کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بات کے استدلال کا بیان کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی کلام کی حرمت والی حدیث کا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی بھول کر کلام کرنے والی حدیث کے لیے ناسخ ہونا جائز نہیں، اور یہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مقدم ہونے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مؤخر ہونے کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 3919
قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ فِيمَا رُوِّينَا عَنْهُ فِي تَحْرِيمِ الْكَلَامِ: فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَرُجُوعُهُ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ كَانَ قَبْلَ هِجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، ثُمَّ هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَشَهِدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا، فَقَصَّةُ التَّسْلِيمِ كَانَتْ قَبْلَ الْهِجْرَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس روایت میں جو ہمیں ان سے نماز میں کلام کی ممانعت کے بارے میں پہنچی ہے، فرمایا: ”پس جب ہم سرزمین حبشہ سے واپس آئے۔“
اور ان کی حبشہ سے واپسی نبی کریم ﷺ کی مدینہ کی طرف ہجرت سے پہلے ہوئی تھی، پھر انہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک ہوئے، پس سلام پھیرنے کا یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے۔
اور ان کی حبشہ سے واپسی نبی کریم ﷺ کی مدینہ کی طرف ہجرت سے پہلے ہوئی تھی، پھر انہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک ہوئے، پس سلام پھیرنے کا یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے۔
حدیث نمبر: 3919
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّجَاشِيِّ وَنَحْنُ ثَمَانُونَ رَجُلًا وَمَعَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي ⦗٥٠٩⦘ طَالِبٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي دُخُولِهِمْ عَلَى النَّجَاشِيِّ وَفِي آخِرِهِ قَالَ: فَجَاءَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَبَادَرَ فَشَهِدَ بَدْرًا ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نجاشی کی طرف بھیجا اور ہم ۸۰ مرد تھے، ہمارے ساتھ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہوں نے نجاشی کے دربار میں داخل ہونے کے بارے میں مکمل حدیث ذکر کی اور اس کے آخر میں ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ آنے میں سبقت لے گئے، وہ بدر میں بھی شریک ہوئے۔
حدیث نمبر: 3920
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَتَّابٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: وَمِمَّنْ يُذْكَرُ أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ مِنْ مُهَاجِرَةِ أَرْضِ الْحَبَشَةِ الْأُولَى، ثُمَّ هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَذَكَرَهُمْ وَذَكَرَ فِيهِمْ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَكَذَا ذَكَرَهُ سَائِرُ أَهْلِ الْمَغَازِي بِلَا اخْتِلَافٍ بَيْنَهُمْ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اس کے بارے میں جو ذکر کیا جاتا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہجرت حبشہ سے واپسی پر سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کے پاس مکہ آئے، پھر انہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر میں بھی شریک ہوئے تھے۔ اسی طرح تمام اہل سیر نے بلا اختلاف ذکر کیا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں آفتاب ڈھلنے کے بعد والی نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی۔
یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ کی سند ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا۔۔۔“ پھر انہوں نے ذوالیدین کا قصہ ذکر کیا۔ ایک روایت میں ہے: «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ» ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔۔۔“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں آفتاب ڈھلنے کے بعد والی نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی۔
یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ کی سند ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا۔۔۔“ پھر انہوں نے ذوالیدین کا قصہ ذکر کیا۔ ایک روایت میں ہے: «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ» ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔۔۔“
حدیث نمبر: 3921
وَفِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ فَذَكَرَهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فَذَكَرَهُ أَخْبَرَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ شَهِدَ هَذِهِ الْقِصَّةَ، وَقُدُومُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ وَهُوَ بِخَيْبَرَ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔۔۔
(ب) ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اس واقعہ کے وقت موجود تھا اور میں خیبر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تھا۔“
(ب) ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اس واقعہ کے وقت موجود تھا اور میں خیبر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تھا۔“
حدیث نمبر: 3922
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ بِخَيْبَرَ بَعْدَ مَا فَتَحُوهَا وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس فتحِ خیبر کے بعد آیا۔
حدیث نمبر: 3923
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْقَطَّانِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارَ يَؤُمُّ النَّاسَ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: ثُمَّ إِنَّهُ تَبِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ عَلَيْهِ وَهُوَ بِخَيْبَرَ.
