کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی نماز میں ادھر ادھر دیکھا تو وہ سجدہ سہو نہیں کرے گا
حدیث نمبر: 3867
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فِي ذَهَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ وَمَجِيءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَصْفِيقِ النَّاسِ قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِي آخِرِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا لِيَ رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيحَ؟ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ التُفِتَ إِلَيْهِ، إِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ " وَرُوِّينَا فِيمَا مَضَى، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ کے بنو عمرو بن عوف کی طرف جانے میں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نماز پڑھانے اور رسول اللہ ﷺ کے آجانے اور لوگوں کے تالیاں بجانے کے بارے میں جو روایت منقول ہے اس میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں ادھر ادھر نہیں جھانکتے تھے، جب لوگوں نے زیادہ تالیاں بجائیں تو پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے التفات کیا۔ اس حدیث کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اس قدر تالیاں کیوں بجائیں؟ اگر کسی کو نماز میں کوئی مسئلہ پیش آجائے تو وہ «سُبْحَانَ اللّٰہِ» ”سبحان اللہ“ کہے کیونکہ جب وہ «سُبْحَانَ اللّٰہِ» ”سبحان اللہ“ کہے گا تو اس کی طرف توجہ ہو جائے گی۔ تالیاں بجانا تو صرف خواتین کے لیے۔“
گزشتہ اوراق میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث گزر چکی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے تو ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی اور آپ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے تو ہمیں کھڑے دیکھا۔
گزشتہ اوراق میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث گزر چکی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے تو ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی اور آپ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے تو ہمیں کھڑے دیکھا۔
حدیث نمبر: 3868
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي السَّلُولِيُّ، عَنْ سَهْلِ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ قَالَ: ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ يَعْنِي صَلَاةَ الصُّبْحِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: يَعْنِي وَكَانَ أَرْسَلَ فَارِسًا إِلَى الشِّعْبِ مِنَ اللَّيْلِ يَحْرُسُ.
حافظ ثناء اللہ
سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نمازِ صبح کی تکبیر ہو چکی تھی اور رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے اور گھاٹی کی طرف بھی دیکھ رہے تھے۔ ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے رات کے وقت نگہبانی کے لیے گھاٹی کی طرف ایک سوار بھیجا تھا (جسے آپ دیکھ رہے تھے)۔