حدیث نمبر: 3904
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ ثنا عُثْمَانُ بْنُ ⦗٥٠٢⦘ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ح قَالَ: وَثنا ابْنُ بُكَيْرٍ ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟ " فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى اثْنَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ " لَفْظُ حَدِيثِهِمَ سَوَاءٌ إِلَّا أَنَّ الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللهُ لَمْ يَقُلْ: ابْنِ أَبِي تَمِيمَةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَغَيْرِهِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَحَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا تو ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”جی ہاں“ تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور دوسری دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، پھر تکبیر کہہ کر اپنے معمول کے سجدوں جیسا یا اس سے نسبتاً لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ بھی ویسے ہی کیا، پھر سر اٹھایا۔
حدیث نمبر: 3905
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتِي الْعَشِيِّ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهَا، إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ، ثُمَّ خَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ: قَصُرَتِ الصَّلَاةُ قَصُرَتِ الصَّلَاةُ، وَفِي النَّاسِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ، فَقَامَ رَجُلٌ كَانَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّيهِ ذَا الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَسِيتَ أَمْ قَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ: لَمْ أَنَسَ وَلَمْ تَقْصُرِ الصَّلَاةُ قَالَ: بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟ " فَأَوْمَئُوا أَيْ نَعَمْ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَقَامِهِ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ " قَالَ: فَقِيلَ لِمُحَمَّدٍ " سَلَّمَ فِي السَّهْوِ؟ فَقَالَ: لَمْ أَحْفَظْهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَكِنْ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: لَمْ يَذْكُرْ فَأَوْمَئُوا إِلَّا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ الشَّيْخُ: وَلَمْ يَبْلُغْنَا إِلَّا مِنْ جِهَةِ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَهُمْ ثِقَاتٌ أَئِمَّةٌ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں زوال کے بعد کی نمازوں میں سے کوئی نماز ظہر یا عصر پڑھائی، لیکن ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیر دیا اور آپ ﷺ کھڑے ہوگئے اور اپنے ہاتھ لکڑی کے اوپر رکھ دیے۔ غصہ آپ ﷺ کے چہرے سے عیاں تھا۔ جلدی نکلنے والے لوگ یہ کہتے ہوئے نکل کھڑے ہوئے کہ ”نماز کم ہوگئی، نماز کم ہوگئی“۔ لوگوں میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے لیکن وہ دونوں بھی بات کرنے سے گھبرا گئے۔ ایک شخص کھڑا ہوا جسے رسول اللہ ﷺ ذوالیدین رضی اللہ عنہ کے نام سے پکارا کرتے تھے، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا کہ نماز کم ہوگئی ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ میں بھول گیا ہوں اور نہ نماز کم ہوئی ہے“۔ اس نے کہا: ”نہیں آپ بھول گئے ہیں“۔ رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا ذوالیدین (رضی اللہ عنہ) ٹھیک کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے اشارہ کیا: ”جی ہاں“ تو رسول اللہ ﷺ اپنی جگہ واپس تشریف لائے باقی دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر کر تکبیر کہی اور اپنے معمول کے سجدوں جیسا یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہہ کر ویسا ہی سجدہ کیا پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔
(ب) راوی بیان کرتے ہیں کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا: کیا سجدہ سہو کے بعد آپ ﷺ نے سلام پھیرا؟ انھوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے تو مجھے یاد نہیں لیکن مجھے بتایا گیا کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ ﷺ نے سلام پھیرا۔
(ب) راوی بیان کرتے ہیں کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا: کیا سجدہ سہو کے بعد آپ ﷺ نے سلام پھیرا؟ انھوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے تو مجھے یاد نہیں لیکن مجھے بتایا گیا کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ ﷺ نے سلام پھیرا۔
حدیث نمبر: 3906
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ ابْنِ الْحَمَامِيِّ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا ١٨٨٥ بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللهِ، أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: " أَحَقٌّ مَا يَقُولُ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أُخْرَاوَيْنِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ " قَالَ شُعْبَةُ قَالَ سَعْدٌ وَرَأَيْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى مِنَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ وَسَلَّمَ وَتَكَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى مَا بَقِيَ وَقَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَفْظُ حَدِيثِ آدَمَ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ بِشْرٍ قِصَّةُ عُرْوَةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا تو ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے پوچھا: ”کیا ذوالیدین رضی اللہ عنہ سچ کہہ رہا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے دوسری دو رکعتیں پڑھائیں پھر سہو کے دو سجدے کیے۔
شعبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سعد رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کو دیکھا کہ انہوں نے مغرب کی نماز دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا اور باتیں کیں، اس کے بعد باقی نماز پڑھی اور فرمایا: اس طرح رسول اللہ ﷺ نے بھی کیا تھا۔
شعبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سعد رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کو دیکھا کہ انہوں نے مغرب کی نماز دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا اور باتیں کیں، اس کے بعد باقی نماز پڑھی اور فرمایا: اس طرح رسول اللہ ﷺ نے بھی کیا تھا۔
حدیث نمبر: 3907
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُوسَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا شَيْبَانُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ فَسَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ قَالَ: " لَمْ تَقْصُرْ وَلَمْ أَنَسَ " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَقًّا مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ " قَالَ: وَحَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَتَيْنِ، لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ سَابِقٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ إِلَّا أَنَّهُ سَاقَ بَعْضَ الْحَدِيثِ دُونَ جَمِيعِهِ، قَالَ: وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ لَمْ يَحْفَظْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَإِنَّمَا حِفْظِهُمَا عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جُوشٍ، وَقَدْ حِفْظِهِمَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ وَلَمْ يَحْفَظْهُمَا الزُّهْرِيُّ لَا عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَلَا عَنْ جَمَاعَةٍ حَدَّثُوهُ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی، آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا تو بنو سلیم قبیلے کا ایک شخص کھڑا ہو کر بولا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہ نماز کم ہوئی اور نہ میں بھولا ہوں“ تو وہ بولا: اے اللہ کے رسول! آپ نے دو رکعتیں پڑھی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”کیا ذوالیدین درست کہہ رہا ہے؟“ صحابہ نے بتایا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے بقیہ دو رکعتیں پڑھائیں۔
(ب) راوی بیان کرتے ہیں کہ مجھے ضمضم نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ پھر آپ ﷺ نے دو سجدے کیے۔
(ب) راوی بیان کرتے ہیں کہ مجھے ضمضم نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ پھر آپ ﷺ نے دو سجدے کیے۔
حدیث نمبر: 3908
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَالَ ذُو الشِّمَالَيْنِ ابْنُ عَبْدٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ تَقْصُرِ الصَّلَاةُ وَلَمْ أَنَسَ " فَقَالَ ذُو الشِّمَالَيْنِ: قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: " أَصَدَقَ ذُو الشِّمَالَيْنِ؟ " فَقَالُوا: نَعَمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ وَلَمْ يَسْجُدِ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تُسْجَدَانِ إِذَا شَكَّ الرَّجُلُ فِي صَلَاتِهِ حِينَ لَقَاهُ النَّاسُ " قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي هَذَا الْخَبَرَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَهَذَا حَدِيثٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِ عَلَى الزُّهْرِيِّ فَرَوَاهُ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ هَكَذَا وَهُوَ أَصَحُّ الرِّوَايَاتِ فِيمَا نَرَى، حَدِيثُهُ عَنِ ابْنِ أَبِي حَثْمَةَ مُرْسَلٌ، وَحَدِيثُهُ عَنِ الْبَاقِينَ مَوْصُولٌ، وَأَرْسَلَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْهُ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَثْمَةَ وَابْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ وَأَسْنَدَهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْهُ عَنْ جَمَاعَتِهِمْ دُونَ رِوَايَتِهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَثْمَةَ وَأَسْنَدَهُ مَعْمَرٌ عَنْهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے یہ حدیث منقول ہے، اس میں ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا تو ذوالشمالین بن عبد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھولے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہ نماز کم ہوئی ہے اور نہ میں بھولا ہوں۔“ ذوالشمالین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کچھ نہ کچھ ہوا ہے۔ رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف مڑے اور پوچھا: ”کیا ذوالشمالین صحیح کہہ رہا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور باقی نماز مکمل کی اور دو سجدے نہیں کیے جو اس وقت کیے جاتے ہیں جب نماز میں شک پڑ جائے۔