حافظ ثناء اللہ
عراک بن مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں مدینہ آیا تو نبی ﷺ خیبر میں تھے اور بنو غفار کا ایک شخص لوگوں کو نماز پڑھا رہا تھا۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر وہ نبی ﷺ کی تلاش میں نکلے اور آپ ﷺ کے پاس اس وقت آئے جب آپ خیبر میں تھے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر وہ نبی ﷺ کی تلاش میں نکلے اور آپ ﷺ کے پاس اس وقت آئے جب آپ خیبر میں تھے۔
حدیث نمبر: 3924
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " صَحِبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ سِنِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
قیس بن حازم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں تین سال رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں رہا۔
حدیث نمبر: 3925
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى قَالَ: قَالَ الْحُمَيْدِيُّ وَهُوَ يَذْكُرُ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ وَيَحْمِلُ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى ⦗٥١١⦘ الْعَمْدِ قَالَ: فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: فَمَا دَلَّ عَلَى ذَلِكَ فَظَاهِرُهُ الْعَمْدُ وَالنِّسْيَانُ وَالْجَهَالَةُ؟ قُلْنَا: صَدَقْتَ، هَذَا ظَاهِرٌ وَلَكِنْ كَانَ إِتْيَانُ ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ قَبْلَ بَدْرٍ، ثُمَّ شَهِدَ بَدْرًا بَعْدَ هَذَا الْقَوْلِ، فَلَمَّا وَجَدْنَا إِسْلَامَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ قَبْلَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثِ سِنِينَ وَقَدْ حَضَرَ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَوْلَ ذِي الْيَدَيْنِ وَوَجَدْنَا عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ حَضَرَ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً أُخْرَى وَقَوْلَ الْخِرْبَاقِ: وَكَانَ إِسْلَامُ عِمْرَانَ بَعْدَ بَدْرٍ، وَوَجَدْنَا مُعَاوِيَةَ بْنَ حُدَيْجٍ حَضَرَ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَوْلَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ: وَكَانَ إِسْلَامُ مُعَاوِيَةَ قَبْلَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَهْرَيْنِ وَوَجَدْنَا ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُصَوِّبُ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ وَيَذْكُرُ أَنَّهَا سُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ حِينَ قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَجَدْنَا ابْنَ عُمَرَ رَوَى ذَلِكَ وَكَانَ إِجَازَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ عُمَرَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ بَدْرٍ، فَعَلِمَنَا أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خُصَّ بِهِ الْعَمْدُ دُونَ النِّسْيَانِ، وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ الْحَدِيثُ فِي النِّسْيَانِ وَالْعَمْدِ يَوْمَئِذٍ لَكَانَتْ صَلَوَاتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ نَاسِخَةً لَهُ؛ لِأَنَّهَا بَعْدَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حمیدی رحمہ اللہ اس مسئلہ کو ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کو قصداً پر محمول کیا جائے گا۔ اگر کوئی کہے کہ اس پر کیا دلیل ہے کہ اس کا ظاہر عمد، نسیان اور جہالت پر ہے؟ ہم جواباً عرض کریں گے کہ آپ سچ کہتے ہیں: یہ ظاہر ہے، لیکن ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارضِ حبشہ سے واپسی کا واقعہ بدر سے پہلے کا ہے۔ اس قول کے مطابق وہ بدر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک بھی ہوئے تھے، جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو اس وقت نبی ﷺ خیبر میں تھے اور وہ رسول اللہ ﷺ کی وفات سے تین سال پہلے اسلام لائے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی نماز اور ذی الیدین رضی اللہ عنہ کے قول کے وقت موجود تھے۔ ہم نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو پایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی نماز اور خرباق کے قول کے وقت دوسرے موقع پر موجود تھے اور عمران رضی اللہ عنہ بھی بدر کے بعد اسلام لائے تھے۔ معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہمیں یہ معلومات ملی ہیں کہ ان کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی نماز اور طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ پیش آیا اور معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی وفات سے صرف دو ماہ پہلے مسلمان ہوئے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ہم نے پایا، وہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی بات کو درست قرار دے رہے ہیں اور یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت تقریباً دس سال کے تھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بھی ہم اسی طرح پاتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے انہیں بدر کے بعد خندق میں جانے کی اجازت دی تھی۔ ہمیں پتا چل گیا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کو نسیان سے ہٹا کر قصداً پر محمول کیا جائے گا اور اگر یہ حدیث اس وقت نسیان اور عمد (دونوں) کے لیے ہوتی تو بھی رسول اللہ ﷺ کی بعد والی نمازیں اس قول کے لیے ناسخ ہوں گی؛ کیونکہ یہ بعد والی ہیں۔
حدیث نمبر: 3926
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ بَحْرٍ الْخَشَّابُ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ: " كَانَ إِسْلَامُ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ فِي آخِرِ الْأَمْرِ فَلَمْ يَأْمُرْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِعَادَةِ الصَّلَاةِ، فَمَنْ تَكَلَّمَ فِي صَلَاةٍ سَاهِيًا أَوْ جَاهِلًا مَضَتْ صَلَاتُهُ وَمَنْ تَكَلَّمَ مُتَعَمِّدًا اسْتَأْنَفَ الصَّلَاةَ " وَقَدْ أَشَارَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ لِي أَكْثَرَ مَا حَكَيْنَاهُ عَنْ غَيْرِهِ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ الْأَحَادِيثِ وَفِيمَا رُوِّينَا عَنْ غَيْرِهِ تَأْكِيدٌ لِقَوْلِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ قَائِلٌ: أَفَذُو الْيَدَيْنِ الَّذِي رَوَيتُمْ عَنْهُ الْمَقْتُولُ بِبَدْرٍ؟ قُلْتُ: لَا، عِمْرَانُ يُسَمِّيهِ الْخِرْبَاقَ وَيَقُولُ: قَصِيرُ الْيَدَيْنِ أَوْ مَدِيدُ الْيَدَيْنِ، وَالْمَقْتُولُ بِبَدْرٍ ذُو الشِّمَالَيْنِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: الَّذِي قُتِلَ بِبَدْرٍ هُوَ ذُو الشِّمَالَيْنِ ابْنُ عَبْدِ عَمْرِو بْنِ نَضْلَةَ حَلِيفٌ لِبَنِي زُهْرَةَ مِنْ خُزَاعَةَ هَكَذَا ذَكَرَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ.
حافظ ثناء اللہ
اوزاعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے آخری دور میں اسلام لائے تھے اور نبی ﷺ نے انہیں نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔ جو آدمی نماز میں بھول کر یا لاعلمی کی بنا پر کلام کرلے تو بھی اس کی نماز ہو جائے گی اور جو جان بوجھ کر کلام کرے اسے نماز دوبارہ نئے سرے سے پڑھنا ہوگی۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اکثر ان روایات کی طرف جو ہم نے بیان کی ہیں اس کے علاوہ مختلف احادیث کی کتابوں میں اشارہ کیا ہے اور اس بارے میں ہمیں جو روایات ان کے علاوہ سے منقول ہیں وہ آپ کے قول کی تائید کرتی ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کہنے والا کہتا ہے: کیا ذوالیدین رضی اللہ عنہ وہ والا جس سے تم روایت کرتے ہو بدر میں شہید نہیں ہو گیا تھا؟ میں کہتا ہوں: نہیں! عمران رضی اللہ عنہ نے اس کا نام خرباق لیا ہے اور بیان کرتے ہیں کہ چھوٹے ہاتھوں والا یا لمبے ہاتھوں والا لیکن بدر میں شہید ہونے والے ذوالشمالین رضی اللہ عنہ تھے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو بدر میں شہید ہوئے وہ ذوالشمالین بن عبد عمرو بن نضلہ رضی اللہ عنہ تھے جو خزاعہ قبیلہ میں بنو زہرہ کے حلیف تھے۔ اسی طرح عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے بھی ذکر کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کہنے والا کہتا ہے: کیا ذوالیدین رضی اللہ عنہ وہ والا جس سے تم روایت کرتے ہو بدر میں شہید نہیں ہو گیا تھا؟ میں کہتا ہوں: نہیں! عمران رضی اللہ عنہ نے اس کا نام خرباق لیا ہے اور بیان کرتے ہیں کہ چھوٹے ہاتھوں والا یا لمبے ہاتھوں والا لیکن بدر میں شہید ہونے والے ذوالشمالین رضی اللہ عنہ تھے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو بدر میں شہید ہوئے وہ ذوالشمالین بن عبد عمرو بن نضلہ رضی اللہ عنہ تھے جو خزاعہ قبیلہ میں بنو زہرہ کے حلیف تھے۔ اسی طرح عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے بھی ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3927
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: وَمِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُو الشِّمَالَيْنِ ابْنُ عَبْدِ عَمْرِو بْنِ نَضْلَةَ بْنِ غَبْشَانَ، مِنْ خُزَاعَةَ قَالَ: " وَاسْتُشْهِدَ ⦗٥١٤⦘ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ بَدْرٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ بْنِ كِلَابٍ رَجُلَانِ: عُمَيْرُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَذُو الشِّمَالَيْنِ ابْنُ عَبْدِ عَمْرِو بْنِ نَضْلَةَ حَلِيفٌ لَهُمْ مِنْ خُزَاعَةَ مِنْ بَنِي غَبْشَانَ " وَكَذَلِكَ قَالَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ فِي مَغَازِيهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ مُحَمَّدٌ: لَا عَقِبَ لَهُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: أَمَّا ذُو الْيَدَيْنِ الَّذِي أَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْوِهِ فَإِنَّهُ بَقِيَ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا ذَكَرَهُ شَيْخُنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جو بدر میں شریک ہوئے تھے ان میں ذو الشمالین عبد عمرو بن نضلہ بن غبشان رضی اللہ عنہ قبیلہ بنو خزاعہ سے بھی تھے اور بدر کے روز جو مسلمان شہید ہوئے ان میں بنو زہرہ بن کلاب کے بھی دو مرد شہید ہوئے، ان میں سے ایک عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور دوسرے ذو الشمالین بن عبد عمرو بن نضلہ رضی اللہ عنہ تھے جو خزاعہ کے بنو غبشان میں سے تھے
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رہے وہ ذوالیدین رضی اللہ عنہ جنہوں نے نبی ﷺ کو آپ کے بھولنے کے بارے میں بتایا تھا تو یہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بھی زندہ رہے، ہمارے شیخ ابو عبداللہ الحافظ رحمہ اللہ نے اسی طرح ذکر کیا اور دلیل بھی دی ہے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رہے وہ ذوالیدین رضی اللہ عنہ جنہوں نے نبی ﷺ کو آپ کے بھولنے کے بارے میں بتایا تھا تو یہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بھی زندہ رہے، ہمارے شیخ ابو عبداللہ الحافظ رحمہ اللہ نے اسی طرح ذکر کیا اور دلیل بھی دی ہے۔
حدیث نمبر: 3928
وَاحْتَجَّ بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ الزَّاهِدُ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ، ثنا أَبِي، ثنا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي شُعَيْثُ بْنُ مُطَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ - وَمُطَيْرٌ، حَاضِرٌ فَصَدَّقَهُ مُطَيْرٌ - قَالَ شُعَيْثٌ: يَا أَبَتَاهُ أَخْبَرْتَنِي أَنَّ ذَا الْيَدَيْنِ لَقِيَكَ بِذِي خَشَبٍ فَأَخْبَرَكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ إِحْدَى صَلَاتِي الْعَشِيِّ وَهِيَ الْعَصْرُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتْبَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَلَحِقَهُ ذُو الْيَدَيْنِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَوْ نَسِيتَ؟ قَالَ: " مَا قَصُرَتِ الصَّلَاةُ وَلَا نَسِيتُ " ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: " مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟ " فَقَالَا: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَرَجَعَ وَثَارَ النَّاسُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ ".
