السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من سها فقام من اثنتين ثم ذكر قبل أن يستتم قائما عاد فجلس وسجد للسهو باب: اس شخص کا بیان جو بھول کر دو رکعتوں کے بعد کھڑا ہو گیا پھر اسے سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آ گیا تو وہ واپس لوٹ کر بیٹھ گیا اور اس نے سجدہ سہو کیا
حدیث نمبر: 3844
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، ثنا جَابِرٌ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُبَيْلٍ الْأَحْمَسِيُّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ الْإِمَامُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَإِنْ ذَكَرَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَتِمَّ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ وَإِنِ اسْتَتَمَّ قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ ".حافظ ثناء اللہ
(ب) اسود رحمہ اللہ کی روایت جو عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ کے سجدے آپ ﷺ کے اس قول کے بعد تھے: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ...» ”میں تو بس ایک انسان ہی ہوں...“
(ج) ابراہیم رحمہ اللہ سے منقول منصور رحمہ اللہ کی روایت گزر چکی ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ آپ ﷺ نے پہلے سجدہ کیا، پھر سلام پھیرا، پھر سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: (د) اس باب میں ابراہیم بن سوید رحمہ اللہ سے بواسطہ علقمہ رحمہ اللہ اسی طرح کی روایت گزر چکی ہے اور وہ صحیح ہونے کے زیادہ قابل ہے، اس روایت سے جس میں راوی نے بیان کرنے میں ترتیب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