السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الصلاة في الجلد المدبوغ باب: دباغت دی ہوئی کھال پر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 4191
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ، حَدَّثَهُ قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى ابْنِ وَعْلَةَ السَّبَائِيِّ فَرْوًا فَمَسَسْتُهُ، فَقَالَ: مَا لَكَ تَمَسُّهُ قَدْ سَأَلْتُ عَنْهُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: إِنَّا نَكُونُ فِي الْمَغْرِبِ وَمَعَنَا الْبَرْبَرُ وَالْمَجُوسُ نُؤْتَى بِالْكَبْشِ فَيَذْبَحُونَهُ، وَنَحْنُ لَا نَأْكُلُ ذَبَائِحَهُمْ وَنُؤْتَى بِالسِّقَاءِ فِيهِ الْوَدَكُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " دِبَاغُهُ طَهُورُهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الرَّبِيعِ.حافظ ثناء اللہ
ابو الخیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن وعلہ سبائی رحمہ اللہ پر چمڑے کا لباس دیکھا تو میں نے اسے چھوا۔ وہ کہنے لگے: کیوں چھوتے ہو؟ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں پوچھا تھا اور بتایا تھا کہ ہم مغرب میں رہتے ہیں اور ہمارے ساتھ بربری اور مجوسی رہتے ہیں، ہم مینڈھا لاتے ہیں تو وہ انہیں ذبح کر دیتے ہیں اور ہم تو ان کا ذبیحہ کھاتے ہی نہیں اور ہم چکناہٹ والا مشکیزہ لاتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ: ”چمڑے کو رنگنا اس کی پاکیزگی ہے“۔