کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ جس چھینٹے مارنے کا حکم دیا گیا ہے وہ اس جگہ کے لیے ہے جہاں خون نہیں لگا
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ ⦗٥٧٠⦘ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ امْرَأَةً تَسْأَلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ تَصَنَعُ بِثَوْبِهَا إِذَا طَهُرَتْ مِنْ حَيْضَتِهَا فَقَالَ: " إِنْ رَأَتْ فِيهِ دَمًا حَتَّتْهُ، ثُمَّ قَرَصَتْهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ تَنْضَحُ فِي سَائِرِ ثَوْبِهَا، ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ایک عورت کو سنا، وہ آپ ﷺ سے سوال کر رہی تھی کہ جب عورت حیض سے پاک ہو جائے تو وہ اپنے کپڑوں کو کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر ان میں خون دیکھے تو اسے کھرچ کر دھو لے اور اپنے تمام کپڑوں پر چھینٹے مار کر نماز ادا کرے۔“
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا حَرْمَلَةُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ، ثُمَّ تَقْرُصُ الدَّمَ مِنْ ثَوْبِهَا عِنْدَ طُهْرِهَا فَتَغْسِلُهُ وَتَنْضَحُ عَلَى سَائِرِهِ، ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ أصْبَغَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب ہم میں سے کسی کو حیض آتا تو وہ حیض کے ختم ہونے کے بعد کپڑوں سے خون کو صاف کرتی، پھر انہیں دھونے کے بعد تمام کپڑے پر چھینٹے مار کر نماز ادا کرتی۔