أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْتُهُ لِأُسَلِّمَ عَلَيْهِ، فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ، فَجَلَسْتُ حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ يُحَدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ، وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ اللهُ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ. " وَقَدْ مَضَى فِي ذَلِكَ حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَذَلِكَ كُلُّهُ مَحْمُولٌ عِنْدَنَا عَلَى الْعَمْدِ.سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نماز میں ہوتے تو بھی ہم انہیں سلام کیا کرتے تھے، حبشہ سے واپس ہونے سے پہلے اور آپ ﷺ ہمیں سلام کا جواب دے دیا کرتے تھے۔ جب ہم حبشہ سے واپس آئے تو میں آپ ﷺ کے پاس سلام کرنے آیا، آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ ﷺ کو سلام کہا، لیکن آپ ﷺ نے سلام کا جواب نہ دیا۔ مجھے نئی اور پرانی باتوں کی فکر لاحق ہوئی۔ میں بیٹھ گیا، جب آپ ﷺ نے نماز مکمل کی تو میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب اللہ تعالیٰ کا نیا حکم یہ ہے کہ تم نماز میں باتیں نہ کیا کرو۔“
(ب) اس بارے میں جابر بن عبداللہ اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما کی حدیث گزر چکی ہے۔ ہمارے نزدیک ان سب کو قصداً کلام (کی ممانعت) پر محمول کیا جائے گا۔