السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن النضح المأمور به هو في الموضع الذي لم يصبه الدم باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ جس چھینٹے مارنے کا حکم دیا گیا ہے وہ اس جگہ کے لیے ہے جہاں خون نہیں لگا
حدیث نمبر: 4108
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا حَرْمَلَةُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ، ثُمَّ تَقْرُصُ الدَّمَ مِنْ ثَوْبِهَا عِنْدَ طُهْرِهَا فَتَغْسِلُهُ وَتَنْضَحُ عَلَى سَائِرِهِ، ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ أصْبَغَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب ہم میں سے کسی کو حیض آتا تو وہ حیض کے ختم ہونے کے بعد کپڑوں سے خون کو صاف کرتی، پھر انہیں دھونے کے بعد تمام کپڑے پر چھینٹے مار کر نماز ادا کرتی۔