کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بات کی دلیل کہ ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کے ساتھ یہ (سورہ فاتحہ) سات آیات ہیں
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ بِهَمْدَانَ أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ أُمُّ الْقُرْآنِ وَالسَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَرَوَاهُ نُوحُ بْنُ أَبِي بِلَالٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ أَتَمَّ مِنْ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ہی ام القرآن، سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ نُوحِ بْنِ أَبِي بِلَالٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سَبْعُ آيَاتٍ بِـ {بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: ١]، وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَهِيَ أُمُّ الْقُرْآنِ وَفَاتِحَةُ الْكِتَابِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: ثُمَّ لَقِيتُ نُوحًا فَحَدَّثَنِي بِهِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا غَيْرَ مَرْفُوعٍ وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَغَيْرِهِمَا مَا دَلَّ عَلَى ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] یعنی سورہ فاتحہ سات آیتیں ہیں ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ [سورة الفاتحة: 1] کو ساتھ ملا کر اور یہی سبع مثانی، ام القرآن اور سورہ فاتحہ ہے۔“
ابوبکر حنفی نے بھی عبدالحمید بن جعفر سے اسی طرح روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: پھر میں نوح سے ملا تو انہوں نے مجھے یہ روایت سعید سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بیان کی، مرفوعاً نہیں۔ اور سیدنا علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی ہمیں ایسی روایات پہنچی ہیں جو اس پر دلالت کرتی ہیں۔
ابوبکر حنفی نے بھی عبدالحمید بن جعفر سے اسی طرح روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: پھر میں نوح سے ملا تو انہوں نے مجھے یہ روایت سعید سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بیان کی، مرفوعاً نہیں۔ اور سیدنا علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی ہمیں ایسی روایات پہنچی ہیں جو اس پر دلالت کرتی ہیں۔