حافظ ثناء اللہ
شعیث اپنے والد مطیر سے کہتے ہیں: اے والد محترم! آپ نے مجھے بتایا تھا کہ ذوالیدین رضی اللہ عنہ آپ کو ذی حشب مقام پر ملے تھے اور انہوں نے آپ کو خبر دی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں زوالِ آفتاب کے بعد والی نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی اور وہ عصر کی نماز تھی اور آپ ﷺ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تو ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی ان کے پیچھے چل پڑے۔ جلدی کرنے والے لوگ نکل گئے تو ذوالیدین، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کو جا ملے۔ ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہ نماز کم ہوئی اور نہ ہی میں بھولا ہوں۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟“ ان دونوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ سچ کہہ رہا ہے۔ آپ ﷺ واپس پلٹے اور لوگ پھیل چکے تھے، رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھائیں پھر سہو کے دو سجدے کیے۔
حدیث نمبر: 3929
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا أَبِي وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَبِنْدَارٌ، قَالُوا: ثنا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ مُطَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: وَأَبُوهُ مَطِيرٌ حَاضِرٌ حِينَ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: قَالَ لَهُ: يَا أَبَتِ، حَدَّثْتَنِي أَنَّ ذَا الْيَدَيْنِ لَقِيَكَ بِذِي خَشَبٍ فَحَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ إِحْدَى صَلَاتِي الْعَشِيِّ وَهِيَ الْعَصْرُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ وَقَدْ قَالَ بَعْضُ الرُّوَاةِ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ ذُو الشِّمَالَيْنِ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ وَشَيْخَا الصَّحِيحَيْنِ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ لَمْ يُصَحِّحَا شَيْئًا مِنْ تِلْكَ الرِّوَايَاتِ؛ لِمَا فِيهَا مِنْ هَذَا الْوَهْمِ الظَّاهِرِ وَكَانَ شَيْخُنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رَحِمَهُ اللهُ يَقُولُ: كُلُّ مَنْ قَالَ ذَلِكَ فَقَدْ أَخْطَأَ فَإِنَّ ذَا الشِّمَالَيْنِ تَقَدَّمَ مَوْتُهُ وَلَمْ يُعَقِّبْ وَلَيْسَ لَهُ رَاوٍ.
حافظ ثناء اللہ
معدی بن سلیمان بیان کرتے ہیں کہ شعیث بن مطیر نے اپنے والد سے ہمیں یہ حدیث بیان کی کہ ان کا باپ مطیر اس وقت موجود تھا جب اس نے یہ حدیث مجھے بیان کی کہ اس نے اپنے والد سے کہا: ”اے ابو جان! آپ نے مجھے حدیث بیان کی تھی کہ ذوالیدین رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کو ذی خشب مقام میں ملے تھے اور انہوں نے آپ کو حدیث بیان کی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں زوالِ آفتاب کی نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی تھی، وہ عصر کی نماز تھی اور دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا۔“ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بعد میں انہیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے سجدے کیے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بعض راوی بیان کرتے ہیں کہ ذوالشمالین رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟“ صحیحین کے شیخین بخاری و مسلم رحمہما اللہ نے ان روایات کو صحیح نہیں کہا ہے جن میں یہ وہم ظاہر ہے اور ہمارے شیخ ابو عبداللہ حافظ رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: ”جو بھی اس طرح کہتا ہے وہ غلطی کرتا ہے۔“
پس بیشک ذوالشمالین رضی اللہ عنہ کی وفات پہلے ہوئی اور وہ باقی نہیں رہے اور ان سے روایت کرنے والا کوئی نہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بعض راوی بیان کرتے ہیں کہ ذوالشمالین رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟“ صحیحین کے شیخین بخاری و مسلم رحمہما اللہ نے ان روایات کو صحیح نہیں کہا ہے جن میں یہ وہم ظاہر ہے اور ہمارے شیخ ابو عبداللہ حافظ رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: ”جو بھی اس طرح کہتا ہے وہ غلطی کرتا ہے۔“
