْمَسَاجِدِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت قائم نہ ہوگی جب تک لوگ مسجدوں کے بارے میں فخر کرنے لگیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَلَامٍ ⦗٦١٦⦘ الصَّوَّافُ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا هُرَيْمٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ابْنُوا الْمَسَاجِدَ وَاتَّخِذُوهَا جُمًّا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسجدیں بناؤ اور کشادہ بناؤ۔“
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَاشَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُمِرْتُ بِالْمَسَاجِدِ جُمًّا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے کشادہ مسجدیں بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔“
وَأنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " نَهَانَا أَوْ نُهِينَا أَنْ نُصَلِّيَ فِي مَسْجِدٍ مُشْرِفٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”ہمیں منع کیا گیا کہ بلند و بالا مساجد میں نماز پڑھیں۔“
أنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أُمِرْنَا أَنْ نَبْنِيَ الْمَسَاجِدَ جُمًّا، وَالْمَدَائِنَ شُرَفًا " قَوْلُهُ: جُمٌّ، الْجُمُّ: الَّتِي لَا شُرَفَ لَهَا، وَكَذَلِكَ الْبِنَاءُ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ شُرَفٌ فَهُوَ أَجَمُّ وَجَمْعُهُ جُمٌّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ہمیں حکم دیا گیا کہ مسجدیں کشادہ بنائیں اور شہر بلند و بالا اور اونچے۔“
أنبأ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ثنا مُطَيَّنٌ، ثنا سَهْلُ بْنُ زَنْجَلَةَ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَعْرَاءَ، عَنِ ابْنِ أَبْجَرَ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اتَّقُوا هَذِهِ الْمَذَابِحَ " يَعْنِي الْمَحَارِيبَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم جنگوں سے بچو۔“
وَأنبأ أَبُو عَلِيِّ بْنُ شَاذَانَ الْبَغْدَادِيُّ بِهَا، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دِرْهَمٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَوْمٍ قَدْ أَسَّسُوا مَسْجِدًا؛ لِيَبْنُوهُ، فَقَالَ: " أَوْسِعُوهُ تُمْلَئُوهُ " قَالَ: فَأَوْسَعُوهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک قوم کے پاس سے گزرے جنہوں نے بنیادیں رکھی تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو اتنا وسیع کرو کہ تم اس میں پورے آ سکو۔“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے مزید وسیع کر دیا۔
أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ دِرْهَمٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُمْ يَبْنُونَ مَسْجِدًا لَهُمْ، فَقَالَ: " أَوْسِعُوهُ تُمْلَئُوهُ " ⦗٦١٧⦘ هَذَا حَدِيثٌ قَدِ اخْتُلِفَ فِي إِسْنَادِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ انصار کے پاس آئے جو اپنے لیے مسجد بنا رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اسے اتنا وسیع کر دو کہ تم اس میں پورے آ سکو۔“
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَبَّبٍ أَبُو هَمَّامٍ الدَّلَّالُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَجْعَلَ مَسْجِدَ الطَّائِفِ حَيْثُ كَانَتْ طَاغِيَتُهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حکم دیا: ”طائف والی مسجد اس جگہ بنائی جائے جہاں ان کے بت تھے۔“