حدیث نمبر: 3909
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ فَسَهَا فِي رَكْعَتَيْنِ فَانْصَرَفَ، فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ ابْنُ عَبْدِ عَمْرٍو، وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخُفِّفَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟ " قَالُوا: صَدَقَ يَا نَبِيَّ اللهِ قَالَ: فَأَتَمَّ بِهُمُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ نَقَصَ " قَالَ الزُّهْرِيُّ: ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا فَرَغَ وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْهُمْ ذَكَرُوا لَهُ سَجْدَتَيْهِ، وَقَدْ سَجَدَهُمَا حَتَّى أُخْبِرَ بِهِ عَنْ نَفْسِهِ، وَاخْتُلِفَ عَلَى ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ وَقَدْ ثَبَتَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، تو ذو الشمالین بن عبد عمرو، جو بنی زہرہ کا حلیف تھا، نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں تخفیف کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟“ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی! سچ کہہ رہا ہے۔“ آپ ﷺ نے انہیں دو رکعتیں مکمل کروائیں جو رہ گئی تھیں۔
(ب) امام زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے فارغ ہونے کے بعد دو سجدے کیے۔
(ج) یہ حدیث اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ انہوں نے دو سجدوں کا ذکر نہیں کیا حالانکہ انہوں نے وہ دو سجدے کیے ہیں اور ان سے انہی کے بارے میں خبر دی گئی ہے۔
(د) محمد بن سیرین رحمہ اللہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور سعد بن ابراہیم رحمہ اللہ، ابوسلمہ رحمہ اللہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سہو کے دو سجدے کیے تھے۔
(ب) امام زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے فارغ ہونے کے بعد دو سجدے کیے۔
(ج) یہ حدیث اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ انہوں نے دو سجدوں کا ذکر نہیں کیا حالانکہ انہوں نے وہ دو سجدے کیے ہیں اور ان سے انہی کے بارے میں خبر دی گئی ہے۔
(د) محمد بن سیرین رحمہ اللہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور سعد بن ابراہیم رحمہ اللہ، ابوسلمہ رحمہ اللہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سہو کے دو سجدے کیے تھے۔
حدیث نمبر: 3910
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ ⦗٥٠٥⦘ الْحَسَنِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللهِ، أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ كَانَ قَبْلُ ذَلِكَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟ " فَقَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَتَمَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ سَلَّمَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ السَّلَامِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ مَالِكٍ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہوگئی؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوا۔“ انہوں نے کہا: کچھ نہ کچھ ہوا ہے؟ رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: ”کیا ذوالیدین صحیح کہہ رہا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول! تو آپ ﷺ نے باقی دو رکعتیں مکمل کیں اور سلام پھیرا، پھر سلام کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔
(ب) ایک روایت میں ہے: «صَلّٰى لَنَا رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ» ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔“
(ب) ایک روایت میں ہے: «صَلّٰى لَنَا رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ» ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔“
حدیث نمبر: 3911
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فَسَهَا فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ قَالَ: " مَا قَصُرَتِ الصَّلَاةُ وَمَا نَسِيتُ " قَالَ: فَإِنَّكَ صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ: " أَكَمَا قَالَ ذُو الْيَدَيْنِ؟ " قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ " تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی تو بھول گئے اور دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا تو ایک شخص جسے ذوالیدین کہا جاتا تھا نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی یا آپ بھول گئے ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ نماز کم ہوئی اور نہ ہی میں بھولا ہوں۔“ اس نے کہا: ”آپ نے دو رکعتیں پڑھی ہیں۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا ایسے ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”جی ہاں!“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: آپ ﷺ نے آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کیے۔
