السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الصلاة في الجلد المدبوغ باب: دباغت دی ہوئی کھال پر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 4194
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، أنبأ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى فِي الْمَسْجِدِ فَأَتَاهُ شَيْخٌ ذُو ⦗٥٩٠⦘ ضَفِيرَتَيْنِ، فَقَالَ: يَا أَبَا عِيسَى، حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ أَبِيكَ فِي الْفِرَاءِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُصَلِّي فِي الْفِرَاءِ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَيْنَ الدِّبَاغُ؟ " فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ.حافظ ثناء اللہ
ثابت بنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ دو مینڈھیوں والے ایک بزرگ آئے اور کہنے لگے: اے ابوعیسیٰ! مجھے وہ بیان کریں جو آپ نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے جنگلی گدھے کے بارے میں سنا ہے، انہوں نے فرمایا: میرے والد رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا: کیا میں جنگلی گدھے کے چمڑے پر نماز پڑھ لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رنگے ہوئے میں پڑھ لو۔“ جب وہ چلا گیا تو میں نے پوچھا: یہ کون تھا؟ انہوں نے بتایا: ”سوید بن غفلہ“ رحمہ اللہ۔