پس بیشک ذوالشمالین رضی اللہ عنہ کی وفات پہلے ہوئی اور وہ باقی نہیں رہے اور ان سے روایت کرنے والا کوئی نہیں۔
حدیث نمبر: 3930
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا أُصَلِّي فَدَعَانِي قَالَ: فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ: " مَا مَنَعَكَ أَنْ تُجِيبَنِي حِينَ دَعَوْتُكَ؟ أَمَا سَمِعْتَ اللهَ يَقُولُ {يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ} لَأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٥١٦⦘ حَتَّى كِدْنَا أَنْ نَبْلُغَ بَابَ الْمَسْجِدِ، فَقُلْتُ: نَسِيَ، فَذَكَّرْتُهُ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ قُلْتَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید بن معلی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں موجود تھے اور میں نماز پڑھ رہا تھا تو آپ ﷺ نے مجھے بلایا۔ میں نماز پڑھنے کے بعد آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے کس چیز نے منع کیا کہ جب میں نے تجھے بلایا تو تم نہیں آئے؟ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا کہ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 24] ”اے ایمان والو! اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی بات پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشتی ہے۔“ میں ضرور تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن میں سب سے عظیم سورت سکھاؤں گا۔“ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ساتھ چلتا رہا حتیٰ کہ ہم دروازے کے قریب پہنچنے والے تھے تو میں نے دل میں کہا کہ آپ ﷺ بھول گئے ہوں گے تو میں نے آپ ﷺ کو یاد دلایا، میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے فلاں بات کہی تھی۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا رب ہے۔““ پھر سورہ فاتحہ مکمل پڑھی اور فرمایا: ”یہ وہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دی گئی۔“
حدیث نمبر: 3931
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَا أنبأ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي إِسْنَادِهِ: عَنْ عَنْ وَقَالَ: " دَعَوْتُكَ فَلَمْ تُجِبْنِي " قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي قَالَ: فَذَكَرَ مَعْنَاهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ جَوَابَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَأَلَهُمْ عَمَّا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ لَمْ يُبْطِلْ صَلَاتَهُمْ مَعَ مَا رُوِّينَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ فِي تِلْكَ الْقِصَّةِ أَنَّهُمْ أَوْمَئُوا.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ایک دوسری سند سے یہی حدیث منقول ہے، مگر اس میں الفاظ اس طرح ہیں: «قَالَ: دَعَوْتُكَ فَلَمْ تُجِبْنِي قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي» ”آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں بلایا تھا مگر تم نے مجھے جواب نہیں دیا، انہوں نے عرض کیا: میں نماز پڑھ رہا تھا“ یعنی اس کے معنی میں روایت بیان کی۔
(ب) اس بات میں اس چیز کی دلیل ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا رسول اللہ ﷺ کو جواب دینا، جب آپ ﷺ نے ان سے ذوالیدین رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا تھا کہ ”وہ کیا کہہ رہا ہے؟“ تو یہ جواب دینے سے ان کی نماز باطل نہ ہوگی، اس لیے کہ حماد بن زید سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ انہوں نے اس قصہ میں فرمایا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اشارہ کیا تھا۔
(ب) اس بات میں اس چیز کی دلیل ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا رسول اللہ ﷺ کو جواب دینا، جب آپ ﷺ نے ان سے ذوالیدین رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا تھا کہ ”وہ کیا کہہ رہا ہے؟“ تو یہ جواب دینے سے ان کی نماز باطل نہ ہوگی، اس لیے کہ حماد بن زید سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ انہوں نے اس قصہ میں فرمایا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اشارہ کیا تھا۔