حدیث نمبر: 3912
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ وَاللَّفْظُ لَهُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، أنبأ أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، ثُمَّ دَخَلَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَكَانَ طَوِيلَ الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ، فَقَالَ: " أَصَدَقَ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، فَقَامَ فَصَلَّى تِلْكَ الرَّكْعَةَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْهِمَا، ثُمَّ سَلَّمَ وَقَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ: ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ " وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کی نماز کی تین رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا، پھر (اپنے گھر) چلے گئے۔ ایک شخص ان کی طرف کھڑا ہوا جسے خرباق کہا جاتا ہے، وہ لمبے ہاتھوں والا تھا، بولا: ”اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی ہے؟“ تو رسول اللہ ﷺ غصہ کی حالت میں چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے اور پوچھا: ”کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور وہ رکعت ادا کی (جو رہ گئی تھی) پھر سلام پھیرا اور دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا۔
(ب) ابن علیہ کے الفاظ ہیں: «ثُمَّ دَخَلَ بِمَنْزِلِهِ» ”پھر وہ (آپ ﷺ) اپنے گھر میں داخل ہو گئے“، باقی اس کے ہم معنی روایت ہے۔
(ب) ابن علیہ کے الفاظ ہیں: «ثُمَّ دَخَلَ بِمَنْزِلِهِ» ”پھر وہ (آپ ﷺ) اپنے گھر میں داخل ہو گئے“، باقی اس کے ہم معنی روایت ہے۔
حدیث نمبر: 3913
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ قَيْسٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٥٠٦⦘ صَلَّى يَوْمًا فَانْصَرَفَ وَقَدْ بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةٌ فَأَدْرَكَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: نَسِيتَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً، فَرَجَعَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَةً، فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ النَّاسَ، فَقَالُوا: وَتَعْرِفُ الرَّجُلَ؟ قُلْتُ: لَا إِلَّا أَنْ أَرَاهُ، فَمَرَّ بِيَ، فَقُلْتُ: هُوَ هَذَا، فَقَالُوا: هَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن نماز پڑھائی، ابھی ایک رکعت باقی تھی کہ آپ ﷺ نے سلام پھیر دیا اور چلے گئے۔ ایک شخص نے آپ ﷺ کو پا لیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ایک رکعت بھول گئے ہیں۔ آپ ﷺ واپس پلٹے، مسجد میں داخل ہوئے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو نماز کھڑی کرنے کا حکم دیا، پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو وہ رکعت پڑھائی۔ میں نے اس بارے میں لوگوں کو بتایا تو انہوں نے کہا: کیا تم اس شخص کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، ہاں اگر اس کو دیکھ لوں تو پہچان لوں گا۔ ایک دفعہ وہ شخص میرے پاس سے گزرا تو میں نے کہا: وہ رہا آدمی! انہوں نے کہا: یہ تو سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔
حدیث نمبر: 3914
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ فَسَهَا فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ سَهَوْتَ فَسَلَّمْتَ فِي رَكْعَتَيْنِ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ أَتَمَّ تِلْكَ الرَّكْعَةَ فَسَأَلْتُ النَّاسَ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ سَهَوْتَ، فَقِيلَ لِي: تَعْرِفُهُ؟ قُلْتُ: لَا، إِلَّا أَنْ أَرَاهُ، فَمَرَّ بِيَ رَجُلٌ، فَقُلْتُ: هُوَ هَذَا، قَالُوا: هَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، آپ بھول گئے اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر اٹھ کر چلے گئے تو ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں، آپ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا ہے، تو آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو نماز کھڑی کرنے کا حکم دیا، پھر وہ رکعت مکمل کی۔ میں نے لوگوں سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جس نے رسول اللہ ﷺ کو کہا تھا کہ آپ بھول گئے ہیں تو مجھ سے کہا گیا: کیا تم اسے جانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، مگر اس کو دیکھ لوں تو پہچان سکتا ہوں۔ ایک روز میرے پاس سے وہ شخص گزرا تو میں نے کہا: یہ رہا وہ آدمی! انہوں نے کہا: یہ تو سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔
حدیث نمبر: 3915
