کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو بھول کر دو رکعتوں کے بعد کھڑا ہو گیا پھر اسے سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آ گیا تو وہ واپس لوٹ کر بیٹھ گیا اور اس نے سجدہ سہو کیا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، ثنا جَابِرٌ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُبَيْلٍ الْأَحْمَسِيُّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ الْإِمَامُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَإِنْ ذَكَرَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَتِمَّ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ وَإِنِ اسْتَتَمَّ قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب امام دو رکعتوں کے بعد (بغیر تشہد پڑھے بھول کر) کھڑا ہو جائے تو اگر اسے سیدھا ہونے سے پہلے یاد آ جائے تو بیٹھ جائے اور اگر سیدھا کھڑا ہو گیا ہے تو نہ بیٹھے اور سہو کے دو سجدے کر لے۔“
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فَنَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَسَبَّحَ الْقَوْمُ فَجَلَسَ فَلَمَّا فَرَغَ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ وَسَجَدْنَا مَعَهُ " وَهَذَا عِنْدَنَا عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَنْتَصِبْ قَائِمًا وَرُوِّينَا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ تَحَرَّكَ لِلْقِيَامِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ فَسَبَّحُوا بِهِ فَجَلَسَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ وَهُوَ جَالِسٌ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) عامر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، وہ دو رکعتیں پڑھ کر اٹھنے لگے۔ لوگوں نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا تو وہ بیٹھ گئے، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سہو کے دو سجدے کیے اور ہم نے بھی ان کے ساتھ سجدے کیے۔
(ب) ہمارے نزدیک یہ اس پر محمول ہے کہ وہ سیدھے کھڑے نہیں ہوئے تھے۔ ہمیں یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے روایت بیان کی گئی ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ عصر کی نماز میں دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہونے لگے تھے تو لوگ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہنے لگ گئے تو وہ بیٹھ گئے، پھر انہوں نے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کیے۔
(ب) ہمارے نزدیک یہ اس پر محمول ہے کہ وہ سیدھے کھڑے نہیں ہوئے تھے۔ ہمیں یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے روایت بیان کی گئی ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ عصر کی نماز میں دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہونے لگے تھے تو لوگ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہنے لگ گئے تو وہ بیٹھ گئے، پھر انہوں نے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کیے۔