کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: نماز میں کلام کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى ثنا أَبُو قِلَابَةَ يَعْنِي الرَّقَاشِيَّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيِّ وَأَنَا أَسْمَعُ ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَيَرُدُّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مِنَ الْحَبَشَةِ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ كُنْتَ تُرَدُّ عَلَيْنَا، قَالَ: " كَفَى بِالصَّلَاةِ شُغُلًا " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو سلام کہتے، آپ ﷺ نماز میں ہوتے تو ہمیں سلام کا جواب دے دیتے تھے۔ جب ہم ہجرت حبشہ سے واپس آئے تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا لیکن آپ ﷺ نے جواب نہ دیا، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ سلام کا جواب دیا کرتے تھے، اب نہیں دے رہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز میں مشغولیت ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3902
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 1199۔ 1216۔ 3875»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْتُهُ لِأُسَلِّمَ عَلَيْهِ، فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ، فَجَلَسْتُ حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ يُحَدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ، وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ اللهُ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ. " وَقَدْ مَضَى فِي ذَلِكَ حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَذَلِكَ كُلُّهُ مَحْمُولٌ عِنْدَنَا عَلَى الْعَمْدِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نماز میں ہوتے تو بھی ہم انہیں سلام کیا کرتے تھے، حبشہ سے واپس ہونے سے پہلے اور آپ ﷺ ہمیں سلام کا جواب دے دیا کرتے تھے۔ جب ہم حبشہ سے واپس آئے تو میں آپ ﷺ کے پاس سلام کرنے آیا، آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ ﷺ کو سلام کہا، لیکن آپ ﷺ نے سلام کا جواب نہ دیا۔ مجھے نئی اور پرانی باتوں کی فکر لاحق ہوئی۔ میں بیٹھ گیا، جب آپ ﷺ نے نماز مکمل کی تو میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب اللہ تعالیٰ کا نیا حکم یہ ہے کہ تم نماز میں باتیں نہ کیا کرو۔“
(ب) اس بارے میں جابر بن عبداللہ اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما کی حدیث گزر چکی ہے۔ ہمارے نزدیک ان سب کو قصداً کلام (کی ممانعت) پر محمول کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3903
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ اخرجه الحميدي 94»