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا عَسَلُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ، صَلَّى الْمَغْرِبَ بِالنَّاسِ فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ لِيَسْتَلِمَهُ فَنَظَرَ فَرَأَى الْقَوْمَ جُلُوسًا قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى صَلَّى لَنَا الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ " قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فِي فَوْرَتِي إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: إِيهًا، لِلَّهِ أَبُوكَ كَيْفَ صَنَعَ؟ فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے لوگوں کو مغرب کی نماز دو رکعتیں پڑھائیں اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر وہ حجر اسود کا استلام کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے پیچھے دیکھا تو لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں: وہ واپس آئے اور وہ باقی رکعت ہمیں پڑھائی، پھر سلام پھیرا اور دو سجدے کیے۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں فوراً ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا تو میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: بس بس! اللہ کی قسم! تیرے باپ نے کیا کیا؟ میں نے وہ بات دہرائی تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے اپنے نبی ﷺ کی سنت سے زیادتی نہیں کی۔
حدیث نمبر: 3916
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْهَاشِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، ثنا هِشَامٌ وَهُوَ ابْنُ حَسَّانَ، عَنْ عِسْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَزَادَ: فَسَبَّحْنَا فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: " مَا أَتْمَمْنَا الصَّلَاةَ؟ " فَقُلْنَا بِرُءُوسِنَا سُبْحَانَ اللهِ، أَيْ: لَا وَلَمْ يَذْكُرِ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَكْثَرَ مِنْ أَنْ قَالَ: مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
دوسری سند سے اسی جیسی حدیث عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے منقول ہے۔ اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا کہ ہم سبحان اللہ کہنے لگے تو انہوں نے ہماری طرف توجہ کی اور فرمایا: ”کیا ہم نے نماز مکمل نہیں کی؟“ ہم نے اپنے سروں کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے سبحان اللہ کہا یعنی مکمل نہیں کی اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول صرف اتنا ہی ذکر کیا: «مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ ﷺ» ”انہوں نے اپنے نبی ﷺ کی سنت سے انحراف نہیں کیا۔“
حدیث نمبر: 3917
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو قُدَامَةَ الْإِيَادِيُّ، ثنا عَامِرٌ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: " صَلَّى ابْنُ الزُّبَيْرِ الْمَغْرِبَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَهَضَ فَسَبَّحَ النَّاسُ، فَقَالَ: مَا لَهُمْ، ثُمَّ جَاءَ فَرَكَعَ رَكْعَةً، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ " قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِفِعْلِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: " مَا أَمَاطَ، عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ⦗٥٠٧⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَابْنُ الزُّبَيْرِ هَذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے مغرب کی نماز پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر جلدی سے اٹھ کر جانے لگے تو لوگوں نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا، وہ بولے: انھیں کیا ہو گیا ہے؟ پھر آئے اور ایک رکعت پڑھی، پھر دو سجدے۔ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور انھیں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے فعل کے بارے میں بتایا تو انھوں نے فرمایا: انھوں نے نبی ﷺ کی سنت سے تجاوز نہیں کیا۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے مراد عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہیں۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے مراد عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہیں۔
حدیث نمبر: 3918
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: وَثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّيَّاهُ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، وَاللهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا شَتَمَنِي وَلَا ضَرَبَنِي قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ هَذَا إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ " أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاویہ بن حکم اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک نمازی نے چھینک ماری، میں نے «يَرْحَمُكَ اللهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“ کہہ دیا۔ لوگ میری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے کہا: ”تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں! تم مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟“ انہوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے شروع کیے، جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں (تو میں ناراض ہوا) لیکن خاموش ہو گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے، آپ ﷺ پر میرے والدین قربان ہوں، میں نے آپ ﷺ سے بڑھ کر مشفق و مہربان معلم نہیں دیکھا، آپ ﷺ نے نہ مجھے مارا، نہ ڈانٹا اور نہ ہی برا بھلا کہا بلکہ آپ ﷺ نے صرف اتنا فرمایا: ”یہ نماز ہے، اس میں لوگوں سے باتیں کرنا جائز نہیں، اس میں تو تسبیح، تکبیر اور تلاوتِ قرآن ہوتی ہے“ یا اس سے ملتی جلتی بات فرمائی۔