کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے اس نماز میں بلند آواز سے قراءت کی جس میں آہستہ پڑھنا حق تھا تو وہ سجدہ سہو نہیں کرے گا
حدیث نمبر: 3863
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَيُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ " ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں قراءت کرتے تھے اور بعض اوقات ہمیں ایک آیت سنا دیتے۔ آپ پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری چھوٹی کرتے اور مغرب کی پہلی دو رکعتوں میں جہری قراءت کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3864
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَتَيْنِ مَعَهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَكَانَ يُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ يَحْيَى وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَرَأَ فِي الثَّالِثَةِ مِنَ الْمَغْرِبِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَبِهَذِهِ الْآيَةِ {رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ} [آل عمران: ٨].
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ دو سورتیں پڑھتے تھے اور بعض اوقات ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیا کرتے تھے، آپ پہلی رکعت لمبی کرتے تھے۔
سیدنا ابوعبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ کی روایت ہم بیان کرچکے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مغرب کی تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ اور یہ آیت پڑھتے سنا: ﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ [سورة آل عمران: 8] ”اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت عطا کر دی ہے اور ہمیں اپنی خصوصی رحمت عطا کر، بیشک تو سب سے زیادہ عطا کرنے والا ہے۔“
سیدنا ابوعبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ کی روایت ہم بیان کرچکے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مغرب کی تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ اور یہ آیت پڑھتے سنا: ﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ [سورة آل عمران: 8] ”اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت عطا کر دی ہے اور ہمیں اپنی خصوصی رحمت عطا کر، بیشک تو سب سے زیادہ عطا کرنے والا ہے۔“
حدیث نمبر: 3865
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ حِكَايَةً عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ " يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا عِنْدَنَا لَا يُوجِبُ سَهْوًا.
حافظ ثناء اللہ
(ا) عبداللہ بن زیاد فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ظہر اور عصر میں قراءت کرتے ہوئے سنا ہے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک یہ بھول کر واجب نہیں کرتی۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک یہ بھول کر واجب نہیں کرتی۔
حدیث نمبر: 3866
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ جَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ، شَكَّ دَاوُدُ، فَسَبَّحَ النَّاسُ فَمَضَى فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: " إِنَّ فِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةً، وَمَا حَمَلَنِي عَلَى ذَلِكَ خِلَافُ السُّنَّةِ، وَلَكِنِّي قَرَأْتُ نَاسِيًا فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَ الْقِرَاءَةَ " وَيُذْكَرُ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ جَهَرَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَلَمْ يَسْجُدْ، وَعَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ بِنَحْوٍ مِنْ ذَلِكَ وَرُوِيَ فِيهِ عَنْ عُمَرَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ظہر یا عصر کی نماز میں جہری قراءت کی۔ لوگ سبحان اللہ کہنے لگے مگر انہوں نے اپنی قراءت جاری رکھی۔ جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو فرمایا: ہر نماز کی قراءت ہوتی ہے اور مجھے ایسا کرنے پر سنت کی مخالفت نے نہیں ابھارا بلکہ میں نے بھول کر قراءت شروع کر دی تھی، لیکن میں نے قراءت کو منقطع کرنا اچھا نہ سمجھا۔
قتادہ رحمہ اللہ کے واسطے سے بیان کیا جاتا ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ظہر اور عصر کی نماز میں قراءت کی اور سجدہ سہو نہیں کیا۔
اسی کی مثل سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے اور اس بارے میں سیدنا عمر اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ کے واسطے سے بیان کیا جاتا ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ظہر اور عصر کی نماز میں قراءت کی اور سجدہ سہو نہیں کیا۔
اسی کی مثل سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے اور اس بارے میں سیدنا عمر اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