السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن النضح المأمور به هو في الموضع الذي لم يصبه الدم باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ جس چھینٹے مارنے کا حکم دیا گیا ہے وہ اس جگہ کے لیے ہے جہاں خون نہیں لگا
حدیث نمبر: 4107
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ ⦗٥٧٠⦘ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ امْرَأَةً تَسْأَلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ تَصَنَعُ بِثَوْبِهَا إِذَا طَهُرَتْ مِنْ حَيْضَتِهَا فَقَالَ: " إِنْ رَأَتْ فِيهِ دَمًا حَتَّتْهُ، ثُمَّ قَرَصَتْهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ تَنْضَحُ فِي سَائِرِ ثَوْبِهَا، ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ ".حافظ ثناء اللہ
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ایک عورت کو سنا، وہ آپ ﷺ سے سوال کر رہی تھی کہ جب عورت حیض سے پاک ہو جائے تو وہ اپنے کپڑوں کو کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر ان میں خون دیکھے تو اسے کھرچ کر دھو لے اور اپنے تمام کپڑوں پر چھینٹے مار کر نماز ادا کرے۔“