کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: قراءت سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: قراءت کو لمبا کرنے اور اسے مختصر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4006
أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا الضَّحَاكُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ لِرَجُلٍ كَانَ أَمِيرًا عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ سُلَيْمَانُ: وَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ فَكَانَ يُطِيلُ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَيُخَفِّفُ الْأُخْرَيَيْنِ، وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعِشَاءِ بِوَسَطِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِطِوَالِ الْمُفَصَّلِ " قَالَ الضَّحَاكُ: وَحَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: " مَا رَأَيْتُ صَلَاةً أَشْبَهَ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَتَى " يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ الضَّحَاكُ: فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ فَكَانَ يُصَلِّي مِثْلَ مَا وَصَفَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ،.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے فلاں شخص سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کی نماز کے زیادہ مشابہ کسی کی نماز نہیں دیکھی جو اہل مدینہ کا امیر تھا۔ سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ان کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ ظہر کی پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرتے تھے اور دوسری دو رکعتوں کو مختصر کرتے تھے۔ عصر کی نماز کو بھی مختصر کرتے اور مغرب کی پہلی دو رکعتوں میں «قِصَارِ الْمُفَصَّلِ» ”قصار مفصل“ تلاوت کیا کرتے تھے اور عشا کی پہلی دو رکعتوں میں «اَوْسَاطِ الْمُفَصَّلِ» ”اوساط مفصل“ پڑھتے تھے اور صبح کی نماز میں «طِوَالِ الْمُفَصَّلِ» ”طوال مفصل“ پڑھا کرتے تھے۔
ضحاک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مجھے ایک شخص نے حدیث بیان کی جس نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں نے اس نوجوان سے بڑھ کر کسی کی نماز رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مشابہ نہیں دیکھی، وہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مراد لے رہے تھے۔ ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ان کے پیچھے بھی نماز پڑھی، وہ اسی طرح پڑھتے تھے جس طرح ابھی اوپر سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4006
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه احمد 7/58»
حدیث نمبر: 4007
وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْكَبِيرِ الْحَنَفِيُّ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا.
حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے یہی روایت منقول ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4007
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 4008
أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ قَالَ: " مَا مِنَ الْمُفَصَّلِ سُورَةٌ صَغِيرَةٌ وَلَا كَبِيرَةٌ إِلَّا وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ بِهَا النَّاسَ فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: مفصلات میں سے کوئی چھوٹی سورت یا بڑی سورت ایسی نہیں ہے جو میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرض نمازوں کی امامت کے دوران پڑھتے ہوئے نہ سنا ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4008
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 814»