أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ، حَدَّثَهُ قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى ابْنِ وَعْلَةَ السَّبَائِيِّ فَرْوًا فَمَسَسْتُهُ، فَقَالَ: مَا لَكَ تَمَسُّهُ قَدْ سَأَلْتُ عَنْهُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: إِنَّا نَكُونُ فِي الْمَغْرِبِ وَمَعَنَا الْبَرْبَرُ وَالْمَجُوسُ نُؤْتَى بِالْكَبْشِ فَيَذْبَحُونَهُ، وَنَحْنُ لَا نَأْكُلُ ذَبَائِحَهُمْ وَنُؤْتَى بِالسِّقَاءِ فِيهِ الْوَدَكُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " دِبَاغُهُ طَهُورُهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الرَّبِيعِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو الخیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن وعلہ سبائی رحمہ اللہ پر چمڑے کا لباس دیکھا تو میں نے اسے چھوا۔ وہ کہنے لگے: کیوں چھوتے ہو؟ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں پوچھا تھا اور بتایا تھا کہ ہم مغرب میں رہتے ہیں اور ہمارے ساتھ بربری اور مجوسی رہتے ہیں، ہم مینڈھا لاتے ہیں تو وہ انہیں ذبح کر دیتے ہیں اور ہم تو ان کا ذبیحہ کھاتے ہی نہیں اور ہم چکناہٹ والا مشکیزہ لاتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ: ”چمڑے کو رنگنا اس کی پاکیزگی ہے“۔
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي بِبَغْدَادَ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْحَصِيرِ وَالْفَرْوَةِ الْمَدْبُوغَةِ " أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أَحْمَدَ.
حافظ ثناء اللہ
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ چٹائی اور رنگ دار کپڑے پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ، فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ، عَنْ أَبِيهِ وَقَالَ: كَانَ يَسْتَحِبُّ.
حافظ ثناء اللہ
اسی سند سے ہے، اس میں ہے کہ آپ ﷺ اسے پسند کرتے تھے۔
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، أنبأ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى فِي الْمَسْجِدِ فَأَتَاهُ شَيْخٌ ذُو ⦗٥٩٠⦘ ضَفِيرَتَيْنِ، فَقَالَ: يَا أَبَا عِيسَى، حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ أَبِيكَ فِي الْفِرَاءِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُصَلِّي فِي الْفِرَاءِ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَيْنَ الدِّبَاغُ؟ " فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ثابت بنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ دو مینڈھیوں والے ایک بزرگ آئے اور کہنے لگے: اے ابوعیسیٰ! مجھے وہ بیان کریں جو آپ نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے جنگلی گدھے کے بارے میں سنا ہے، انہوں نے فرمایا: میرے والد رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا: کیا میں جنگلی گدھے کے چمڑے پر نماز پڑھ لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رنگے ہوئے میں پڑھ لو۔“ جب وہ چلا گیا تو میں نے پوچھا: یہ کون تھا؟ انہوں نے بتایا: ”سوید بن غفلہ“ رحمہ اللہ۔